مشکوۃ

Mishkat

كتاب المناقب

عشرہ مبشرہ ؓ کے مناقب کا بیان

بَابُ مَنَاقِبِ الْعَشَرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ

عَن قيس بن حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَقُولُ: إِنِّي لَأَوَّلُ رَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَرَأَيْتُنَا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا الْحُبْلَةَ وَوَرَقَ السَّمُرِ وَإِنْ كَانَ أَحَدنَا ليضع كَمَا تضع الشَّاة مَاله خِلْطٌ ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي عَلَى الْإِسْلَامِ لَقَدْ خِبْتُ إِذًا وَضَلَّ عَمَلِي وَكَانُوا وَشَوْا بِهِ إِلَى عُمَرَ وَقَالُوا: لَا يُحْسِنُ يُصَلِّي. مُتَّفق عَلَيْهِ

قیس بن ابی حازم ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے سعد بن ابی وقاص ؓ کو فرماتے ہوئے سنا : میں عرب میں سب سے پہلا شخص ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر اندازی کی ، اور ہماری یہ حالت تھی کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتے تھے اور ہمارا کھانا کیکر کا پھل اور کیکر کے پتے ہوتے تھے ، اور ہم میں سے ہر شخص بکری کی طرح اجابت (مینگنیاں) کیا کرتا تھا وہ (خشک ہونے کی وجہ سے) ایک دوسری کے ساتھ جڑی ہوئی نہیں ہوتی تھیں ، پھر یہ وقت آیا کہ بنو اسد میرے اسلام کے متعلق مجھ پر نکتہ چینی کرتے ہیں ، اگر ایسے ہو تو میں نامراد ہوا اور میرے عمل برباد ہو گئے ، اور وہ (بنو اسد) ان (سعد ؓ) کے متعلق عمر ؓ سے شکایت کیا کرتے تھے اور وہ یہ کہ وہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھتے تھے ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: رَأَيْتُنِي وَأَنَا ثَالِثُ الْإِسْلَامِ وَمَا أَسْلَمَ أَحَدٌ إِلَّا فِي الْيَوْمِ الَّذِي أَسْلَمْتُ فِيهِ وَلَقَدْ مَكَثْتُ سَبْعَةَ أَيَّامٍ وَإِنِّي لثالث الْإِسْلَام. رَوَاهُ البُخَارِيّ

سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، میں جانتا ہوں کہ اسلام قبول کرنے والا میں تیسرا شخص ہوں ، جس دن میں نے اسلام قبول کیا اسی روز دوسرے بھی اسلام میں داخل ہوئے ، اور میں سات دن تک اسی حالت میں رہا کہ میں اسلام قبول کرنے والا تیسرا شخص ہوں ۔ رواہ البخاری ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لِنِسَائِهِ: «إِنَّ أَمْرَكُنَّ مِمَّا يَهُمُّنِي مِنْ بَعْدِي وَلَنْ يَصْبِرَ عَلَيْكُنَّ إِلَّا الصَّابِرُونَ الصِّدِّيقُونَ» قَالَتْ عَائِشَةُ: يَعْنِي الْمُتَصَدِّقِينَ ثُمَّ قَالَتْ عَائِشَةُ لِأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَقَى اللَّهُ أَبَاكَ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ وَكَانَ ابنُ عوفٍ قَدْ تَصَدَّقَ عَلَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِحَدِيقَةٍ بِيعَتْ بِأَرْبَعِينَ ألفا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی ازواج مطہرات سے فرمایا کرتے تھے :’’ میں اپنے بعد تمہارے بارے میں بہت فکر مند ہوں ، صبر کرنے والے اور صدیقین ہی ان مشکل معاملات میں تمہارا ساتھ دیں گے ۔‘‘ عائشہ ؓ نے فرمایا : یعنی صدقہ کرنے والے ، پھر عائشہ ؓ نے ابوسلمہ بن عبد الرحمن ؓ سے فرمایا : اللہ تمہارے والد کو جنت کے چشمے سلسبیل سے پلائے ، اور ابن عوف ؓ نے امہات المومنین کے لیے ایک باغ وقف کیا تھا جو چالیس ہزار میں فروخت کیا گیا تھا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِأَزْوَاجِهِ: «إِنَّ الَّذِي يَحْثُو عَلَيْكُنَّ بَعْدِي هُوَ الصَّادِقُ الْبَارُّ اللَّهُمَّ اسْقِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ مِنْ سلسبيلِ الجنةِ» . رَوَاهُ أَحْمد

ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی ازواج مطہرات سے فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص میرے بعد تم پر خرچ کرے گا تو وہ شخص سچا اور احسان کرنے والا ہے ، اے اللہ ! عبد الرحمن بن عوف کو جنت کے چشمے سلسبیل سے جام پلا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

وَعَن حُذَيْفَة قَالَ: جَاءَ أَهْلُ نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْعَثْ إِلَيْنَا رَجُلًا أَمِينًا. فَقَالَ: «لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ» فَاسْتَشْرَفَ لَهَا الناسُ قَالَ: فَبعث أَبَا عبيدةَ بن الْجراح. مُتَّفق عَلَيْهِ

حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نجران والے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کسی امین شخص کو ہماری طرف مبعوث فرمانا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں تمہاری طرف ایسے امین شخص کو بھیجوں گا جو کہ حقیقی معنی میں امین ہو گا ۔‘‘ صحابہ کرام ؓ اس (امارت) کے خواہش مند تھے ، راوی بیان کرتے ہیں ، آپ نے ابوعبیدہ بن جراح کو بھیجا ۔ متفق علیہ ۔

وَعَن عَليّ قَالَ: قيل لرَسُول اللَّهِ: مَنْ نُؤَمِّرُ بَعْدَكَ؟ قَالَ: «إِنْ تُؤَمِّرُوا أَبَا بَكْرٍ تَجِدُوهُ أَمِينًا زَاهِدًا فِي الدُّنْيَا رَاغِبًا فِي الْآخِرَةِ وَإِنْ تُؤَمِّرُوا عُمَرَ تَجِدُوهُ قَوِيًّا أَمِينًا لَا يَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ وَإِنْ تُؤَمِّرُوا عَلِيًّا - وَلَا أَرَاكُمْ فَاعِلِينَ - تَجِدُوهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا يَأْخُذُ بِكُمُ الطَّرِيقَ الْمُسْتَقِيمَ» . رَوَاهُ أَحْمد

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! ہم آپ کے بعد کسے خلیفہ مقرر فرمائیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تم ابوبکر کو امیر بنا لو تو تم انہیں امین ، دنیا سے بے رغبتی رکھنے والا اور آخرت سے رغبت رکھنے والا پاؤ گے ۔ اور اگر تم عمر کو امیر مقرر کرو گے تو تم انہیں قوی امین پاؤ گے ، وہ اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوف زدہ نہیں ہوتے ۔ اور اگر تم علی کو امیر بناؤ گے ، حالانکہ میں نہیں سمجھتا کہ تم انہیں بناؤ گے ، تو تم انہیں ہادی اور ہدایت یافتہ پاؤ گے ، وہ تمہیں صراط مستقیم پر چلائیں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَحِمَ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ زَوَّجَنِي ابْنَتَهُ وَحَمَلَنِي إِلَى دَارِ الْهِجْرَةِ وَصَحِبَنِي فِي الْغَارِ وَأَعْتَقَ بِلَالًا مِنْ مَالِهِ. رَحِمَ اللَّهُ عُمَرَ يَقُولُ الْحَقَّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا تَرَكَهُ الْحَقُّ وَمَا لَهُ مِنْ صَدِيقٍ. رَحِمَ اللَّهُ عُثْمَانَ تَسْتَحْيِيهِ الْمَلَائِكَةُ رَحِمَ اللَّهُ عَلِيًّا اللَّهُمَّ أَدِرِ الْحَقَّ مَعَهُ حَيْثُ دَارَ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ ابوبکر پر رحم فرمائے ، انہوں نے اپنی بیٹی سے میری شادی کی ، دار ہجرت کی طرف مجھے اٹھا کر (اپنے اونٹ پر سوار کر کے) لے گئے ، غار میں میرے ساتھ رہے ، اور اپنے مال سے بلال کو آزاد کرایا ۔ اور عمر پر رحم فرمائے ، وہ حق فرماتے ہیں خواہ وہ کڑوا ہو ، حق گوئی نے انہیں تنہا چھوڑ دیا اس لیے ان کا کوئی دوست نہیں ، اللہ عثمان پر رحم فرمائے ، فرشتے بھی ان سے حیا کرتے ہیں ، اللہ علی پر رحم فرمائے ، اے اللہ ! وہ جہاں بھی جائیں حق ان کے ساتھ ہی رہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔