قیس بن ابی حازم ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے سعد بن ابی وقاص ؓ کو فرماتے ہوئے سنا : میں عرب میں سب سے پہلا شخص ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر اندازی کی ، اور ہماری یہ حالت تھی کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتے تھے اور ہمارا کھانا کیکر کا پھل اور کیکر کے پتے ہوتے تھے ، اور ہم میں سے ہر شخص بکری کی طرح اجابت (مینگنیاں) کیا کرتا تھا وہ (خشک ہونے کی وجہ سے) ایک دوسری کے ساتھ جڑی ہوئی نہیں ہوتی تھیں ، پھر یہ وقت آیا کہ بنو اسد میرے اسلام کے متعلق مجھ پر نکتہ چینی کرتے ہیں ، اگر ایسے ہو تو میں نامراد ہوا اور میرے عمل برباد ہو گئے ، اور وہ (بنو اسد) ان (سعد ؓ) کے متعلق عمر ؓ سے شکایت کیا کرتے تھے اور وہ یہ کہ وہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، میں جانتا ہوں کہ اسلام قبول کرنے والا میں تیسرا شخص ہوں ، جس دن میں نے اسلام قبول کیا اسی روز دوسرے بھی اسلام میں داخل ہوئے ، اور میں سات دن تک اسی حالت میں رہا کہ میں اسلام قبول کرنے والا تیسرا شخص ہوں ۔ رواہ البخاری ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی ازواج مطہرات سے فرمایا کرتے تھے :’’ میں اپنے بعد تمہارے بارے میں بہت فکر مند ہوں ، صبر کرنے والے اور صدیقین ہی ان مشکل معاملات میں تمہارا ساتھ دیں گے ۔‘‘ عائشہ ؓ نے فرمایا : یعنی صدقہ کرنے والے ، پھر عائشہ ؓ نے ابوسلمہ بن عبد الرحمن ؓ سے فرمایا : اللہ تمہارے والد کو جنت کے چشمے سلسبیل سے پلائے ، اور ابن عوف ؓ نے امہات المومنین کے لیے ایک باغ وقف کیا تھا جو چالیس ہزار میں فروخت کیا گیا تھا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی ازواج مطہرات سے فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص میرے بعد تم پر خرچ کرے گا تو وہ شخص سچا اور احسان کرنے والا ہے ، اے اللہ ! عبد الرحمن بن عوف کو جنت کے چشمے سلسبیل سے جام پلا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نجران والے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کسی امین شخص کو ہماری طرف مبعوث فرمانا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں تمہاری طرف ایسے امین شخص کو بھیجوں گا جو کہ حقیقی معنی میں امین ہو گا ۔‘‘ صحابہ کرام ؓ اس (امارت) کے خواہش مند تھے ، راوی بیان کرتے ہیں ، آپ نے ابوعبیدہ بن جراح کو بھیجا ۔ متفق علیہ ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! ہم آپ کے بعد کسے خلیفہ مقرر فرمائیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تم ابوبکر کو امیر بنا لو تو تم انہیں امین ، دنیا سے بے رغبتی رکھنے والا اور آخرت سے رغبت رکھنے والا پاؤ گے ۔ اور اگر تم عمر کو امیر مقرر کرو گے تو تم انہیں قوی امین پاؤ گے ، وہ اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوف زدہ نہیں ہوتے ۔ اور اگر تم علی کو امیر بناؤ گے ، حالانکہ میں نہیں سمجھتا کہ تم انہیں بناؤ گے ، تو تم انہیں ہادی اور ہدایت یافتہ پاؤ گے ، وہ تمہیں صراط مستقیم پر چلائیں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ ابوبکر پر رحم فرمائے ، انہوں نے اپنی بیٹی سے میری شادی کی ، دار ہجرت کی طرف مجھے اٹھا کر (اپنے اونٹ پر سوار کر کے) لے گئے ، غار میں میرے ساتھ رہے ، اور اپنے مال سے بلال کو آزاد کرایا ۔ اور عمر پر رحم فرمائے ، وہ حق فرماتے ہیں خواہ وہ کڑوا ہو ، حق گوئی نے انہیں تنہا چھوڑ دیا اس لیے ان کا کوئی دوست نہیں ، اللہ عثمان پر رحم فرمائے ، فرشتے بھی ان سے حیا کرتے ہیں ، اللہ علی پر رحم فرمائے ، اے اللہ ! وہ جہاں بھی جائیں حق ان کے ساتھ ہی رہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔