عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عمار کو جب بھی دو امور میں سے کسی ایک کو پسند کرنے کا اختیار دیا گیا تو انہوں نے ان میں سے مشکل کام کو پسند کیا ۔‘‘ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب سعد بن معاذ ؓ کا جنازہ اٹھایا گیا تو منافقوں نے کہا : اس کا جنازہ کس قدر ہلکا ہے ، اور یہ بنو قریظہ کے متعلق اس کے فیصلے کی وجہ سے ہے ، نبی ﷺ تک بات پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہلکا اس لیے ہے کہ فرشتے اسے اٹھائے ہوئے تھے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ آسمان تلے روئے زمین پر ابوذر سے زیادہ سچا آدمی کوئی نہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آسمان تلے روئے زمین پر ابوذر ؓ سے زیادہ راست گو اور عہد وفا کرنے والا اور زہد میں عیسیٰ بن مریم ؑ سے زیادہ مشابہ کوئی نہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے ، جب ان کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے کہا : چار اشخاص سے علم حاصل کرو ، عویمر ابودرداء سلمان ، ابن مسعود اور عبداللہ بن سلام سے اور عبداللہ بن سلام ؓ یہودی تھے ، پھر اسلام قبول کیا ، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ آپ دس جنتیوں میں سے دسویں ہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگر آپ خلیفہ مقرر فرما دیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر میں نے تم پر خلیفہ مقرر کر دیا اور تم نے اس کی نافرمانی کی تو تم عذاب میں مبتلا ہو جاؤ گے ، لیکن حذیفہ جو تمہیں بتائیں اس کی تصدیق کرو اور عبداللہ جو تمہیں پڑھائیں اسے پڑھو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، محمد بن مسلمہ ؓ کے علاوہ ہر شخص کے متعلق اندیشہ ہے کہ اسے فتنہ نقصان پہنچائے گا ، لیکن ان کے متعلق کوئی اندیشہ نہیں کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ فتنہ تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے زبیر ؓ کے گھر میں چراغ جلتا ہوا دیکھا تو فرمایا :’’ عائشہ ! میرا خیال ہے کہ اسماء کے ہاں ولادت ہوئی ہے ، تم اس بچے کا نام نہ رکھنا ، اس کا نام میں خود رکھوں گا ۔‘‘ آپ ﷺ نے اس (بچے) کا نام عبداللہ رکھا اور اپنے ہاتھ سے کھجور کے ساتھ اسے گھٹی دی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
عبد الرحمن بن ابی عمیرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے معاویہ ؓ کے متعلق فرمایا :’’ اے اللہ ! اسے ہادی اور ہدایت یافتہ بنا اور اس کے ذریعے ہدایت نصیب فرما ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لوگوں نے اسلام قبول کیا اور عمرو بن عاص ایمان لائے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اس کی اسناد قوی نہیں ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ملاقات کی تو فرمایا :’’ جابر ! کیا بات ہے کہ میں تمہیں مغموم دیکھ رہا ہوں ؟‘‘ میں نے عرض کیا : میرے والد شہید ہو گئے ہیں اور انہوں نے بچے اور قرض چھوڑا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں اس چیز کے متعلق خوشخبری نہ سناؤں جس کے ساتھ اللہ نے تیرے والد سے ملاقات فرمائی ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، ضرور اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے جس سے بھی کلام فرمایا ، پس پردہ کلام فرمایا ، اور تیرے والد کو زندہ کیا تو اس سے حجاب کے بغیر کلام فرمایا ، فرمایا : میرے بندے ! تمنا کر ، میں تجھے عطا کروں گا ۔ انہوں نے عرض کیا : رب جی ! تو مجھے زندہ فرما تا کہ میں تیری خاظر دوبارہ شہید کر دیا جاؤں ، رب تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : میری طرف سے فیصلہ ہو چکا ہے کہ وہ واپس نہیں جائیں گے ۔‘‘ تب یہ آیت نازل ہوئی :’’ اللہ کی راہ میں شہید ہو جانے والوں کو مردہ مت کہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے پچیس مرتبہ مغفرت طلب کی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کتنے ہی لوگ ہیں جو پراگندہ بال ہیں ، غبار آلود ہیں ان پر دو بوسیدہ کپڑے ہیں ، ان کی کوئی وقعت نہیں ہوتی لیکن اگر وہ اللہ پر قسم اٹھا لیں تو وہ اسے پوری فرما دیتا ہے ، براء بن مالک بھی انہی میں سے ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سن لو ! میرے اہل بیت میرے خاص ہیں جہاں میں پناہ لیتا ہوں ، اور میرے راز دان انصار ہیں ، ان کے خطاکاروں سے درگزر کرو اور ان کے نیکوکاروں سے (عذر) قبول کرو ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والا کوئی شخص انصار سے دشمنی نہیں رکھے گا ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
انس ؓ ، ابوطلحہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ اپنی قوم کو سلام کہو ، کیونکہ وہ سوال کرنے سے پرہیز کرتے ہیں اور لڑائی کے وقت صبر کرتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ حاطب ؓ کا غلام نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے آپ سے حاطب کی شکایت کرتے ہوئے کہا : اللہ کے رسول ! حاطب جہنم میں جائے گا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تو جھوٹ کہتا ہے ، وہ اس میں داخل نہیں ہو گا ۔ کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ میں شرکت کر چکا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ اگر تم پھر گئے تو اللہ تمہاری جگہ دوسری قوم لے آئے گا ، پھر وہ تمہاری مانند نہیں ہوں گے ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! یہ کون لوگ ہیں جن کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے کہ اگر ہم پھر گئے تو وہ ہماری جگہ آ جائیں گے اور وہ ہماری طرح نہیں ہوں گے ۔ آپ ﷺ نے سلمان فارسی ؓ کی ران پر ہاتھ مار کر فرمایا :’’ یہ اور ان کی قوم ، اگر دین ثریا پر بھی ہوا تو فارسی لوگ اسے حاصل کر لیں گے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے پاس عجمیوں کا ذکر کیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں ان پر یا ان کے بعض لوگوں پر تم سے یا تمہارے بعض لوگوں سے زیادہ اعتماد کرتا ہوں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر نبی کے سات برگزیدہ نگہبان ہوتے ہیں ، جبکہ مجھے چودہ عطا کیے گئے ہیں ، ہم نے عرض کیا ، وہ کون ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں اور میرے دو بیٹے (حسن و حسین ؓ) ، جعفر ، حمزہ ، ابوبکر ، عمر ، مصعب بن عمیر ، بلال ، سلمان ، عمار ، عبداللہ بن مسعود ، ابوذر اور مقداد ؓ ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔