مشکوۃ

Mishkat

كتاب المناقب

مناقب کا بیان

بَاب جَامع المناقب

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا خُيِّرَ عَمَّارٌ بَيْنَ أمرينِ إِلا اخْتَار أرشدهما» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عمار کو جب بھی دو امور میں سے کسی ایک کو پسند کرنے کا اختیار دیا گیا تو انہوں نے ان میں سے مشکل کام کو پسند کیا ۔‘‘ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا حُمِلَتْ جِنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ الْمُنَافِقُونَ: مَا أَخَفَّ جِنَازَتَهُ وَذَلِكَ لِحُكْمِهِ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّ الْمَلَائِكَة كَانَت تحمله» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب سعد بن معاذ ؓ کا جنازہ اٹھایا گیا تو منافقوں نے کہا : اس کا جنازہ کس قدر ہلکا ہے ، اور یہ بنو قریظہ کے متعلق اس کے فیصلے کی وجہ سے ہے ، نبی ﷺ تک بات پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہلکا اس لیے ہے کہ فرشتے اسے اٹھائے ہوئے تھے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٌو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ وَلَا أَقَلَّتِ الْغَبْرَاءُ أَصْدَقَ مِنْ أبي ذَر» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ آسمان تلے روئے زمین پر ابوذر سے زیادہ سچا آدمی کوئی نہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ: الْتَمِسُوا الْعِلْمَ عِنْدَ أَرْبَعَةٍ: عِنْدَ عُوَيْمِرٍ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَعِنْدَ سَلْمَانَ وَعِنْدَ ابْنِ مَسْعُودٍ وَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ الَّذِي كَانَ يَهُودِيّا فَأسلم فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّهُ عَاشِرُ عَشَرَةٍ فِي الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے ، جب ان کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے کہا : چار اشخاص سے علم حاصل کرو ، عویمر ابودرداء سلمان ، ابن مسعود اور عبداللہ بن سلام سے اور عبداللہ بن سلام ؓ یہودی تھے ، پھر اسلام قبول کیا ، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ آپ دس جنتیوں میں سے دسویں ہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اسْتَخْلَفْتَ؟ قَالَ: «إِنِ اسْتَخْلَفْتُ عَلَيْكُمْ فَعَصَيْتُمُوهُ عُذِّبْتُمْ وَلَكِنْ مَا حَدَّثَكُمْ حُذَيْفَةُ فَصَدِّقُوهُ وَمَا أقرأكم عبد الله فاقرؤوه» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگر آپ خلیفہ مقرر فرما دیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر میں نے تم پر خلیفہ مقرر کر دیا اور تم نے اس کی نافرمانی کی تو تم عذاب میں مبتلا ہو جاؤ گے ، لیکن حذیفہ جو تمہیں بتائیں اس کی تصدیق کرو اور عبداللہ جو تمہیں پڑھائیں اسے پڑھو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْهُ قَالَ: مَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ تُدْرِكُهُ الْفِتْنَةُ إِلَّا أَنَا أَخَافُهَا عَلَيْهِ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْلَمَةَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَضُرُّكَ الْفِتْنَةُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، محمد بن مسلمہ ؓ کے علاوہ ہر شخص کے متعلق اندیشہ ہے کہ اسے فتنہ نقصان پہنچائے گا ، لیکن ان کے متعلق کوئی اندیشہ نہیں کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ فتنہ تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي بَيْتِ الزُّبَيْرِ مِصْبَاحًا فَقَالَ: «يَا عَائِشَة ماأرى أَسْمَاءَ إِلَّا قَدْ نُفِسَتْ وَلَا تُسَمُّوهُ حَتَّى أُسَمِّيَهُ» فَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ وَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ بِيَدِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے زبیر ؓ کے گھر میں چراغ جلتا ہوا دیکھا تو فرمایا :’’ عائشہ ! میرا خیال ہے کہ اسماء کے ہاں ولادت ہوئی ہے ، تم اس بچے کا نام نہ رکھنا ، اس کا نام میں خود رکھوں گا ۔‘‘ آپ ﷺ نے اس (بچے) کا نام عبداللہ رکھا اور اپنے ہاتھ سے کھجور کے ساتھ اسے گھٹی دی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمِيرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

عبد الرحمن بن ابی عمیرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے معاویہ ؓ کے متعلق فرمایا :’’ اے اللہ ! اسے ہادی اور ہدایت یافتہ بنا اور اس کے ذریعے ہدایت نصیب فرما ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلَمَ النَّاسُ وآمن عَمْرو بنُ الْعَاصِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وقا ل: هَذَا حَدِيث غَرِيب وَلَيْسَ إِسْنَاده بِالْقَوِيّ

عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لوگوں نے اسلام قبول کیا اور عمرو بن عاص ایمان لائے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اس کی اسناد قوی نہیں ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا جَابِرُ مَا لي أَرَاك منكسراً» قلت يَا رَسُول الله اسْتشْهد أبي قتل يَوْم أحد وَتَرَكَ عِيَالًا وَدَيْنًا قَالَ أَفَلَا أُبَشِّرُكَ بِمَا لَقِي الله بِهِ أَبَاك قَالَ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا كَلَّمَ اللَّهُ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حجاب وَأَحْيَا أَبَاك فَكَلمهُ كفاحا فَقَالَ يَا عَبْدِي تَمَنَّ عَلَيَّ أُعْطِكَ قَالَ يَا رَبِّ تُحْيِينِي فَأُقْتَلُ فِيكَ ثَانِيَةً قَالَ الرَّبُّ عز وَجل إِنَّه قد سبق مني أَنهم إِلَيْهَا لَا يرجعُونَ قَالَ وأنزلت هَذِهِ الْآيَةِ [وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا] الْآيَة. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ملاقات کی تو فرمایا :’’ جابر ! کیا بات ہے کہ میں تمہیں مغموم دیکھ رہا ہوں ؟‘‘ میں نے عرض کیا : میرے والد شہید ہو گئے ہیں اور انہوں نے بچے اور قرض چھوڑا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں اس چیز کے متعلق خوشخبری نہ سناؤں جس کے ساتھ اللہ نے تیرے والد سے ملاقات فرمائی ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، ضرور اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے جس سے بھی کلام فرمایا ، پس پردہ کلام فرمایا ، اور تیرے والد کو زندہ کیا تو اس سے حجاب کے بغیر کلام فرمایا ، فرمایا : میرے بندے ! تمنا کر ، میں تجھے عطا کروں گا ۔ انہوں نے عرض کیا : رب جی ! تو مجھے زندہ فرما تا کہ میں تیری خاظر دوبارہ شہید کر دیا جاؤں ، رب تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : میری طرف سے فیصلہ ہو چکا ہے کہ وہ واپس نہیں جائیں گے ۔‘‘ تب یہ آیت نازل ہوئی :’’ اللہ کی راہ میں شہید ہو جانے والوں کو مردہ مت کہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعنهُ قا ل: اسْتَغْفَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خمْسا وَعشْرين مرّة. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے پچیس مرتبہ مغفرت طلب کی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَمْ مِنْ أَشْعَثَ أَغْبَرَ ذِي طِمْرَيْنِ لَا يَؤُبَّهُ لَهُ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ مِنْهُمُ الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكٍ» رواء التِّرْمِذِيّ وَالْبَيْهَقِيّ فِي دَلَائِل النُّبُوَّة

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کتنے ہی لوگ ہیں جو پراگندہ بال ہیں ، غبار آلود ہیں ان پر دو بوسیدہ کپڑے ہیں ، ان کی کوئی وقعت نہیں ہوتی لیکن اگر وہ اللہ پر قسم اٹھا لیں تو وہ اسے پوری فرما دیتا ہے ، براء بن مالک بھی انہی میں سے ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا إِنَّ عَيْبَتِيَ الَّتِي آوِي إِلَيْهَا أَهْلُ بَيْتِي وَإِنَّ كَرِشِيَ الأنصارُ فاعفوا عَن مسيئهم واقبلوا من مُحْسِنِهِمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سن لو ! میرے اہل بیت میرے خاص ہیں جہاں میں پناہ لیتا ہوں ، اور میرے راز دان انصار ہیں ، ان کے خطاکاروں سے درگزر کرو اور ان کے نیکوکاروں سے (عذر) قبول کرو ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ أَحَدٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والا کوئی شخص انصار سے دشمنی نہیں رکھے گا ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

وَعَن أنس وَأبي طَلْحَةَ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَقْرِئْ قَوْمَكَ السَّلَامَ فَإِنَّهُمْ مَا علمت أَعِفَّةٌ صُبُرٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

انس ؓ ، ابوطلحہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ اپنی قوم کو سلام کہو ، کیونکہ وہ سوال کرنے سے پرہیز کرتے ہیں اور لڑائی کے وقت صبر کرتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ عَبْدًا لِحَاطِبٍ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْكُو حَاطِبًا إِلَيْهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيَدْخُلَنَّ حَاطِبٌ النَّار فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كذبت لَا يدخلهَا فَإِنَّهُ شهد بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَة» . رَوَاهُ مُسلم

جابر ؓ سے روایت ہے کہ حاطب ؓ کا غلام نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے آپ سے حاطب کی شکایت کرتے ہوئے کہا : اللہ کے رسول ! حاطب جہنم میں جائے گا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تو جھوٹ کہتا ہے ، وہ اس میں داخل نہیں ہو گا ۔ کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ میں شرکت کر چکا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: [وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أمثالكم] قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ ذَكَرَ اللَّهُ إِنْ تَوَلَّيْنَا اسْتُبْدِلُوا بِنَا ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَنَا؟ فَضَرَبَ عَلَى فَخِذِ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ثُمَّ قَالَ: «هَذَا وَقَوْمُهُ وَلَوْ كَانَ الدِّينُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَتَنَاوَلَهُ رِجَالٌ مِنَ الْفُرْسِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ اگر تم پھر گئے تو اللہ تمہاری جگہ دوسری قوم لے آئے گا ، پھر وہ تمہاری مانند نہیں ہوں گے ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! یہ کون لوگ ہیں جن کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے کہ اگر ہم پھر گئے تو وہ ہماری جگہ آ جائیں گے اور وہ ہماری طرح نہیں ہوں گے ۔ آپ ﷺ نے سلمان فارسی ؓ کی ران پر ہاتھ مار کر فرمایا :’’ یہ اور ان کی قوم ، اگر دین ثریا پر بھی ہوا تو فارسی لوگ اسے حاصل کر لیں گے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْهُ قَالَ: ذُكِرَتِ الْأَعَاجِمُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَأَنَا بِهِمْ أَوْ بِبَعْضِهِمْ أَوْثَقُ مِنِّي بِكُمْ أَوْ بِبَعْضِكُمْ رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے پاس عجمیوں کا ذکر کیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں ان پر یا ان کے بعض لوگوں پر تم سے یا تمہارے بعض لوگوں سے زیادہ اعتماد کرتا ہوں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ سَبْعَةَ نُجَبَاءَ رُقَبَاءَ وَأُعْطِيْتُ أَنَا أَرْبَعَةَ عشرَة قُلْنَا: مَنْ هُمْ؟ قَالَ: أَنَا وَابْنَايَ وَجَعْفَرٌ وَحَمْزَةُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَمُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَبِلَالٌ وَسَلْمَانُ وَعَمَّارٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَأَبُو ذَر والمقداد. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر نبی کے سات برگزیدہ نگہبان ہوتے ہیں ، جبکہ مجھے چودہ عطا کیے گئے ہیں ، ہم نے عرض کیا ، وہ کون ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں اور میرے دو بیٹے (حسن و حسین ؓ) ، جعفر ، حمزہ ، ابوبکر ، عمر ، مصعب بن عمیر ، بلال ، سلمان ، عمار ، عبداللہ بن مسعود ، ابوذر اور مقداد ؓ ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔