مشکوۃ

Mishkat

پاکیزگی کا بیان

وضو کے طریقوں کا بیان

بَاب سنَن الْوضُوء

وَعَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ: نَحْنُ جُلُوسٌ نَنْظُرُ إِلَى عَلِيٍّ حِينَ تَوَضَّأَ فَأَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فَمَلَأَ فَمَهُ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَنَثَرَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى فَعَلَ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طَهُورِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا طَهُورُهُ. رَوَاهُ الدَّارمِيّ

عبدخیر ؒ بیان کرتے ہیں ، جب علی ؓ نے وضو کیا تو ہم بیٹھے انہیں دیکھ رہے تھے ، چنانچہ انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا (اور اس سے پانی لے کر) اپنے منہ اور ناک میں ڈالا پھر بائیں ہاتھ سے ناک صاف کی ، آپ نے تین مرتبہ ایسے ہی کیا ، پھر فرمایا :جسے پسند ہو کہ وہ رسول اللہ ﷺ کا وضو دیکھے تو یہ آپ کا وضو ہے ۔ صحیح ، رواہ الدارمی ۔

وَعَن عبد الله بن زيد قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفٍّ وَاحِدَةٍ فَعَلَ ذَلِك ثَلَاثًا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ

عبداللہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا ، اور آپ نے تین مرتبہ ایسے ہی کیا ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ: بَاطِنَهُمَا بِالسَّبَّاحَتَيْنِ وَظَاهِرَهُمَا بإبهاميه) (رَوَاهُ النَّسَائِيّ)

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے سر کا مسح کیا ، اور آپ نے کانوں کے اندر کے حصوں کا شہادت کی انگلیوں سے اور باہر کے حصوں کا انگوٹھوں سے مسح کیا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی ۔

وَعَن الرّبيع بنت معوذ: أَنَّهَا رَأَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ قَالَتْ فَمَسَحَ رَأْسَهُ مَا أَقَبْلَ مِنْهُ وَمَا أَدْبَرَ وَصُدْغَيْهِ وَأُذُنَيْهِ مَرَّةً وَاحِدَةً وَفِي رِوَايَةٍ أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَأَدْخَلَ أُصْبُعَيْهِ فِي جُحْرَيْ أُذُنَيْهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ الرِّوَايَةَ الأولى وَأحمد وَابْن مَاجَه الثَّانِيَة

ربیع بنت معوذ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ، انہوں نے کہا : آپ نے اپنے سر کی اگلی جانب اور پچھلی جانب (پورے سر) کا ، دونوں کنپٹیوں اور دونوں کانوں کا ایک مرتبہ مسح کیا ، اور ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے وضو کیا تو اپنی دو انگلیاں اپنے دونوں کانوں کے سوراخوں میں ڈالیں ۔ ابوداؤد ، ترمذی نے پہلی روایت بیان کی جبکہ احمد اور ابن ماجہ نے دوسری ۔ ضعیف ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ: أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَأَنَّهُ مَسَحَ رَأْسَهُ بِمَاءٍ غَيْرِ فَضْلِ يَدَيْهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَرَوَاهُ مُسلم مَعَ زَوَائِد

عبداللہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا اور یہ کہ آپ نے اپنے ہاتھوں کے ساتھ لگے ہوئے پانی کے علاوہ الگ پانی سے سر کا مسح کیا ۔ ترمذی جبکہ مسلم نے کچھ زوائد کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی (۳۵) و مسلم (۱۹ /۲۳۶ )۔

وَعَن أبي أُمَامَة ذَكَرَ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَكَانَ يَمْسَحُ الْمَاقَيْنِ وَقَالَ: الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَذَكَرَا: قَالَ حَمَّادٌ: لَا أَدْرِي: الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ مِنْ قَوْلِ أَبِي أُمَامَةَ أَمْ مِنْ قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابوامامہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے وضو کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : آپ ﷺ دونوں گوشۂ چشم (دونوں آنکھوں کے ناک سے ملنے والے حصے) کا مسح کیا کرتے تھے ، نیز آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’ کان سر کاحصہ ہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ ابن ماجہ (۴۴۴) وابوداؤد (۱۳۴) والترمذی (۳۷) ۔ اور دونوں (امام ابوداؤد اور امام ترمذی) نے ذکر کیا کہ حماد نے کہا : مجھے معلوم نہیں کہ ’’ کان سر کا حصہ ہیں ۔‘‘ یہ ابوامامہ کا قول ہے یا رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے ۔

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جده قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنِ الْوُضُوءِ فَأَرَاهُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: «هَكَذَا الْوُضُوءُ فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا فَقَدْ أَسَاءَ وَتَعَدَّى وَظَلَمَ» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ مَعْنَاهُ

عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ سے وضو کے متعلق دریافت کیا تو آپ ﷺ نے تین تین مرتبہ اعضائے وضو دھو کر اسے دکھائے ، پھر فرمایا :’’ اس طرح (مکمل) وضو ہے ، پس جس نے اس سے زیادہ مرتبہ کیا اس نے برا کیا ، حد سے تجاوز کیا اور ظلم کیا ۔‘‘ نسائی ، ابن ماجہ جبکہ ابوداؤد نے اسی معنی میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی وابن ماجہ و وابوداؤد و ابن خزیمہ ۔

وَعَن عبد الله بن الْمُغَفَّل أَنه سمع ابْنه يَقُول: الله إِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ عَنْ يَمِينِ الْجَنَّةِ قَالَ: أَيْ بُنَيَّ سَلِ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَتَعَوَّذْ بِهِ مِنَ النَّارِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «إِنَّه سَيكون فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الطَّهُورِ وَالدُّعَاءِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

عبداللہ بن مغفل ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو دعا کرتے ہوئے سنا :’’ اے اللہ ! میں تجھ سے جنت کے دائیں طرف سفید محل کی درخواست کرتا ہوں ، تو انہوں نے فرمایا : بیٹا ! اللہ سے جنت کی درخواست کرو اور جہنم سے اس کی پناہ طلب کرو ، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ عنقریب میری امت میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو وضو (کے اعضاء دھونے ) اور دعا کرنے میں حد سے تجاوز کریں گے ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد وابوداؤد وابن ماجہ ۔

وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ لِلْوُضُوءِ شَيْطَانًا يُقَالُ لَهُ الْوَلَهَانُ فَاتَّقُوا وَسْوَاسَ الْمَاءِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ لِأَنَّا لَا نَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَهُ غَيْرَ خَارِجَةَ وَهُوَ لَيْسَ بِالْقَوِيّ عِنْد أَصْحَابنَا

ابی بن کعب ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دوران وضو وسوسہ ڈالنے والے شیطان کا نام ’’ ولہان ‘‘ ہے ، چنانچہ پانی کے استعمال کے وقت وسوسوں سے بچو ۔‘‘ ضعیف ۔ امام ترمذی ؒ نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، اس کی سند محدثین کے نزدیک قوی نہیں ، کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ خارجہ (راوی) کے علاوہ کسی اور نے اسے مرفوع روایت کیا ہے ، جبکہ وہ ہمارے اصحاب کے نزدیک قوی نہیں ۔

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ مسح وَجهه بِطرف ثَوْبه. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا تو اپنے کپڑے کے کنارے سے اپنے چہرے کو صاف کیا ۔ ضعیف ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِرْقَةٌ يُنَشِّفُ بِهَا أَعْضَاءَهُ بَعْدَ الْوُضُوءِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ بِالْقَائِمِ وَأَبُو مُعَاذٍ الرَّاوِي ضَعِيف عِنْد أهل الحَدِيث

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے پاس کپڑے کا ایک ٹکڑا تھا ، آپ اس کے ساتھ وضو کے بعد اپنے اعضاء صاف کیا کرتے تھے ۔ ترمذی ، اور انہوں نے کہا : یہ حدیث صحیح نہیں ، ابومعاذ راوی ، محدثین کے نزدیک ضعیف ہے ۔ ضعیف ۔

عَنْ ثَابِتِ بْنِ أَبِي صَفِيَّةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ هُوَ مُحَمَّدٌ الْبَاقِرُ حَدَّثَكَ جَابِرٌ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مرّة مرّة ومرتين مرَّتَيْنِ وَثَلَاثًا ثَلَاثًا. قَالَ: نعم. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه

ثابت بن ابوصفیہ ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے ابوجعفر محمد الباقر ؒ سے کہا ، جابر ؓ نے آپ کو یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک ایک مرتبہ ، دو دو مرتبہ اور تین تین مرتبہ وضو کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ ضعیف ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ وَقَالَ: هُوَ «نُورٌ عَلَى نُورٍ»

عبداللہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو دو مرتبہ وضو کیا اور فرمایا :’’ وہ نور پرنور (سونے پہ سہاگہ) ہے ۔‘‘ لااصل لہ ، روواہ رزین (لم اجدہ)

وَعَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَقَالَ: «هَذَا وُضُوئِي وَوُضُوءُ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي وَوُضُوءُ إِبْرَاهِيمَ» . رَوَاهُمَا رَزِينٌ وَالنَّوَوِيُّ ضَعَّفَ الثَّانِي فِي شرح مُسلم

عثمان ؓ بیان کرتے ہیں ، کہ رسول اللہ ﷺ نے تین تین مرتبہ وضو کیا اور فرمایا :’’ یہ میرا ، مجھ سے پہلے انبیا علیہم السلام اور ابراہیم ؑ کا وضو ہے ۔ رزین نے دونوں روایتیں کیں ، جبکہ امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں دوسری روایت کو ضعیف قرار دیا ہے ۔ ضعیف ۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَكَانَ أَحَدُنَا يَكْفِيهِ الْوُضُوءُ مَا لَمْ يُحْدِثْ. رَوَاهُ الدِّرَامِي

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ ہر نماز کے لیے وضو کیا کرتے تھے ، جبکہ ہمارے کسی کے لیے (پہلا) وضو کافی رہتا ہے جب تک اس کا وضو نہ ٹوٹے ۔ صحیح ، رواہ الدارمی و البخاری ۔

وَعَن مُحَمَّد بن يحيى بن حبَان الْأنْصَارِيّ ثمَّ الْمَازِني مَازِن بني النجار عَن عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قلت لَهُ أَرَأَيْتَ وُضُوءَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ لِكُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا كَانَ أَوْ غَيْرَ طَاهِرٍ عَمَّنْ أَخَذَهُ؟ فَقَالَ: حَدَّثَتْهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حَنْظَلَةَ بْنِ أبي عَامر ابْن الْغَسِيلِ حَدَّثَهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أُمِرَ بِالْوُضُوءِ لِكُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا كَانَ أَوْ غَيْرَ طَاهِرٍ فَلَمَّا شَقَّ ذَلِكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرَ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَوُضِعَ عَنْهُ الْوُضُوءُ إِلَّا مِنْ حَدَثٍ قَالَ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَرَى أَنَّ بِهِ قُوَّةً عَلَى ذَلِكَ كَانَ يَفْعَله حَتَّى مَاتَ. رَوَاهُ أَحْمد

محمد بن یحی ٰ بن حبان ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر سے کہا : تم نے عبداللہ بن عمر ؓ کو ہر نماز کے لیے وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ قطع نظر اس کے کہ وہ پہلے ہی باوضو تھے یا بے وضو نیز انہوں نے یہ مسئلہ کہاں سے لیا ہے ؟ انہوں نے کہا : اسماء بنت زید بن خطاب نے انہیں حدیث بیان کی کہ عبداللہ بن حنظلہ بن ابی عامر الغسیل نے انہیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ کو وضو ہونے یا وضو نہ ہونے ہر دو صورتوں میں ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا حکم دیا گیا ، چنانچہ جب رسول اللہ ﷺ پر یہ گراں گزرا تو آپ کو ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیا گیا اور وضو کا حکم ختم کر دیا گیا البتہ وضو نہ ہونے کی صورت میں وضو کرنے کا حکم باقی رہا ، راوی بیان کرتے ہیں ، عبداللہ ؓ سمجھتے تھے کہ انہیں ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنے کی استطاعت حاصل ہے لہذا وہ مرتے دم تک اس پر عمل پیرا رہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَرَّ بِسَعْدٍ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَقَالَ: «مَا هَذَا السَّرَفُ يَا سَعْدُ» . قَالَ: أَفِي الْوُضُوءِ سَرَفٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ وَإِنْ كُنْتَ عَلَى نَهْرٍ جَارٍ» . رَوَاهُ أَحْمد وَابْن مَاجَه

عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سعد ؓ کے پاس سے گزرے جبکہ وہ وضو کر رہے تھے ، آپ نے فرمایا :’’ سعد ! یہ کیسا اسراف ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : کیا وضو کرنے میں بھی اسراف ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، خواہ تم نہر رواں پر ہوں ۔‘‘ ضعیف ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ تَوَضَّأَ وَذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ فَإِنَّهُ يُطَهِّرُ جَسَدَهُ كُلَّهُ وَمَنْ تَوَضَّأَ وَلَمْ يَذْكُرِ اسْمَ الله لم يطهر إِلَّا مَوضِع الْوضُوء»

ابوہریرہ ؓ ، ابن مسعود اور ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے وضو کیا اور بسم اللہ پڑھی اس نے اپنا پورا جسم پاک کر لیا ، اور جو شخص وضو کرے لیکن بسم اللہ نہ پڑھے تو وہ صرف اعضائے وضو ہی پاک کرتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔

وَعَن أبي رَافع قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا تَوَضَّأَ وُضُوءَ الصَّلَاةِ حَرَّكَ خَاتَمَهُ فِي أُصْبُعه. رَوَاهُمَا الدَّارَقُطْنِيّ. وروى ابْن مَاجَه الْأَخير

ابورافع ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ نماز کے لیے وضو کرتے تو آپ اپنی انگوٹھی کو انگلی میں ہلاتے تھے ۔ ضعیف ۔ دونوں روایتوں کو دارقطنی نے روایت کیا ہے ، اور ابن ماجہ نے آخری کو روایت کیا ہے ۔