مشکوۃ

Mishkat

پاکیزگی کا بیان

غسل کا بیان

بَاب الْغسْل

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذا جلس بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ ثُمَّ جَهَدَهَا فَقَدْ وَجَبَ الْغسْل وَإِن لم ينزل»

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی اس (یعنی اپنی اہلیہ) کی چار شاخوں کے درمیان بیٹھے ، پھر اسے مشقت میں مبتلا (یعنی جماع) کرے تو غسل واجب ہو جاتا ہے ، خواہ انزال نہ ہو :‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ مُحْيِي السّنة C: هَذَا مَنْسُوخ

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پانی (غسل) پانی (منی کے نکلنے) سے ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ الشیخ الامام محی السنہ ؒ نے فرمایا : یہ حدیث منسوخ ہے ۔

وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ فِي الِاحْتِلَامِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَلَمْ أَجِدْهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ

ابن عباس ؓ نے فرمایا : پانی پانی سے ہے ، یہ احتلام کے بارے میں ہے ۔ ترمذی ، اور میں نے اسے صحیحین میں نہیں پایا ۔ ضعیف ۔

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ فَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ من غسل إِذا احْتَلَمت قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ» فَغَطَّتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَجْهَهَا وَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ قَالَ: «نعم تربت يَمِينك فَبِمَ يشبهها وَلَدهَا؟»

ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ام سلیم ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! بے شک اللہ حق بات سے نہیں شرماتا ، جب عورت کو احتلام ہو جائے تو کیا اس پر غسل کرنا واجب ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، جب وہ پانی (منی کے آثار) دیکھے ۔‘‘ (یہ سن کر) ام سلمہ ؓ نے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو ، تو پھر اس کا بچہ اس سے کیسے مشابہت اختیار کرتا ؟‘‘ متفق علیہ ۔

وَزَادَ مُسْلِمٌ بِرِوَايَةِ أُمِّ سُلَيْمٍ: «أَنَّ مَاءَ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ وَمَاءَ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ فَم أَيِّهِمَا عَلَا أَوْ سَبَقَ يَكُونُ مِنْهُ الشَّبَهُ»

امام مسلم ؒ نے ام سلیم ؓ کے طریق سے جو روایت بیان کی ہے اس میں یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ آدمی کا پانی گاڑھا سفید ہوتا ہے ، جبکہ عورت کا پانی پتلا زرد ہوتا ہے ، پس ان دونوں میں سے جس کا پانی غالب آ جائے یا سبقت لے جائے تو بچے کی مشابہت اسی پر ہو جاتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَن عَائِشَةُ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ بَدَأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يُدْخِلُ أَصَابِعَهُ فِي الْمَاءِ فَيُخَلِّلْ بِهَا أُصُولَ شَعَرِهِ ثمَّ يصب على رَأسه ثَلَاث غرف بيدَيْهِ ثمَّ يفِيض المَاء على جلده كُله وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: يَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا الْإِنَاءَ ثُمَّ يُفْرِغُ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَاله فَيغسل فرجه ثمَّ يتَوَضَّأ

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ غسل جنابت فرماتے تو آپ سب سے پہلے ہاتھ دھوتے ، پھر وضو فرماتے جیسے نماز کے لیے وضو کیا جاتا ہے ، پھر اپنی انگلیاں پانی میں داخل کرتے اور اس سے اپنے بالوں کی جڑوں کا خلال کرتے ، پھر اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالتے ، پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہاتے ۔ متفق علیہ ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے : آپ ﷺ غسل فرماتے تو آپ ﷺ اپنے ہاتھوں کو کسی برتن میں ڈالنے سے پہلے دھوتے ، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اپنی شرم گاہ کو دھوتے ، پھر وضو فرماتے ۔

وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ قَالَتْ مَيْمُونَةُ: وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا فَسَتَرْتُهُ بِثَوْبٍ وَصَبَّ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا ثُمَّ صَبَّ بِيَمِينِهِ عَلَى شَمَالِهِ فَغَسَلَ فَرْجَهُ فَضَرَبَ بِيَدِهِ الْأَرْضَ فَمَسَحَهَا ثُمَّ غَسَلَهَا فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ثُمَّ صَبَّ عَلَى رَأْسِهِ وَأَفَاضَ عَلَى جَسَدِهِ ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ فَنَاوَلْتُهُ ثَوْبًا فَلَمْ يَأْخُذْهُ فَانْطَلق وَهُوَ ينفض يَدَيْهِ. وَلَفظه للْبُخَارِيّ

ابن عباس ؓ بیان ؓ کرتے ہیں ، میمونہ ؓ نے فرمایا : میں نے نبی ﷺ کے لیے غسل کرنے کے لیے پانی رکھا ، اور ایک کپڑے سے آپ پر پردہ کیا ، آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا تو انہیں دھویا ، پھر آپ نے اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالا تو انہیں دھویا ، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر شرم گاہ کو دھویا ، پھر آپ نے اپنا ہاتھ زمین پر ملا اور اسے دھویا ، پھر آپ نے کلی کی ، ناک میں پانی ڈالا ، اپنا چہرہ اور بازو دھوئے ، پھر سر پر پانی ڈالا ، اور سارے جسم پر پانی بہایا ، پھر آپ ﷺ نے اس جگہ سے ہٹ کر پاؤں دھوئے ، میں نے آپ کو کپڑا دیا لیکن آپ نے نہ لیا ، پھر آپ ﷺ ہاتھوں سے پانی صاف کرتے تشریف لے گئے ۔ اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَنِ غُسْلِهَا مِنَ الْمَحِيضِ فَأَمَرَهَا كَيْفَ تَغْتَسِل قَالَ: «خُذِي فِرْصَةً مِنْ مَسْكٍ فَتَطَهَّرِي بِهَا» قَالَت كَيفَ أتطهر قَالَ «تطهري بهَا» قَالَت كَيفَ قَالَ «سُبْحَانَ الله تطهري» فاجتبذتها إِلَيّ فَقلت تتبعي بهَا أثر الدَّم

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، انصار کی ایک خاتون نے غسل حیض کے متعلق نبی ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا ، آپ ﷺ نے اسے بتایا کہ وہ کیسے غسل کرے گی ، پھر فرمایا :’’ کستوری لگا ہوا روئی کا ایک ٹکڑا لے کر اس سے طہارت حاصل کرو ۔‘‘ اس نے عرض کیا : میں اس سے کیسے طہارت حاصل کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس سے طہارت حاصل کرو ۔‘‘ اس نے پھر عرض کیا : میں اس سے کیسے طہارت حاصل کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سبحان اللہ ! اس سے طہارت حاصل کرو ۔‘‘ (عائشہ ؓ فرماتی ہیں) پس میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور بتایا : اسے خون کی جگہ (شرم گاہ) پر رکھ لے ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قُلْتُ: يَا رَسُولَ الله إِنِّي امْرَأَة أَشد ضفر رَأْسِي فأنقضه لغسل الْجَنَابَة قَالَ «لَا إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِي عَلَى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَيْكِ الْمَاءَ فَتَطْهُرِينَ» . رَوَاهُ مُسلم

ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں ایک ایسی عورت ہوں کہ میں اپنے سر کے بالوں کو مضبوط گوندھتی ہوں ، تو کیا میں غسل جنابت کے لیے اسے کھول دیا کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، تمہارے لیے یہی کافی ہے کہ تم اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالو ، پھر اپنے جسم پر پانی بہا لو ، پس تم پاک ہو جاؤ گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ إِلَى خَمْسَةِ أَمْدَادٍ

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ ایک مد (تقریباً چھ سو گرام/ ملی لیٹر) سے وضو اور ایک صاع (چار مد) سے پانچ مد تک پانی سے غسل کیا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ بيني وَبَينه وَاحِد فَيُبَادِرُنِي حَتَّى أَقُولَ دَعْ لِي دَعْ لِي قَالَت وهما جنبان

معاذہ بیان کرتی ہیں ، عائشہ ؓ نے فرمایا : میں اور رسول اللہ ﷺ ایک برتن سے ، جو کہ ہمارے درمیان ہوتا تھا ، غسل کیا کرتے تھے ، آپ مجھ سے جلدی فرماتے تھے حتیٰ کہ میں کہتی : میرے لیے (پانی) رہنے دیں ، میرے لیے رہنے دیں ، جبکہ وہ دونوں جنبی ہوتے تھے ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الْبَلَلَ وَلَا يَذْكُرُ احْتِلَامًا قَالَ «يَغْتَسِلُ» وَعَنِ الرَّجُلِ يَرَى أَنه قد احْتَلَمَ وَلم يَجِدُ بَلَلًا قَالَ: «لَا غُسْلَ عَلَيْهِ» قَالَتْ أم سَلمَة يَا رَسُول الله هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ تَرَى ذَلِكَ غُسْلٌ قَالَ «نَعَمْ إِنَّ النِّسَاءَ شَقَائِقُ الرِّجَالِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَرَوَى الدَّارِمِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ إِلَى قَوْله: «لَا غسل عَلَيْهِ»

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ سے اس آدمی کے متعلق مسئلہ دریافت کیا گیا جو (اپنے جسم یا کپڑوں پر) نمی پاتا ہے لیکن اسے احتلام یاد نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ غسل کرے گا ۔‘‘ اور پھر اس شخص کے متعلق مسئلہ دریافت کیا گیا جو سمجھتا ہے کہ اسے احتلام ہوا ہے لیکن وہ کوئی نمی نہیں پاتا ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس پر غسل لازم نہیں ۔‘‘ ام سلیم ؓ نے عرض کیا : کیا آپ عورت پر بھی یہ غسل واجب سمجھتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، کیونکہ عورتیں بھی (تخلیق و طبع میں) مردوں کی طرح ہیں ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، دارمی اور ابن ماجہ نے ((لا غسل علیہ)) تک روایت کیا ہے ۔ ضعیف ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ. فَعَلْتُهُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلْنَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب مرد کی شرم گاہ عورت کی شرم گاہ میں داخل ہو جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے ، میں اور رسول اللہ ﷺ نے ایسے کیا تو ہم نے غسل کیا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی وابن ماجہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «تَحت كل شَعْرَة جَنَابَةٌ فَاغْسِلُوا الشَّعْرَ وَأَنْقُوا الْبَشْرَةَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَالْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ الرَّاوِي وَهُوَ شيخ لَيْسَ بذلك

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر بال کے نیچے جنابت ہے ، بال دھوؤ اور جسم کو صاف کرو ۔‘‘ ضعیف ۔ ابوداؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ ۔ امام ترمذی ؒ نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، حارث بن وجیہ راوی عمر رسیدہ ہے ، اور اس کی روایت کی توثیق نہیں کی جاسکتی ۔

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعَرَةٍ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يَغْسِلْهَا فعل بهَا كَذَا وَكَذَا من النَّار» . قَالَ عَليّ فَمن ثمَّ عاديت رَأْسِي ثَلَاثًا فَمن ثمَّ عاديت رَأْسِي ثَلَاثًا فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ رَأْسِي ثَلَاثًا. (رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَأَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ إِلَّا أَنَّهُمَا لَمْ يُكَرِّرَا: فَمن ثمَّ عاديت رَأْسِي)

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے بال برابر جائے جنابت چھوڑ دی اور اسے نہ دھویا تو اسے جہنم میں اس اس طرح کی سزا دی جائے گی ۔‘‘ علی ؓ نے فرمایا : میں نے اسی لیے اپنا سر منڈا لیا ، میں نے اسی لیے اپنا سر منڈا لیا ، میں نے اسی لیے اپنا سر منڈا لیا یہ جملہ آپ نے تین مرتبہ فرمایا ۔ ابوداؤد ، احمد ، دارمی ۔ اسنادہ حسن ۔ البتہ ان دونوں (احمد اور دارمی) نے میں نے اسی لیے اپنا سر منڈا لیا ‘‘ کا تکرار ذکر نہیں کیا ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ بِالْخِطْمِيِّ وَهُوَ جُنُبٌ يَجْتَزِئُ بِذَلِكَ وَلَا يَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ خطمی سے اپنا سر دھویا کرتے تھے جبکہ آپ جنبی ہوتے تھے ، آپ اسی پر اکتفا فرماتے اور اس پر پانی نہیں ڈالتے تھے ۔ ضعیف ۔

وَعَن يعلى: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَغْتَسِلُ بِالْبَرَازِ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ الله وَأثْنى عَلَيْهِ وَقَالَ: «إِن الله عز وَجل حييّ حييّ ستير يحب الْحيَاء والستر فَإِذَا اغْتَسَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَتِرْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَفِي رِوَايَتِهِ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ سِتِّيرٌ فَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَغْتَسِلَ فَلْيَتَوَارَ بِشَيْءٍ»

یعلیٰ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی شخص کو کھلے میدان میں (عریاں) غسل کرتے ہوئے دیکھا ، تو آپ ﷺ منبر پر تشریف لائے اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا :’’ بے شک اللہ حیادار ، پردہ پوشی کرنے والا ہے ، وہ حیاداری اور پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے ، پس جب تم میں سے کوئی نہائے تو وہ پردہ کرے ۔‘‘ ابوداؤد ، نسائی ۔ صحیح ۔ اور نسائی کی ایک روایت میں ہے :’’ بے شک اللہ پردہ پوشی کرنے والا ہے ، پس جب تم میں سے کوئی غسل کرنا چاہے تو وہ کسی چیز سے پردہ کر لے ۔‘‘

عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: إِنَّمَا كَانَ الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ ثمَّ نهي عَنْهَا

ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں ، پانی (غسل) ، پانی (انزال) کی وجہ سے واجب ہوتا ہے ، اس بارے میں شروع اسلام میں رخصت تھی ، پھر اس سے منع کر دیا گیا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و الدارمی ۔

وَعَن عَليّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي اغْتَسَلْتُ مِنَ الْجَنَابَةِ وَصليت الْفجْر ثمَّ أَصبَحت فَرَأَيْتُ قَدْرَ مَوْضِعِ الظُّفُرِ لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتَ مَسَحْتَ عَلَيْهِ بِيَدِكَ أَجْزَأَكَ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، میں نے غسل جنابت کیا اور میں نے نماز فجر ادا کی ، پھر میں نے ناخن برابر جگہ خشک دیکھی جہاں پانی نہیں پہنچا تھا ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تم اپنا گیلا ہاتھ اس پر پھیر دیتے تو وہ تمہارے لیے کافی ہوتا ۔‘‘ ضعیف ۔