مشکوۃ

Mishkat

پاکیزگی کا بیان

پانی کے احکام کا بیان

[7] بَاب الْمِيَاه

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لَا يجْرِي ثمَّ يغْتَسل فِيهِ» وَفِى رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: «لَا يَغْتَسِلُ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَهُوَ جُنُبٌ» . قَالُوا: كَيْفَ يَفْعَلُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: يَتَنَاوَلُهُ تَنَاوُلًا

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص کھڑے پانی میں جو کہ بہتا نہ ہو ، پیشاب نہ کرے ، پھر وہ اس میں غسل کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے ۔’’ تم میں سے کوئی شخص کھڑے پانی میں غسل جنابت نہ کرے ۔‘‘ لوگوں نے پوچھا : ابوہریرہ ؓ ! وہ کیسے کرے ؟ فرمایا : وہ وہاں سے پانی لے اور (دوسری جگہ پر غسل کرے)۔

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الراكد. رَوَاهُ مُسلم

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے کھڑے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَن السَّائِب بن يزِيد قَالَ: ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَ أُخْتِي وَجِعٌ فَمَسَحَ رَأْسِي وَدَعَا لي بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ تَوَضَّأَ فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِهِ ثُمَّ قُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَين كَتفيهِ مثل زر الحجلة

سائب بن یزید ؓ بیان کرتے ہیں ، میری خالہ مجھے نبی ﷺ کے پاس لے گئیں اور انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میرا بھانجا مریض ہے ، چنانچہ آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور برکت کے لیے دعا کی ، پھر آپ نے وضو کیا ، تو میں نے آپ کے وضو کا پانی پیا ، پھر میں آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا تو میں نے آپ ﷺ کے کندھوں کے مابین چکور کے انڈے کی مثل مہر نبوت دیکھی ۔ متفق علیہ ۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَاءِ يَكُونُ فِي الْفَلَاةِ مِنَ الْأَرْضِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابّ وَالسِّبَاع فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلِ الْخَبَثَ» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ والدارمي وَابْنُ مَاجَهْ وَفِي أُخْرَى لِأَبِي دَاوُدَ: «فَإِنَّهُ لَا ينجس»

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ سے اس پانی کے متعلق دریافت کیا گیا جو جنگل میں ہو اور وہاں چوپائے اور درندے پانی پینے کے لیے آتے جاتے ہوں ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب پانی دو مٹکے (تقریباً ساڑے چھ من) ہو تو وہ نجاست قبول نہیں کرتا ۔‘‘ احمد ، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، دارمی ، ابن ماجہ ۔ اور ابوداؤد کی دوسری روایت میں ہے :’’ وہ نجس نہیں ہوتا ۔‘‘ صحیح ۔

وَعَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قَالَ: قيل يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرٍ بُضَاعَةَ وَهِيَ بِئْرٌ يُلْقَى فِيهَا الْحِيَضُ وَلُحُومُ الْكِلَابِ وَالنَّتْنُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، اللہ کے رسول ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا گیا : کیا ہم بضاعہ کے کنویں سے وضو کر لیا کریں جبکہ وہ ایسا کنواں ہے ، جہاں حیض آلود کپڑے ، کتوں کے گوشت اور بدبو دار چیزیں پھینکی جاتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک پانی پاک ہے ، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا أفنتوضأ من مَاء الْبَحْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ» . رَوَاهُ مَالك وَالتِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه والدارمي

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، کسی آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا ، ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور تھوڑا سا پانی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں ، اگر ہم اس سے وضو کرتے ہیں تو پھر پیاسے رہ جاتے ہیں ، تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر لیا کریں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔

وَعَنْ أَبِي زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ لَيْلَةَ الْجِنِّ: «مَا فِي إِدَاوَتِكَ» قَالَ: قلت: نَبِيذ. فَقَالَ: «تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَزَادَ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ: فَتَوَضَّأَ مِنْهُ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: أَبُو زيد مَجْهُول وَصَحَّ

ابوزید ، عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ جس رات جن آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ تمہاری چھاگل میں کیا ہے ؟‘‘ وہ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : نبیذ ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کھجور عمدہ چیز ہے پانی پاک ہے ۔‘‘ ابوداؤد ، امام احمد ، اور امام ترمذی نے یہ اضافہ نقل کیا : آپ ﷺ نے اس سے وضو فرمایا ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : ابوزید مجہول ہے ۔ ضعیف ۔

عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَمْ أَكُنْ لَيْلَةَ الْجِنِّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

اور علقمہ سے صحیح سند سے ثابت ہے کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا : جس رات جن آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ، میں اس رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہیں تھا ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَن كَبْشَة بنت كَعْب بن مَالك وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ: أَنَّ أَبَا قَتَادَة دخل فَسَكَبَتْ لَهُ وَضُوءًا فَجَاءَتْ هِرَّةٌ تَشْرَبُ مِنْهُ فَأَصْغَى لَهَا الْإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ قَالَتْ كَبْشَةُ فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ أَتَعْجَبِينَ يَا ابْنَةَ أخي فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّهَا لَيست بِنَجس إِنَّهَا من الطوافين عَلَيْكُم والطوافات» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ

ابوقتادہ کے بیٹے کی اہلیہ کبشہ بنت کعب بن مالک سے روایت ہے ، کہ ابوقتادہ ؓ ان کے پاس تشریف لائے تو اس نے ان کے وضو کے لیے برتن میں پانی ڈالا ، اتنے میں ایک بلی آ کر اس سے پینے لگی تو انہوں نے اس کے لیے برتن جھکا دیا حتیٰ کہ اس نے پی لیا ، کبشہ بیان کرتی ہیں ، انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں ان کی طرف دیکھ رہی ہوں ، تو انہوں نے فرمایا : بھتیجی ! کیا تم تعجب کرتی ہو ؟ وہ بیان کرتی ہیں ، میں نے کہا : جی ہاں ، انہوں نے کہا : کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ نجس نہیں ، کیونکہ وہ تمہارے پاس کثرت سے آنے والے خادموں اور کثرت سے آنے والی لونڈیوں کے زمرے میں ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک و احمد و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔

وَعَن دَاوُد بن صَالح بن دِينَار التمار عَنْ أُمِّهِ أَنَّ مَوْلَاتَهَا أَرْسَلَتْهَا بِهَرِيسَةٍ إِلَى عَائِشَةَ قَالَتْ: فَوَجَدْتُهَا تُصَلِّي فَأَشَارَتْ إِلَيَّ أَنْ ضَعِيهَا فَجَاءَتْ هِرَّةٌ فَأَكَلَتْ مِنْهَا فَلَمَّا انْصَرَفَتْ عَائِشَةُ مِنْ صَلَاتِهَا أَكَلَتْ مِنْ حَيْثُ أَكَلَتِ الْهِرَّةُ فَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّهَا لَيست بِنَجس إِنَّمَا هِيَ من الطوافين عَلَيْكُم» . وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يتَوَضَّأ بفضلها. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

داود بن صالح بن دینار ؒ اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی آزاد کردہ لونڈی کے ہاتھ عائشہ ؓ کے لیے ہریسہ (حلیم کی طرح کا کھانا) بھیجا ، وہ بیان کرتی ہیں ، میں نے انہیں نماز پڑھتے ہوئے پایا تو انہوں نے اسے رکھ دینے کا مجھے اشارہ فرمایا ، ایک بلی آئی اور اس نے اس میں سے کھا لیا ، جب عائشہ ؓ نماز سے فارغ ہوئیں تو انہوں نے اسی جگہ سے کھایا جہاں سے بلی نے کھایا تھا ، اور انہوں نے کہا : کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ نجس نہیں ، کیونکہ وہ تمہارے پاس کثرت سے آنے والے خادموں کے زمرے میں سے ہے ۔‘‘ اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ ضعیف ۔

وَعَن جَابر قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَتَوَضَّأُ بِمَا أَفْضَلَتِ الْحُمُرُ؟ قَالَ: «نَعَمْ وَبِمَا أَفْضَلَتِ السِّبَاعُ كُلُّهَا» . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السّنة

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا گیا : کیا ہم گدھے کے بچے ہوئے پانی سے وضو کر لیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، درندوں کے بچے ہوئے (جوٹھے) پانی سے بھی ۔‘‘ ضعیف ۔

عَن يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: إِنَّ عُمَرَ بن الْخطاب خَرَجَ فِي رَكْبٍ فِيهِمْ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ حَتَّى وَرَدُوا حَوْضًا فَقَالَ عَمْرُو: يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ هَلْ تَرِدُ حَوْضَكَ السِّبَاعُ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ لَا تُخْبِرْنَا فَإِنَّا نَرِدُ عَلَى السِّبَاعِ وَتَرِدُ عَلَيْنَا. رَوَاهُ مَالك

یحیی بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ عمر ؓ کچھ سواروں کے ساتھ ، جن میں عمرو بن عاص ؓ بھی تھے روانہ ہوئے حتیٰ کہ وہ ایک حوض پر پہنچے ، تو عمرو ؓ نےفرمایا : حوض کے مالک ! کیا تیرے حوض پر درندے بھی پانی پیتے آتے ہیں ؟ عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا : حوض کے مالک ! ہمیں نہ بتانا ، کیونکہ درندوں کے بعد ہم پینے آ جاتے ہیں ، اور ہمارے بعد وہ آ جاتے ہیں ۔ ضعیف ۔

وَزَاد رزين قَالَ: زَاد بعض الروَاة فِي قَول عمر: وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَهَا مَا أَخَذَتْ فِي بُطُونِهَا وَمَا بَقِي فَهُوَ لنا طهُور وشراب»

رزین نے کہا : بعض راویوں نے عمر ؓ کے قول میں یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو ان (درندوں) کے پیٹ میں چلا گیا ، وہ ان کا ، اور جو بچ رہا وہ ہمارے لیے پاک ہے اور باعث طہارت اور پینے کے لائق ہے ۔‘‘ لااصل لہ ، رواہ رزین لم اجدہ ۔

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْحِيَاضِ الَّتِي بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ تَرِدُهَا السبَاع وَالْكلاب والحمر وَعَن الطُّهْرِ مِنْهَا فَقَالَ: لَهَا مَا حَمَلَتْ فِي بُطُونِهَا وَلَنَا مَا غَبَرَ طَهُورٌ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ان تالابوں سے طہارت حاصل کرنے میں مسئلہ دریافت کیا گیا جہاں سے درندے ، کتے اور گدھے پانی پیتے ہیں ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ انہوں نے جو پی لیا وہ ان کا اور جو بچ گیا وہ ہمارے لیے پاک ہے ۔‘‘ ضعیف ۔

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَا تَغْتَسِلُوا بِالْمَاءِ الْمُشَمَّسِ فَإِنَّهُ يُورِثُ البرص. رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيّ

عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں : دھوپ سے گرم کیے گئے پانی سے غسل نہ کرو کیونکہ وہ برص (پھل بہری) کا مرض پیدا کرتا ہے ۔ ضعیف ۔