مشکوۃ

Mishkat

پاکیزگی کا بیان

نجاست دور کرنے کا بیان

بَاب تَطْهِير النَّجَاسَات

وَعَن مَيْمُونَة مر على النَّبِي الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَجُرُّونَ شَاةً لَهُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا» قَالُوا إِنَّهَا مَيْتَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُطَهِّرُهَا الْمَاءُ والقرظ» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد

میمونہ ؓ بیان کرتی ہیں قریش کے کچھ افراد اپنی (مردار) بکری کو گدھے کی مثل گھسیٹتے ہوئے نبی ﷺ کے پاس سے گزرے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا :’’ تم اس کا چمڑا ہی اتار لیتے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : یہ مردار ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پانی اور قرظ (کیکر کے مشابہ درخت اور اس کے پتے) اسے پاک کر دیتے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔

وَعَن سَلمَة ابْن المحبق: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَة تَبُوك أَتَى على بَيْتٍ فَإِذَا قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ فَسَأَلَ الْمَاءَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا مَيْتَةٌ: «فَقَالَ دِبَاغُهَا طهورها» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد

سلمہ بن محبق ؓ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ ﷺ ایک گھرانے کے پاس تشریف لائے تو وہاں ایک مشکیزہ لٹک رہا تھا ، آپ نے پانی طلب کیا ، تو انہوں نے آپ سے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! یہ تو مردار ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے رنگ دینا ہی اس کی طہارت ہے ۔‘‘ ضعیف ۔

وَعَن امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لَنَا طَرِيقًا إِلَى الْمَسْجِد مُنْتِنَة فَكيف نَفْعل إِذا مُطِرْنَا قَالَ: «أَلَيْسَ بعْدهَا طَرِيق هِيَ أطيب مِنْهَا قَالَت قلت بلَى قَالَ فَهَذِهِ بِهَذِهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

بع عبدلاشہل کی ایک خاتون بیان کرتی ہیں میں نے عرض کیا اللہ کے رسول ! مسجد کی طرف ہمارا جو راستہ ہے وہ انتہائی گندہ اور بدبو دار ہے جب بارش ہو جائے تو پھر ہم کیا کریں ؟ وہ بیان کرتی ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا اس کے بعد اس سے کوئی زیادہ بہتر اور پاکیزہ راستہ نہیں ؟‘‘ میں نے عرض کیا جی ہاں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کی نجاست اس سے دور ہو جاتی ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَتَوَضَّأ من الموطئ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے اور ہم گندگی پر چل کر جانے کی وجہ سے وضو نہیں کیا کرتے تھے ۔ ضعیف ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَتِ الْكِلَابُ تُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فِي الْمَسْجِدِ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَكُونُوا يَرُشُّونَ شَيْئا من ذَلِك. رَوَاهُ البُخَارِيّ

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ کے زمانے میں کتے مسجد میں آتے جاتے رہتے تھے اور وہ (صحابہ کرام) اس کی کسی چیز کو دھویا نہیں کرتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:: «لَا بَأْسَ بِبَوْلِ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ»

براء ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس جانور کا گوشت کھایا جاتا ہو اس کے پیشاب میں کوئی مضائقہ نہیں ۔‘‘ ضعیف ۔

وَفِي رِوَايَةِ جَابِرٍ قَالَ: «مَا أُكِلَ لَحْمُهُ فَلَا بَأْس ببوله» . رَوَاهُ أَحْمد وَالدَّارَقُطْنِيّ

جابر ؓ کی روایت میں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس کا گوشت کھایا جائے اس کے پیشاب میں کوئی مضائقہ نہیں ۔‘‘ اسنادہ موضوع ۔