میمونہ ؓ بیان کرتی ہیں قریش کے کچھ افراد اپنی (مردار) بکری کو گدھے کی مثل گھسیٹتے ہوئے نبی ﷺ کے پاس سے گزرے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا :’’ تم اس کا چمڑا ہی اتار لیتے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : یہ مردار ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پانی اور قرظ (کیکر کے مشابہ درخت اور اس کے پتے) اسے پاک کر دیتے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
سلمہ بن محبق ؓ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ ﷺ ایک گھرانے کے پاس تشریف لائے تو وہاں ایک مشکیزہ لٹک رہا تھا ، آپ نے پانی طلب کیا ، تو انہوں نے آپ سے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! یہ تو مردار ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے رنگ دینا ہی اس کی طہارت ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
بع عبدلاشہل کی ایک خاتون بیان کرتی ہیں میں نے عرض کیا اللہ کے رسول ! مسجد کی طرف ہمارا جو راستہ ہے وہ انتہائی گندہ اور بدبو دار ہے جب بارش ہو جائے تو پھر ہم کیا کریں ؟ وہ بیان کرتی ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا اس کے بعد اس سے کوئی زیادہ بہتر اور پاکیزہ راستہ نہیں ؟‘‘ میں نے عرض کیا جی ہاں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کی نجاست اس سے دور ہو جاتی ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے اور ہم گندگی پر چل کر جانے کی وجہ سے وضو نہیں کیا کرتے تھے ۔ ضعیف ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ کے زمانے میں کتے مسجد میں آتے جاتے رہتے تھے اور وہ (صحابہ کرام) اس کی کسی چیز کو دھویا نہیں کرتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔
براء ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس جانور کا گوشت کھایا جاتا ہو اس کے پیشاب میں کوئی مضائقہ نہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
جابر ؓ کی روایت میں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس کا گوشت کھایا جائے اس کے پیشاب میں کوئی مضائقہ نہیں ۔‘‘ اسنادہ موضوع ۔