مشکوۃ

Mishkat

پاکیزگی کا بیان

موزوں پر مسح کرنے کا بیان

بَاب الْمسْح على الْخُفَّيْنِ

عَن شُرَيْح بن هَانِئ قَالَ: سَأَلْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لِلْمُسَافِرِ وَيَوْمًا وَلَيْلَةً لِلْمُقِيمِ. رَوَاهُ مُسلم

شریح بن ہانی بیان کرتے ہیں میں نے علی بن ابی طالب ؓ سے موزوں پر مسح کرنے (کی مدت ) کے بارے میں مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے مسافر کے لیے تین دن اور مقیم کے لیے ایک دن مدت مقرر فرمائی ہے ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَن عُرْوَة بن الْمُغيرَة بن شُعْبَة عَن أَبِيه قَالَ: أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ. قَالَ الْمُغِيرَةُ: فَتَبَرَّزَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ الْغَائِط فَحملت مَعَه إدواة قَبْلَ الْفَجْرِ فَلَمَّا رَجَعَ أَخَذْتُ أُهَرِيقُ عَلَى يَدَيْهِ من الإدواة فَغسل كفيه وَوَجْهَهُ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَن ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كم الْجُبَّة فَأخْرج يَده مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ وَأَلْقَى الْجُبَّةَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ وَغسل ذِرَاعَيْهِ وَمسح بناصيته وعَلى الْعِمَامَة وعَلى خفيه ثُمَّ رَكِبَ وَرَكِبْتُ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ وَقَدْ قَامُوا فِي الصَّلَاة يُصَلِّي بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَقَدْ رَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً فَلَمَّا أَحَسَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم ذهب يتَأَخَّر فَأَوْمأ إِلَيْهِ فصلى بهم فَلَمَّا سلم قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْتُ فَرَكَعْنَا الرَّكْعَة الَّتِي سبقتنا. رَوَاهُ مُسلم

مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک میں شرکت کی مغیرہ ؓ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ فجر سے پہلے بول و براز کے لیے کھلی جگہ تشریف لے گئے میں پانی کا برتن اٹھا کر آپ کے ساتھ گیا ، پس جب آپ واپس تشریف لائے تو میں نے برتن سے آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈالا ، تو آپ نے اپنے ہاتھ اور چہرہ دھویا ، آپ نے اونی جبہ پہن رکھا تھا ، آپ نے بازو ننگے کرنے کی کوشش کی ، لیکن جبہ کی آستین تنگ تھیں ، لہذا آپ نے جبہ کے نیچے سے ہاتھ نکالے اور جبے کو اپنے کندھوں پر ڈال لیا اور اپنے بازوں دھوئے ، پھر آپ نے پیشانی اور عمامہ پر مسح کیا ، میں آپ کے موزے اتارنے کے لیے جھکا تو آپ نے فرمایا :’’ انہیں چھوڑ دو ، کیونکہ میں نے انہیں حالت وضو میں پہنا تھا ۔‘‘ آپ نے ان پر مسح کیا ، پھر آپ سواری پر سوار ہوئے اور میں بھی سوار ہوا جب ہم لشکر کے پاس پہنچے تو وہ نماز کھڑی کر چکے تھے اور عبدالرحمن بن عوف ؓ انہیں نماز پڑھا رہے تھے ، اور وہ انہیں ایک رکعت پڑھا چکے تھے ، چنانچہ جب انہیں نبی ﷺ کی آمد کا احساس ہوا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے ، آپ نے انہیں اشارہ کیا کہ نماز پڑھتے رہو ، نبی ﷺ نے ایک رکعت ان کے ساتھ پا لی ، جب انہوں (عبدالرحمن بن عوف ؓ) نے سلام پھیرا تو نبی ﷺ کھڑے ہو گئے ۔ اور میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ کھڑا ہو گیا ، تو ہم نے وہ رکعت پڑھی جو ہم سے پہلے پڑھی جا چکی تھی ۔ رواہ مسلم ۔

عَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ رَخَّصَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً إِذَا تَطَهَّرَ فَلَبِسَ خُفَّيْهِ أَنْ يَمْسَحَ عَلَيْهِمَا. رَوَاهُ الْأَثْرَمُ فِي سُنَنِهِ وَابْنُ خُزَيْمَةَ وَالدَّارَقُطْنِيّ وَقَالَ الْخَطَّابِيُّ: هُوَ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ هَكَذَا فِي الْمُنْتَقى

ابوبکرہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے مسافر کو تین دن اور مقیم کو ایک دن موزوں پر مسح کرنے کی رخصت عنایت فرمائی بشرطیکہ انہوں نے وضو کے بعد موزے پہنے ہوں ۔‘‘ اثرم نے اپنی سنن میں ، ابن خزیمہ اور دارقطنی نے اسے روایت کیا ہے ، خطابی نے کہا : وہ صحیح الاسناد ہے ۔ مثقیٰ میں بھی اسی طرح ہے ۔ اسنادہ حسن ۔

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: وَضَّأْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَمَسَحَ أَعْلَى الْخُفِّ وَأَسْفَلَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيثٌ مَعْلُولٌ وَسَأَلْتُ أَبَا زُرْعَةَ وَمُحَمَّدًا يَعْنَى الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَا: لَيْسَ بِصَحِيحٍ. وَكَذَا ضعفه أَبُو دَاوُد

مغیرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں میں نے غزوہ تبوک کے موقع پر نبی ﷺ کو وضو کرایا تو آپ ﷺ نے موزوں کے اوپر اور نیچے مسح کیا ۔ ابوداؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث معلول ہے میں نے ابوزرعہ اور محمد یعنی امام بخاری سے اس حدیث کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : یہ حدیث صحیح نہیں اور اسی طرح ابوداؤد نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ضعیف ۔

وَعنهُ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يمسح على الْخُفَّيْنِ على ظاهرهما. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد

مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : میں نے نبی ﷺ کو موزوں کے اوپر مسح کرتے ہوئے دیکھا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

وَعَن الْمُغيرَة بن شُعْبَة قَالَ: مَسَحَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ نسيت؟ قَالَ: بل أَنْت نسيت بِهَذَا أَمرنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ

مغیرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے موزوں پر مسح کیا تو میں نے عرض کیا اللہ کے رسول ! کیا آپ بھول گئے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : (نہیں)، بلکہ تم بھولے ہو میرے رب عزوجل نے مجھے اسی کا حکم فرمایا ۔‘‘ ضعیف ۔

وَعَن عَليّ رَضِي الله عَنهُ قَالَ: لَوْ كَانَ الدِّينُ بِالرَّأْيِ لَكَانَ أَسْفَلُ الْخُفِّ أَوْلَى بِالْمَسْحِ مِنْ أَعْلَاهُ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ على ظَاهر خفيه رَوَاهُ أَبُو دَاوُد للدارمي مَعْنَاهُ

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، اگر دین کا دارومدار عقل و رائے پر ہوتا تو موزوں پر نیچے مسح کرنا ان کے اوپر مسح کرنے سے افضل و بہتر ہوتا جبکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو موزوں کے اوپر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ ابوداؤد ؛ اور دارمی نے بھی اسی معنی میں روایت کیا ہے ۔ ضعیف ۔