TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب التَّيَمُّم تیمم کا بیان

Chapter 10 of پاکیزگی کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 10 of 13 · 11 Hadith
عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فُضِّلْنَا عَلَى النَّاسِ بِثَلَاثٍ جُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ وَجُعِلَتْ لَنَا الْأَرْضُ كلهَا مَسْجِدا وَجعلت تربَتهَا لنا طَهُورًا إِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَاءَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہمیں باقی امتوں پر تین چیزوں سے فضیلت دی گئی ہے ، ہماری صفوں کو فرشتوں کی صفوں جیسا قرار دیا گیا ، ہمارے لیے ساری زمین مسجد قرار دی گئی اور اس کی مٹی کو ، جب ہم پانی نہ پائیں ، باعث طہارت بنایا گیا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۴ / ۵۲۲) ۔ 1165
526
Sahih
وَعَن عمرَان بن حُصَيْن الْخُزَاعِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رأى رجلا مُعْتَزِلا لم يصل فِي الْقَوْم فَقَالَ: «يَا فلَان مَا مَنعك أَن تصلي فِي الْقَوْم فَقَالَ يَا رَسُول الله أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلَا مَاءَ قَالَ عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيك»
عمران ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نبی ﷺ کے رفیق سفر تھے ، آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، پس جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے ایک آدمی کو الگ بیٹھا ہوا دیکھا جس نے با جماعت نماز نہیں پڑھی تھی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ فلاں شخص ! تمہیں با جماعت نماز ادا کرنے سے کیا مانع تھا ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، میں جنبی ہو گیا تھا اور میں نے پانی نہیں پایا ، آپ نے فرمایا :’’ تم مٹی استعمال کرتے ، وہ تمہارے لیے کافی تھی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۴۴) و مسلم (۳۱۲ / ۶۸۲) ۔
527
Sahih
وَعَن عمار قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أُصِبِ الْمَاءَ فَقَالَ عمار بن يَاسر لعمر بن الْخطاب أَمَا تَذْكُرُ أَنَّا كُنَّا فِي سَفَرٍ أَنَا وَأَنْتَ فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ وَأَمَّا أَنَا فتمعكت فَصليت فَذكرت للنَّبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم بكفيه الأَرْض وَنفخ فيهمَا ثمَّ مسح بهما وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَلِمُسْلِمٍ نَحْوُهُ وَفِيهِ قَالَ: إِنَّمَا يَكْفِيكَ أَنْ تَضْرِبَ بِيَدَيْكَ الْأَرْضَ ثمَّ تنفخ ثمَّ تمسح بهما وَجهك وكفيك
عمار ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی عمر بن خطاب ؓ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا : میں جنبی ہو گیا ہوں ، لیکن مجھے پانی نہیں ملا ، (یہ سن کر) عمار نے عمر ؓ سے کہا : کیا آپ کو یاد نہیں ، کہ ہم ایک مرتبہ سفر میں تھے ، آپ نے نماز نہ پڑھی ، جبکہ میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا ، اور نماز پڑھ لی ، پھر میں نے نبی ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارے لیے اس طرح کرنا کافی تھا ۔‘‘ چنانچہ نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے اور ان میں پھونک ماری ، پھر ان سے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح کیا ۔ بخاری ۔ متفق علیہ ۔ اور مسلم میں بھی اسی طرح ہے ، اور اس میں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارے لیے کافی تھا کہ تم اپنے ہاتھ زمین پر مارتے ، پھر اس میں پھونک مارتے اور پھر ان کے ساتھ اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح کرتے ۔‘‘
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۳۸) و مسلم (۱۱۲ / ۳۶۸) ۔
528
Sahih
وَعَنْ أَبِي الْجُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ قَالَ: مَرَرْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ حَتَّى قَامَ إِلَى جِدَارٍ فَحَتَّهُ بِعَصًى كَانَتْ مَعَهُ ثُمَّ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى الْجِدَارِ فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ثُمَّ رَدَّ عَلَيَّ. وَلَمْ أَجِدْ هَذِهِ الرِّوَايَةَ فِي الصَّحِيحَيْنِ وَلَا فِي كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ وَلَكِنْ ذَكَرَهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث حسن
ابوجہیم بن حارث بن صِمّہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی ﷺ کے پاس سے گزرا ، جبکہ آپ پیشاب کر رہے تھے ، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے مجھے جواب نہ دیا ، حتیٰ کہ آپ ایک دیوار کی طرف گئے اور اپنی لاٹھی سے اسے کریدا ، پھر اپنے ہاتھ دیوار پر رکھے ، اور اپنے چہرے اور بازؤں کا مسح کیا ، پھر مجھے سلام کا جواب دیا ۔ یہ روایت مجھے صحیحین میں ملی نہ کتاب الحمیدی میں ، لیکن انہوں نے شرح السنہ میں اسے ذکر کیا ہے اور فرمایا : یہ حدیث حسن ہے ۔ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الحسین بن مسعود البغوی فی شرح السنۃ (۲ / ۱۱۴ ، ۱۱۵ ح ۳۱۰ وقال : ھذا حدیث حسن !) [و رواہ الشافعی فی مسندہ (۱ / ۴۵) و البیھقی (۱ / ۲۰۵] * فیہ ابراھیم بن محمد بن ابی یحیی الاسلمی متروک متھم و السند منقطع و الصواب : مسح وجھہ و یدہ کما سیاتی (۵۳۵) ۔
529
Zaeef
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ وَضُوءُ الْمُسلم وَإِن لم يجد لاماء عشر سِنِين فغذا وجد المَاء فليمسه بشره فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَرَوَى النَّسَائِيُّ نَحْوَهُ إِلَى قَوْلِهِ: عَشْرَ سِنِين
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پاک مٹی ، مسلمان کے لیے وضو کے پانی کی طرح ہے خواہ وہ دس سال تک پانی نہ پائے ، لیکن جب پانی دستیاب ہو جائے تب اس سے اپنی جلد تر کرے کیونکہ یہ بہتر ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابوداؤد اور امام نسائی نے ((عشر سنین)) تک اسی طرح روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔
Takhreej
حسن ، رواہ احمد (۵ / ۱۵۵ ح ۲۱۶۹۸) و الترمذی (۱۲۴ وقال : حسن) و ابوداؤد (۳۳۲) و النسائی (۱ / ۱۷۱ ح ۳۲۳) [و صححہ ابن خزیمۃ (۲۲۹۲) و ابن حبان (۱۳۰۸ ، ۱۳۰۹) و الحاکم (۱ / ۱۷۶ ، ۱۷۷) و وافقہ الذھبی] ۔
530
Sahih
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: خَرَجْنَا فِي سَفَرٍ فَأَصَابَ رجلا منا حجر فَشَجَّهُ فِي رَأسه ثمَّ احْتَلَمَ فَسَأَلَ أَصْحَابه فَقَالَ هَل تَجِدُونَ لي رخصَة فِي التَّيَمُّم فَقَالُوا مَا نجد لَك رخصَة وَأَنت تقدر على الْمَاءِ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أخبر بذلك فَقَالَ قَتَلُوهُ قَتلهمْ الله أَلا سَأَلُوا إِذْ لَمْ يَعْلَمُوا فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَن يتَيَمَّم ويعصر أَو يعصب شكّ مُوسَى عَلَى جُرْحِهِ خِرْقَةً ثُمَّ يَمْسَحَ عَلَيْهَا وَيَغْسِلَ سَائِر جسده. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم ایک سفر پر روانہ ہوئے تو ہم میں سے ایک آدمی کو پتھر لگا جس نے اس کا سر زخمی کر دیا ، اور اسی دوران اسے احتلام ہو گیا ، اس نے اپنے ساتھیوں سے دریافت کرتے ہوئے کہا ، کیا تم میرے لیے تیمم کی رخصت پاتے ہو ؟ انہوں نے کہا : ہم تمہارے لیے کوئی رخصت نہیں پاتے کیونکہ تمہیں پانی میسر ہے ۔ پس اس نے غسل کیا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی ، جب ہم نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ کو اس بارے میں بتایا گیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ انہوں نے اسے مار ڈالا ، اللہ انہیں ہلاک کرے ، جب انہیں مسئلہ معلوم نہیں تھا تو انہوں نے پوچھا کیوں نہ ، لا علمی کا علاج پوچھ لینا ہے ، اس کے لیے یہی کافی تھا کہ وہ تیمم کرتا ، زخم پر پٹی باندھ لیتا ، پھر اس پر مسح کر لیتا اور باقی سارے جسم کو دھو لیتا ۔‘‘ ابوداؤد ۔ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۳۳۶) * الزبیر بن خریق : وثقہ ابن حبان وحدہ و ضعفہ الدارمی و غیرہ و ضعفہ راجح ۔
531
Zaeef
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاح عَن ابْن عَبَّاس
ابن ماجہ نے عطاء بن ابی رباح کی سند سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ ابن ماجہ (۵۷۲) [و الحاکم (۱ / ۱۷۸) و ابوداؤد (۳۳۷ و سندہ صحیح)] ۔
532
Sahih
وَعَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قَالَ: خَرَجَ رَجُلَانِ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمَا مَاءٌ فَتَيَمَّمَا صَعِيدًا طَيِّبًا فَصَلَّيَا ثُمَّ وَجَدَا الْمَاءَ فِي الْوَقْتِ فَأَعَادَ أَحَدُهُمَا الصَّلَاة وَالْوُضُوء وَلَمْ يَعُدِ الْآخَرُ ثُمَّ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فذكرا ذَلِك لَهُ فَقَالَ لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ: «أَصَبْتَ السُّنَّةَ وَأَجْزَأَتْكَ صَلَاتُكَ» وَقَالَ لِلَّذِي تَوَضَّأَ وَأَعَادَ: «لَكَ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَرَوَى النَّسَائِيُّ نَحوه
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، دو آدمی سفر پر روانہ ہوئے ، نماز کا وقت ہو گیا ، جبکہ ان کے پاس پانی نہیں تھا ، چنانچہ انہوں نے پاک مٹی سے تیمم کیا اور نماز پڑھی ، پھر انہوں نے نماز کے وقت ہی میں پانی پا لیا ، تو ان میں سے ایک نے وضو کر کے نماز لوٹائی ، جبکہ دوسرے نے نہ لوٹائی ، پھر وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس واقعہ کا تذکرہ کیا ، آپ ﷺ نے اس شخص سے ، جس نے نماز نہ لوٹائی ، فرمایا :’’ تم نے سنت پر عمل کیا اور تمہاری نماز تمہارے لیے کافی ہے ۔‘‘ اور آپ ﷺ نے ، جس شخص نے وضو کر کے نماز لوٹائی تھی ، اسے فرمایا :’’ تمہارے لیے دہرا اجر ہے ۔‘‘ ابوداؤد ، دارمی ، اور نسائی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ،
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۳۳۸) و الدارمی (۱ / ۱۹۰ ح ۷۵۰) و النسائی (۱ / ۲۱۳ ح ۴۳۳) ۔
533
Sahih
وَقَدْ رَوَى هُوَ وَأَبُو دَاوُدَ أَيْضًا عَنْ عَطاء بن يسَار مُرْسلا
امام نسائی اور ابوداؤد نے بھی عطاء بن یسار سے مرسل روایت کیا ہے ۔ حسن ۔
Takhreej
حسن ، رواہ ابوداؤد (۳۳۹) [و انظر الحدیث السابق (۵۳۳) فھو شاھد لہ] ۔
534
Sahih
عَن أبي الْجُهَيْم الْأنْصَارِيّ قَالَ: أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْوِ بِئْرِ جَمَلٍ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَام
ابوالجہیم بن حارث بن صِمّہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ بئرجمل (کنویں کا نام) کی طرف سے آئے تو ایک آدمی آپ ﷺ سے ملا ، اس نے آپ کو سلام کیا تو نبی ﷺ نے اسے جواب نہ دیا حتیٰ کہ آپ دیوار کے پاس تشریف لائے ، اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا ، پھر اسے سلام کا جواب دیا ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۳۷) و مسلم (۱۱۴ / ۳۶۹) ۔
535
Sahih
وَعَن عمار بن يَاسر: أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّهُمْ تَمَسَّحُوا وَهُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّعِيدِ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ فَضَرَبُوا بِأَكُفِّهِمُ الصَّعِيدَ ثُمَّ مَسَحُوا وُجُوههم مَسْحَةً وَاحِدَةً ثُمَّ عَادُوا فَضَرَبُوا بِأَكُفِّهِمُ الصَّعِيدَ مَرَّةً أُخْرَى فَمَسَحُوا بِأَيْدِيهِمْ كُلِّهَا إِلَى الْمَنَاكِبِ وَالْآبَاطِ مِنْ بُطُونِ أَيْدِيهِمْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
عمار بن یاسر ؓ سے روایت ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی معیت میں نماز فجر کے لیے مٹی سے تیمم کیا تو انہوں نے اپنے ہاتھ مٹی پر مارے ، پھر ایک مرتبہ اپنے چہروں پر مسح کیا ، پھر انہوں نے دوبارہ دوسری مرتبہ اپنے ہاتھ مٹی پر مارے تو اپنے سارے ہاتھوں پر کندھوں اور بغلوں سمیت مکمل طور پر مسح کیا ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ ابوداؤد (۳۱۸) ۔
536
Sahih