حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہمیں باقی امتوں پر تین چیزوں سے فضیلت دی گئی ہے ، ہماری صفوں کو فرشتوں کی صفوں جیسا قرار دیا گیا ، ہمارے لیے ساری زمین مسجد قرار دی گئی اور اس کی مٹی کو ، جب ہم پانی نہ پائیں ، باعث طہارت بنایا گیا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَعَن عمرَان بن حُصَيْن الْخُزَاعِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رأى رجلا مُعْتَزِلا لم يصل فِي الْقَوْم فَقَالَ: «يَا فلَان مَا مَنعك أَن تصلي فِي الْقَوْم فَقَالَ يَا رَسُول الله أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلَا مَاءَ قَالَ عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيك»
عمران ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نبی ﷺ کے رفیق سفر تھے ، آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، پس جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے ایک آدمی کو الگ بیٹھا ہوا دیکھا جس نے با جماعت نماز نہیں پڑھی تھی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ فلاں شخص ! تمہیں با جماعت نماز ادا کرنے سے کیا مانع تھا ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، میں جنبی ہو گیا تھا اور میں نے پانی نہیں پایا ، آپ نے فرمایا :’’ تم مٹی استعمال کرتے ، وہ تمہارے لیے کافی تھی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۴۴) و مسلم (۳۱۲ / ۶۸۲) ۔
عمار ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی عمر بن خطاب ؓ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا : میں جنبی ہو گیا ہوں ، لیکن مجھے پانی نہیں ملا ، (یہ سن کر) عمار نے عمر ؓ سے کہا : کیا آپ کو یاد نہیں ، کہ ہم ایک مرتبہ سفر میں تھے ، آپ نے نماز نہ پڑھی ، جبکہ میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا ، اور نماز پڑھ لی ، پھر میں نے نبی ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارے لیے اس طرح کرنا کافی تھا ۔‘‘ چنانچہ نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے اور ان میں پھونک ماری ، پھر ان سے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح کیا ۔ بخاری ۔ متفق علیہ ۔
اور مسلم میں بھی اسی طرح ہے ، اور اس میں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارے لیے کافی تھا کہ تم اپنے ہاتھ زمین پر مارتے ، پھر اس میں پھونک مارتے اور پھر ان کے ساتھ اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح کرتے ۔‘‘
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۳۸) و مسلم (۱۱۲ / ۳۶۸) ۔
ابوجہیم بن حارث بن صِمّہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی ﷺ کے پاس سے گزرا ، جبکہ آپ پیشاب کر رہے تھے ، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے مجھے جواب نہ دیا ، حتیٰ کہ آپ ایک دیوار کی طرف گئے اور اپنی لاٹھی سے اسے کریدا ، پھر اپنے ہاتھ دیوار پر رکھے ، اور اپنے چہرے اور بازؤں کا مسح کیا ، پھر مجھے سلام کا جواب دیا ۔ یہ روایت مجھے صحیحین میں ملی نہ کتاب الحمیدی میں ، لیکن انہوں نے شرح السنہ میں اسے ذکر کیا ہے اور فرمایا : یہ حدیث حسن ہے ۔ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الحسین بن مسعود البغوی فی شرح السنۃ (۲ / ۱۱۴ ، ۱۱۵ ح ۳۱۰ وقال : ھذا حدیث حسن !) [و رواہ الشافعی فی مسندہ (۱ / ۴۵) و البیھقی (۱ / ۲۰۵] * فیہ ابراھیم بن محمد بن ابی یحیی الاسلمی متروک متھم و السند منقطع و الصواب : مسح وجھہ و یدہ کما سیاتی (۵۳۵) ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پاک مٹی ، مسلمان کے لیے وضو کے پانی کی طرح ہے خواہ وہ دس سال تک پانی نہ پائے ، لیکن جب پانی دستیاب ہو جائے تب اس سے اپنی جلد تر کرے کیونکہ یہ بہتر ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابوداؤد اور امام نسائی نے ((عشر سنین)) تک اسی طرح روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔
Takhreej
حسن ، رواہ احمد (۵ / ۱۵۵ ح ۲۱۶۹۸) و الترمذی (۱۲۴ وقال : حسن) و ابوداؤد (۳۳۲) و النسائی (۱ / ۱۷۱ ح ۳۲۳) [و صححہ ابن خزیمۃ (۲۲۹۲) و ابن حبان (۱۳۰۸ ، ۱۳۰۹) و الحاکم (۱ / ۱۷۶ ، ۱۷۷) و وافقہ الذھبی] ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم ایک سفر پر روانہ ہوئے تو ہم میں سے ایک آدمی کو پتھر لگا جس نے اس کا سر زخمی کر دیا ، اور اسی دوران اسے احتلام ہو گیا ، اس نے اپنے ساتھیوں سے دریافت کرتے ہوئے کہا ، کیا تم میرے لیے تیمم کی رخصت پاتے ہو ؟ انہوں نے کہا : ہم تمہارے لیے کوئی رخصت نہیں پاتے کیونکہ تمہیں پانی میسر ہے ۔ پس اس نے غسل کیا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی ، جب ہم نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ کو اس بارے میں بتایا گیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ انہوں نے اسے مار ڈالا ، اللہ انہیں ہلاک کرے ، جب انہیں مسئلہ معلوم نہیں تھا تو انہوں نے پوچھا کیوں نہ ، لا علمی کا علاج پوچھ لینا ہے ، اس کے لیے یہی کافی تھا کہ وہ تیمم کرتا ، زخم پر پٹی باندھ لیتا ، پھر اس پر مسح کر لیتا اور باقی سارے جسم کو دھو لیتا ۔‘‘ ابوداؤد ۔ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۳۳۶) * الزبیر بن خریق : وثقہ ابن حبان وحدہ و ضعفہ الدارمی و غیرہ و ضعفہ راجح ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، دو آدمی سفر پر روانہ ہوئے ، نماز کا وقت ہو گیا ، جبکہ ان کے پاس پانی نہیں تھا ، چنانچہ انہوں نے پاک مٹی سے تیمم کیا اور نماز پڑھی ، پھر انہوں نے نماز کے وقت ہی میں پانی پا لیا ، تو ان میں سے ایک نے وضو کر کے نماز لوٹائی ، جبکہ دوسرے نے نہ لوٹائی ، پھر وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس واقعہ کا تذکرہ کیا ، آپ ﷺ نے اس شخص سے ، جس نے نماز نہ لوٹائی ، فرمایا :’’ تم نے سنت پر عمل کیا اور تمہاری نماز تمہارے لیے کافی ہے ۔‘‘ اور آپ ﷺ نے ، جس شخص نے وضو کر کے نماز لوٹائی تھی ، اسے فرمایا :’’ تمہارے لیے دہرا اجر ہے ۔‘‘ ابوداؤد ، دارمی ، اور نسائی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ،
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۳۳۸) و الدارمی (۱ / ۱۹۰ ح ۷۵۰) و النسائی (۱ / ۲۱۳ ح ۴۳۳) ۔
ابوالجہیم بن حارث بن صِمّہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ بئرجمل (کنویں کا نام) کی طرف سے آئے تو ایک آدمی آپ ﷺ سے ملا ، اس نے آپ کو سلام کیا تو نبی ﷺ نے اسے جواب نہ دیا حتیٰ کہ آپ دیوار کے پاس تشریف لائے ، اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا ، پھر اسے سلام کا جواب دیا ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۳۷) و مسلم (۱۱۴ / ۳۶۹) ۔
عمار بن یاسر ؓ سے روایت ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی معیت میں نماز فجر کے لیے مٹی سے تیمم کیا تو انہوں نے اپنے ہاتھ مٹی پر مارے ، پھر ایک مرتبہ اپنے چہروں پر مسح کیا ، پھر انہوں نے دوبارہ دوسری مرتبہ اپنے ہاتھ مٹی پر مارے تو اپنے سارے ہاتھوں پر کندھوں اور بغلوں سمیت مکمل طور پر مسح کیا ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔