مشکوۃ

Mishkat

پاکیزگی کا بیان

تیمم کا بیان

بَاب التَّيَمُّم

عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فُضِّلْنَا عَلَى النَّاسِ بِثَلَاثٍ جُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ وَجُعِلَتْ لَنَا الْأَرْضُ كلهَا مَسْجِدا وَجعلت تربَتهَا لنا طَهُورًا إِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَاءَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہمیں باقی امتوں پر تین چیزوں سے فضیلت دی گئی ہے ، ہماری صفوں کو فرشتوں کی صفوں جیسا قرار دیا گیا ، ہمارے لیے ساری زمین مسجد قرار دی گئی اور اس کی مٹی کو ، جب ہم پانی نہ پائیں ، باعث طہارت بنایا گیا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَن عمرَان بن حُصَيْن الْخُزَاعِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رأى رجلا مُعْتَزِلا لم يصل فِي الْقَوْم فَقَالَ: «يَا فلَان مَا مَنعك أَن تصلي فِي الْقَوْم فَقَالَ يَا رَسُول الله أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلَا مَاءَ قَالَ عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيك»

عمران ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نبی ﷺ کے رفیق سفر تھے ، آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، پس جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے ایک آدمی کو الگ بیٹھا ہوا دیکھا جس نے با جماعت نماز نہیں پڑھی تھی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ فلاں شخص ! تمہیں با جماعت نماز ادا کرنے سے کیا مانع تھا ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، میں جنبی ہو گیا تھا اور میں نے پانی نہیں پایا ، آپ نے فرمایا :’’ تم مٹی استعمال کرتے ، وہ تمہارے لیے کافی تھی ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَن عمار قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أُصِبِ الْمَاءَ فَقَالَ عمار بن يَاسر لعمر بن الْخطاب أَمَا تَذْكُرُ أَنَّا كُنَّا فِي سَفَرٍ أَنَا وَأَنْتَ فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ وَأَمَّا أَنَا فتمعكت فَصليت فَذكرت للنَّبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم بكفيه الأَرْض وَنفخ فيهمَا ثمَّ مسح بهما وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَلِمُسْلِمٍ نَحْوُهُ وَفِيهِ قَالَ: إِنَّمَا يَكْفِيكَ أَنْ تَضْرِبَ بِيَدَيْكَ الْأَرْضَ ثمَّ تنفخ ثمَّ تمسح بهما وَجهك وكفيك

عمار ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی عمر بن خطاب ؓ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا : میں جنبی ہو گیا ہوں ، لیکن مجھے پانی نہیں ملا ، (یہ سن کر) عمار نے عمر ؓ سے کہا : کیا آپ کو یاد نہیں ، کہ ہم ایک مرتبہ سفر میں تھے ، آپ نے نماز نہ پڑھی ، جبکہ میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا ، اور نماز پڑھ لی ، پھر میں نے نبی ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارے لیے اس طرح کرنا کافی تھا ۔‘‘ چنانچہ نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے اور ان میں پھونک ماری ، پھر ان سے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح کیا ۔ بخاری ۔ متفق علیہ ۔ اور مسلم میں بھی اسی طرح ہے ، اور اس میں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارے لیے کافی تھا کہ تم اپنے ہاتھ زمین پر مارتے ، پھر اس میں پھونک مارتے اور پھر ان کے ساتھ اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح کرتے ۔‘‘

وَعَنْ أَبِي الْجُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ قَالَ: مَرَرْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ حَتَّى قَامَ إِلَى جِدَارٍ فَحَتَّهُ بِعَصًى كَانَتْ مَعَهُ ثُمَّ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى الْجِدَارِ فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ثُمَّ رَدَّ عَلَيَّ. وَلَمْ أَجِدْ هَذِهِ الرِّوَايَةَ فِي الصَّحِيحَيْنِ وَلَا فِي كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ وَلَكِنْ ذَكَرَهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث حسن

ابوجہیم بن حارث بن صِمّہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی ﷺ کے پاس سے گزرا ، جبکہ آپ پیشاب کر رہے تھے ، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے مجھے جواب نہ دیا ، حتیٰ کہ آپ ایک دیوار کی طرف گئے اور اپنی لاٹھی سے اسے کریدا ، پھر اپنے ہاتھ دیوار پر رکھے ، اور اپنے چہرے اور بازؤں کا مسح کیا ، پھر مجھے سلام کا جواب دیا ۔ یہ روایت مجھے صحیحین میں ملی نہ کتاب الحمیدی میں ، لیکن انہوں نے شرح السنہ میں اسے ذکر کیا ہے اور فرمایا : یہ حدیث حسن ہے ۔ ضعیف ۔

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ وَضُوءُ الْمُسلم وَإِن لم يجد لاماء عشر سِنِين فغذا وجد المَاء فليمسه بشره فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَرَوَى النَّسَائِيُّ نَحْوَهُ إِلَى قَوْلِهِ: عَشْرَ سِنِين

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پاک مٹی ، مسلمان کے لیے وضو کے پانی کی طرح ہے خواہ وہ دس سال تک پانی نہ پائے ، لیکن جب پانی دستیاب ہو جائے تب اس سے اپنی جلد تر کرے کیونکہ یہ بہتر ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابوداؤد اور امام نسائی نے ((عشر سنین)) تک اسی طرح روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: خَرَجْنَا فِي سَفَرٍ فَأَصَابَ رجلا منا حجر فَشَجَّهُ فِي رَأسه ثمَّ احْتَلَمَ فَسَأَلَ أَصْحَابه فَقَالَ هَل تَجِدُونَ لي رخصَة فِي التَّيَمُّم فَقَالُوا مَا نجد لَك رخصَة وَأَنت تقدر على الْمَاءِ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أخبر بذلك فَقَالَ قَتَلُوهُ قَتلهمْ الله أَلا سَأَلُوا إِذْ لَمْ يَعْلَمُوا فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَن يتَيَمَّم ويعصر أَو يعصب شكّ مُوسَى عَلَى جُرْحِهِ خِرْقَةً ثُمَّ يَمْسَحَ عَلَيْهَا وَيَغْسِلَ سَائِر جسده. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم ایک سفر پر روانہ ہوئے تو ہم میں سے ایک آدمی کو پتھر لگا جس نے اس کا سر زخمی کر دیا ، اور اسی دوران اسے احتلام ہو گیا ، اس نے اپنے ساتھیوں سے دریافت کرتے ہوئے کہا ، کیا تم میرے لیے تیمم کی رخصت پاتے ہو ؟ انہوں نے کہا : ہم تمہارے لیے کوئی رخصت نہیں پاتے کیونکہ تمہیں پانی میسر ہے ۔ پس اس نے غسل کیا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی ، جب ہم نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ کو اس بارے میں بتایا گیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ انہوں نے اسے مار ڈالا ، اللہ انہیں ہلاک کرے ، جب انہیں مسئلہ معلوم نہیں تھا تو انہوں نے پوچھا کیوں نہ ، لا علمی کا علاج پوچھ لینا ہے ، اس کے لیے یہی کافی تھا کہ وہ تیمم کرتا ، زخم پر پٹی باندھ لیتا ، پھر اس پر مسح کر لیتا اور باقی سارے جسم کو دھو لیتا ۔‘‘ ابوداؤد ۔ ضعیف ۔

وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاح عَن ابْن عَبَّاس

ابن ماجہ نے عطاء بن ابی رباح کی سند سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔

وَعَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قَالَ: خَرَجَ رَجُلَانِ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمَا مَاءٌ فَتَيَمَّمَا صَعِيدًا طَيِّبًا فَصَلَّيَا ثُمَّ وَجَدَا الْمَاءَ فِي الْوَقْتِ فَأَعَادَ أَحَدُهُمَا الصَّلَاة وَالْوُضُوء وَلَمْ يَعُدِ الْآخَرُ ثُمَّ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فذكرا ذَلِك لَهُ فَقَالَ لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ: «أَصَبْتَ السُّنَّةَ وَأَجْزَأَتْكَ صَلَاتُكَ» وَقَالَ لِلَّذِي تَوَضَّأَ وَأَعَادَ: «لَكَ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَرَوَى النَّسَائِيُّ نَحوه

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، دو آدمی سفر پر روانہ ہوئے ، نماز کا وقت ہو گیا ، جبکہ ان کے پاس پانی نہیں تھا ، چنانچہ انہوں نے پاک مٹی سے تیمم کیا اور نماز پڑھی ، پھر انہوں نے نماز کے وقت ہی میں پانی پا لیا ، تو ان میں سے ایک نے وضو کر کے نماز لوٹائی ، جبکہ دوسرے نے نہ لوٹائی ، پھر وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس واقعہ کا تذکرہ کیا ، آپ ﷺ نے اس شخص سے ، جس نے نماز نہ لوٹائی ، فرمایا :’’ تم نے سنت پر عمل کیا اور تمہاری نماز تمہارے لیے کافی ہے ۔‘‘ اور آپ ﷺ نے ، جس شخص نے وضو کر کے نماز لوٹائی تھی ، اسے فرمایا :’’ تمہارے لیے دہرا اجر ہے ۔‘‘ ابوداؤد ، دارمی ، اور نسائی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ،

وَقَدْ رَوَى هُوَ وَأَبُو دَاوُدَ أَيْضًا عَنْ عَطاء بن يسَار مُرْسلا

امام نسائی اور ابوداؤد نے بھی عطاء بن یسار سے مرسل روایت کیا ہے ۔ حسن ۔

عَن أبي الْجُهَيْم الْأنْصَارِيّ قَالَ: أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْوِ بِئْرِ جَمَلٍ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَام

ابوالجہیم بن حارث بن صِمّہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ بئرجمل (کنویں کا نام) کی طرف سے آئے تو ایک آدمی آپ ﷺ سے ملا ، اس نے آپ کو سلام کیا تو نبی ﷺ نے اسے جواب نہ دیا حتیٰ کہ آپ دیوار کے پاس تشریف لائے ، اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا ، پھر اسے سلام کا جواب دیا ۔ متفق علیہ ۔

وَعَن عمار بن يَاسر: أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّهُمْ تَمَسَّحُوا وَهُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّعِيدِ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ فَضَرَبُوا بِأَكُفِّهِمُ الصَّعِيدَ ثُمَّ مَسَحُوا وُجُوههم مَسْحَةً وَاحِدَةً ثُمَّ عَادُوا فَضَرَبُوا بِأَكُفِّهِمُ الصَّعِيدَ مَرَّةً أُخْرَى فَمَسَحُوا بِأَيْدِيهِمْ كُلِّهَا إِلَى الْمَنَاكِبِ وَالْآبَاطِ مِنْ بُطُونِ أَيْدِيهِمْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

عمار بن یاسر ؓ سے روایت ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی معیت میں نماز فجر کے لیے مٹی سے تیمم کیا تو انہوں نے اپنے ہاتھ مٹی پر مارے ، پھر ایک مرتبہ اپنے چہروں پر مسح کیا ، پھر انہوں نے دوبارہ دوسری مرتبہ اپنے ہاتھ مٹی پر مارے تو اپنے سارے ہاتھوں پر کندھوں اور بغلوں سمیت مکمل طور پر مسح کیا ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔