مشکوۃ

Mishkat

پاکیزگی کا بیان

قضائے حاجت کے آداب کا بیان

بَاب آدَاب الْخَلَاء

وَعَن عبد الله بن سرجس قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي جُحْرٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

عبداللہ بن سرجس ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی بل (کیڑے مکوڑوں کی جگہ) میں پیشاب نہ کرے ۔‘‘ ضعیف ۔

وَعَنْ مُعَاذٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اتَّقُوا الْمَلَاعِنَ الثَّلَاثَةَ: الْبَرَازَ فِي الْمَوَارِدِ وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ وَالظِّلِّ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

معاذ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تین باتوں سے بچو ، جن کے کرنے والے پر لعنت کی جاتی ہے ، پانی کے گھاٹ ، راستے کے درمیان اور سائے میں بول و براز کرنے سے ۔‘‘ ضعیف ۔

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ هَذِهِ الْحُشُوشَ مُحْتَضَرَةٌ فَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ فَلْيَقُلْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُبْثِ والخبائث . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

زید بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ان مقامات پر جنات کی آمدو رفت رہتی ہے لہذا جب تم میں سے کوئی بیت الخلا جائے تو یہ دعا پڑھے :’’ میں نر اور مادہ ناپاک جنات سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَتْرُ مَا بَيْنَ أَعْيُنِ الْجِنِّ وَعَوْرَاتِ بَنِي آدَمَ إِذَا دَخَلَ أَحَدُهُمُ الْخَلَاءَ أَنْ يَقُولَ بِسْمِ اللَّهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَإِسْنَاده لَيْسَ بِقَوي

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب ان میں سے کوئی بیت الخلا میں جائے تو وہ ((بسم اللہ)) کہے ۔ یہ جنوں کی آنکھوں اور اولاد آدم کی پردہ کی چیزوں (شرم گاہ وغیرہ ) کے درمیان پردہ اور آڑ ہے ۔‘‘ ترمذی اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے، اور اس کی اسناد قوی نہیں ۔ ضعیف ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ قَالَ «غفرانك» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه والدارمي

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب نبی ﷺ بیت الخلا سے باہر تشریف لاتے تو یہ دعا : ((غفرانک))’’ میں تیری مغفرت چاہتا ہوں ۔‘‘ پڑھا کرتے تھے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْخَلَاءَ أَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فِي تَوْرٍ أَوْ رَكْوَةٍ فَاسْتَنْجَى ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ عَلَى الْأَرْضِ ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِإِنَاءٍ آخَرَ فَتَوَضَّأَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وروى الدَّارمِيّ وَالنَّسَائِيّ مَعْنَاهُ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ۔ جب نبی ﷺ بیت الخلا جاتے تو میں مٹی کے برتن یا چمڑے کی چھاگل میں آپ کو پانی پیش کرتا ، آپ استنجا کرتے ، پھر اپنا ہاتھ زمین پر پھیرتے ، پھر میں ایک دوسرا برتن پیش خدمت کرتا تو آپ وضو فرماتے ۔‘‘ ابوداؤد ، دارمی اور نسائی نے بھی انہی کے معنی میں روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔

وَعَن الحكم بن سُفْيَان قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَالَ تَوَضَّأَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

حکم بن سفیان ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی ﷺ پیشاب کرتے تو وضو فرماتے اور اپنی شرم گاہ پر پانی کے چھینٹے مارتے تھے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

وَعَن أُمَيْمَة بنت رقيقَة قَالَتْ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَحٌ مِنْ عَيْدَانٍ تَحْتَ سَرِيرِهِ يَبُولُ فِيهِ بِاللَّيْلِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

امیمہ بنت رقیقہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ کی چارپائی کے نیچے لکڑی کا ایک پیالہ ہوتا تھا جس میں آپ ﷺ رات کے وقت پیشاب کیا کرتے تھے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

وَعَن عمر قَالَ: رَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبُولُ قَائِمًا فَقَالَ: «يَا عُمَرُ لَا تَبُلْ قَائِمًا» فَمَا بُلْتُ قَائِمًا بَعْدُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ مُحْيِي السّنة C: قد صَحَّ:

عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے مجھے دیکھا ، جبکہ میں کھڑا پیشاب کر رہا تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عمر ! کھڑے ہو کر پیشاب نہ کرو ۔‘‘ پس اس کے بعد میں نے کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا ۔ ضعیف ۔ الشیخ الامام محی السنہ ؒ نے فرمایا : یہ حدیث ثابت ہے ۔

عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سباطة قوم فَبَال قَائِما. . قيل: كَانَ ذَلِك لعذر

حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی ﷺ کسی قوم کے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر آئے تو آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ۔ امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ (کھڑے ہو کر پیشاب کرنا) کسی عذر کی وجہ سے تھا ۔ متفق علیہ ۔

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «مَنْ حَدَّثَكُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبُولُ قَائِمًا فَلَا تُصَدِّقُوهُ مَا كَانَ يَبُول إِلَّا قَاعِدا» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ

عائشہؓ نے فرمایا : جو شخص تمہیں یہ بتائے کہ نبی ﷺ کھڑے ہو کر پیشاب کیا کرتے تھے ، تو اس کی تصدیق نہ کرو ، آپ تو صرف بیٹھ کر پیشاب کیا کرتے تھے ۔ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و النسائی ۔

وَعَن زيد بن حَارِثَة عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَاهُ فِي أَوَّلِ مَا أُوحِيَ إِلَيْهِ فَعَلَّمَهُ الْوُضُوءَ وَالصَّلَاةَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الْوُضُوءِ أَخَذَ غُرْفَةً مِنَ الْمَاءِ فَنَضَحَ بِهَا فَرْجَهُ» . رَوَاهُ أَحْمد وَالدَّارَقُطْنِيّ

زید بن حارثہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ’’ جب جبرائیل پہلی مرتبہ ان کے پاس وحی لے کر آئے تو انہوں نے آپ کو وضو اور نماز سکھائی ، جب وضو سے فارغ ہوئے تو چلو میں پانی لیا اور اسے اپنی شرم گاہ پر چھڑک دیا ۔‘‘ ضعیف ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جَاءَنِي جِبْرِيلُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَانْتَضِحْ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي الْبُخَارِيَّ يَقُولُ: الْحَسَنُ بْنُ عَليّ الْهَاشِمِي الرَّاوِي مُنكر الحَدِيث

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جبریل میرے پاس آئے تو انہوں نے کہا : محمد ﷺ جب آپ وضو کریں تو (اس کے بعد شرم گاہ پر) پانی چھڑک لیا کریں ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اور میں نے محمد یعنی امام بخاری ؒ سے سنا کہ حسن بن علی الہاشمی راوی منکر الحدیث ہے ۔ ضعیف ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: بَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ عُمَرُ خَلْفَهُ بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَقَالَ: مَا هَذَا يَا عمر؟ قَالَ: مَاءٌ تَتَوَضَّأُ بِهِ. قَالَ: مَا أُمِرْتُ كُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ وَلَوْ فَعَلْتُ لَكَانَتْ سُنَّةً «.» رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے پیشاب کیا تو عمر ؓ پانی کا لوٹا لیے آپ کے پیچھے کھڑے تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عمر ! یہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : پانی ہے ، آپ اس سے وضو فرمائیں گے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ جب میں پیشاب کروں تو وضو بھی کروں ۔ اگر میں ایسا کروں تو یہ سنت بن جائے گی ۔‘‘ ضعیف ۔

وَعَن أبي أَيُّوب وَجَابِر وَأنس: أَن هَذِه الْآيَة نَزَلَتْ (فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يحب المطهرين) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَثْنَى عَلَيْكُمْ فِي الطَّهُورِ فَمَا طَهُورُكُمْ قَالُوا نَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ وَنَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ وَنَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ قَالَ فَهُوَ ذَاك فعليكموه» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه

ابوایوب ، جابر اور انس ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت :’’ اس میں ایسے لوگ ہیں جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ پاک صاف رہیں ، اور اللہ پاک صاف رہنے والوں کو پسند کرتا ہے :‘‘ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ انصار کی جماعت ! اللہ نے پاکیزگی کے بارے میں تمہاری تعریف کی ہے ، تمہاری پاکیزگی کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : ہم ہر نماز کے لیے وضو کرتے ہیں ، غسل جنابت کرتے ہیں اور پانی سے استنجا کرتے ہیں ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ پس یہی وجہ ہے ، چنانچہ تم اس کی پابندی کرو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔

وَعَن سلمَان قَالَ قَالَ لَهُ بعض الْمُشْركين وَهُوَ يستهزئ بِهِ إِنِّي لأرى صَاحبكُم يعلمكم كل شَيْء حَتَّى الخراءة قَالَ أَجَلْ أَمَرَنَا أَنْ لَا نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا وَلَا نَكْتَفِيَ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ وَلَا عَظْمٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأحمد وَاللَّفْظ لَهُ

سلمان ؓ بیان کرتے ہیں ، کسی مشرک نے ازراہ مذاق کہا : میرا خیال ہے تمہارا ساتھی (رسول اللہ ﷺ) تمہیں بول و براز کے آداب بھی سکھاتا ہے ، میں نے کہا : ہاں بالکل ٹھیک ہے ، آپ ﷺ نے یہی حکم دیا ہے کہ ہم بول و براز کے وقت قبلہ کی طرف منہ کریں نہ دائیں ہاتھ سے استنجا کریں اور ہم (استنجا کے لیے) تین ڈھیلوں سے کم استعمال نہ کریں ، اور ان میں لید اور ہڈی نہ ہو ۔‘‘ اسے مسلم اور احمد نے روایت کیا ہے مذکورہ الفاظ احمد کے ہیں ۔ رواہ مسلم و احمد ۔

وَعَن عبد الرَّحْمَن بن حَسَنَةَ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَده كَهَيئَةِ الدَّرَقَةُ فَوَضَعَهَا ثُمَّ جَلَسَ فَبَالَ إِلَيْهَا فَقَالَ بَعْضُهُمْ: انْظُرُوا إِلَيْهِ يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ فَسَمعهُ فَقَالَ أَو مَا عَلِمْتَ مَا أَصَابَ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانُوا إِذا أَصَابَهُم شَيْء من الْبَوْلُ قَرَضُوهُ بِالْمَقَارِيضِ فَنَهَاهُمْ فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

عبدالرحمن بن حسنہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ کے ہاتھ میں چمڑے کی ڈھال تھی ، آپ نے اسے رکھا ، پھر بیٹھ کر اس کی طرف رخ کر کے پیشاب کیا ، تو ان میں سے کسی نے کہا : انہیں دیکھو ، کیسے عورت کی طرح (چھپ کر) پیشاب کر رہے ہیں ، نبی ﷺ نے اس کی بات سن لی ، اور فرمایا :’’ تم پر افسوس ہے ، کیا تم اس سے باخبر نہیں جو بنی اسرائیل کے ایک ساتھی کے ساتھ ہوا کہ جب انہیں پیشاب لگ جاتا تو وہ اس حصے کو قینچی سے کاٹ دیا کرتے تھے ۔ چنانچہ اس شخص نے ان کو منع کر دیا جس کی وجہ سے اسے اس کی قبر میں عذاب دیا گیا ۔‘‘ ضعیف ۔

وَرَوَاهُ النَّسَائِيّ عَنهُ عَن أبي مُوسَى

امام نسائی نے یہ روایت ان (عبدالرحمن بن حسنہ ؓ) کی سند سے ابوموسیٰ ؓ سے روایت کی ہے ۔ ضعیف ۔

عَن مَرْوَان الْأَصْفَر قَالَ: «رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ثُمَّ جَلَسَ يَبُولُ إِلَيْهَا فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَلَيْسَ قَدْ نُهِيَ عَنْ هَذَا قَالَ بلَى إِنَّمَا نُهِيَ عَنْ ذَلِكَ فِي الْفَضَاءِ فَإِذَا كَانَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ شَيْءٌ يَسْتُرُكَ فَلَا بَأْس» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

مروان اصفر ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے ابن عمر ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی سواری کو قبلہ رخ بٹھایا ۔ پھر اس کے رخ بیٹھ کر پیشاب کیا ، میں نے عرض کیا : ابوعبدالرحمن ! کیا اس سے منع نہیں کیا گیا ؟ انہوں نے فرمایا : (نہیں) بلکہ صرف کھلی ٖفضا میں اس سے منع کیا گیا ہے ۔ اگر تمہارے اور قبلہ کے مابین کوئی ایسی چیز ہو جو تمہارے لیے پردہ ہو تو پھر (قبلہ رخ پیشاب کرنے میں) کوئی حرج نہیں ۔‘‘ ضعیف ۔