جابر بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب شیطان نماز کے لیے اذان سنتا ہے تو وہ مقام روحاء تک بھاگ جاتا ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، روحاء مدینہ سے چھتیس میل کی مسافت پر ہے ۔ رواہ مسلم ۔
علقمہ بن وقاص ؒ بیان کرتے ہیں ، میں معاویہ ؓ کے پاس تھا ، جب ان کے مؤذن نے اذان کہی تو معاویہ ؓ نے بھی اپنے مؤذن کے کلمات کہے حتیٰ کہ جب اس نے کہا : اؤ نماز کی طرف ، تو انہوں نے کہا : ((لا حول ولا قوۃ الا باللہ))’’ گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا محض اللہ کی توفیق سے ممکن ہے ۔‘‘ پس جب اس نے کہا : ((حی علی الفلاح)) تو انہوں نے کہا : ((لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم)) اور اس کے بعد جیسے مؤذن نے کہا ، ویسے ہی انہوں نے کہا ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا ، آپ ﷺ نے ایسے ہی فرمایا ۔ صحیح ، رواہ احمد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ۔ بلال ؓ کھڑے ہو کر اذان دینے لگے ، چنانچہ جب وہ خاموش ہو گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص خلوص دل سے یہ کلمات کہے گا وہ جنت میں داخل ہو گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب نبی ﷺ مؤذن کو اللہ کے معبود ہونے اور محمد ﷺ کے رسول ہونے کی گواہی دیتے ہوئے سنتے تو فرماتے :’’ اور میں بھی ، اور میں بھی (گواہی دیتا ہوں)۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن عمر ؓ سے سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص بارہ سال اذان دے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے ، اور اس کی اذان کی وجہ سے اس کے حق میں یومیہ ساٹھ نیکیاں اور ہر اقامت کے بدلے تیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
وَعَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُؤْمَرُ بِالدُّعَاءِ عِنْدَ أَذَانِ الْمغرب. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، اذان مغرب کے وقت ہمیں دعا کرنے کا حکم دیا جاتا تھا ۔ ضعیف ۔