مشکوۃ

Mishkat

نماز کا بیان

اذان دینے اور اذان کا جواب دینے کی فضیلت

بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ وَإِجَابَةِ الْمُؤَذِّنِ

عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ ذَهَبَ حَتَّى يَكُونَ مَكَانَ الرَّوْحَاءِ» . رَوَاهُ مُسلم

جابر بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب شیطان نماز کے لیے اذان سنتا ہے تو وہ مقام روحاء تک بھاگ جاتا ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، روحاء مدینہ سے چھتیس میل کی مسافت پر ہے ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ: (إِنِّي لَعِنْدَ مُعَاوِيَةَ إِذْ أَذَّنَ مُؤَذِّنُهُ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ كَمَا قَالَ مُؤَذِّنُهُ حَتَّى إِذَا قَالَ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ: قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فَلَمَّا قَالَ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ وَقَالَ بَعْدَ ذَلِكَ مَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ ذَلِك. رَوَاهُ أَحْمد

علقمہ بن وقاص ؒ بیان کرتے ہیں ، میں معاویہ ؓ کے پاس تھا ، جب ان کے مؤذن نے اذان کہی تو معاویہ ؓ نے بھی اپنے مؤذن کے کلمات کہے حتیٰ کہ جب اس نے کہا : اؤ نماز کی طرف ، تو انہوں نے کہا : ((لا حول ولا قوۃ الا باللہ))’’ گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا محض اللہ کی توفیق سے ممکن ہے ۔‘‘ پس جب اس نے کہا : ((حی علی الفلاح)) تو انہوں نے کہا : ((لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم)) اور اس کے بعد جیسے مؤذن نے کہا ، ویسے ہی انہوں نے کہا ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا ، آپ ﷺ نے ایسے ہی فرمایا ۔ صحیح ، رواہ احمد ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ بِلَالٌ يُنَادِي فَلَمَّا سَكَتَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ مِثْلَ هَذَا يَقِينا دخل الْجنَّة» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ۔ بلال ؓ کھڑے ہو کر اذان دینے لگے ، چنانچہ جب وہ خاموش ہو گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص خلوص دل سے یہ کلمات کہے گا وہ جنت میں داخل ہو گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ يَتَشَهَّدُ قَالَ: «وَأَنَا وَأَنَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب نبی ﷺ مؤذن کو اللہ کے معبود ہونے اور محمد ﷺ کے رسول ہونے کی گواہی دیتے ہوئے سنتے تو فرماتے :’’ اور میں بھی ، اور میں بھی (گواہی دیتا ہوں)۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَذَّنَ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَكُتِبَ لَهُ بِتَأْذِينِهِ فِي كُلِّ يَوْمٍ سِتُّونَ حَسَنَةً وَلِكُلِّ إِقَامَة ثَلَاثُونَ حَسَنَة» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه

ابن عمر ؓ سے سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص بارہ سال اذان دے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے ، اور اس کی اذان کی وجہ سے اس کے حق میں یومیہ ساٹھ نیکیاں اور ہر اقامت کے بدلے تیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں ۔‘‘ ضعیف ۔

وَعَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُؤْمَرُ بِالدُّعَاءِ عِنْدَ أَذَانِ الْمغرب. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، اذان مغرب کے وقت ہمیں دعا کرنے کا حکم دیا جاتا تھا ۔ ضعیف ۔