مشکوۃ

Mishkat

نماز کا بیان

رکوع کا بیان

بَاب الرُّكُوع

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَقِيمُوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَرَاكُمْ من بعدِي»

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ رکوع و سجود مکمل کیا کرو ، اللہ کی قسم ! میں تمہیں اپنے پیچھے بھی دیکھتا ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: كَانَ رُكُوعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُجُودُهُ وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ وَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ مَا خَلَا الْقيام وَالْقعُود قَرِيبا من السوَاء

براء بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ کا رکوع ، آپ کے سجود ، سجدوں کے درمیان بیٹھنا (جلسہ استراحت) اور جب آپ رکوع سے کھڑے ہوتے (قومہ) تو قیام و تشہد کے علاوہ یہ سب تقریباً برابر تھے ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» قَامَ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ أَوْهَمَ ثُمَّ يَسْجُدُ وَيَقْعُدُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ أوهم. رَوَاهُ مُسلم

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ جب ((سمع اللہ لمن حمدہ)) کہتے تو آپ کھڑے رہتے حتیٰ کہ ہم (دل میں) کہتے کہ آپ کو وہم ڈال دیا گیا ہے ، پھر آپ سجدہ کرتے اور آپ دو سجدوں کے درمیان بیٹھتے حتیٰ کہ ہم (دل میں) کہتے کہ آپ کو وہم ڈال دیا گیا ہے ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي» يَتَأَوَّلُ الْقُرْآن

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ اپنے رکوع و سجود میں کثرت کے ساتھ یہ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے ہمارے پروردگار ! تو پاک ہے ، ہم تیری تعریف بیان کرتے ہیں ، اے اللہ ! مجھے بخش دے ‘‘، آپ ﷺ قرآن پر عمل کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: «سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رب الْمَلَائِكَة وَالروح» . رَوَاهُ مُسلم

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اپنے رکوع و سجود میں یہ دعا کیا کرتے تھے :’’ (میرا رکوع و سجود اس ذات کے لیے ہے جو) فرشتوں اور جبریل ؑ کا رب نہایت پاک و مقدس ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ» . رَوَاهُ مُسلم

عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے ، رہا رکوع تو اس میں رب کی عظمت بیان کرو ، اور رہے سجود تو ان میں خوب دعا کرو ، پس تمہاری دعا قبولیت کے لائق ہو گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قَالَ الْإِمَامُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تقدم من ذَنبه

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب امام ’’ سمع اللہ لمن حمدہ ‘‘ کہے تو تم کہو :’’ اللھم ربنا لک الحمد ‘‘ کیونکہ جس کا یہ قول فرشتوں کے قول کے موافق ہو گیا تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ ظَهْرَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ من شَيْء بعد» . رَوَاهُ مُسلم

عبداللہ بن ابی اوفی ؓبیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ رکوع سے اپنی کمر اٹھاتے تو آپ یہ دعا پڑھتے :’’ اللہ نے سن لیا جس نے اس کی تعریف کی ، اے اللہ ! ہمارے رب ! ساری تعریف تیرے ہی لیے ہے آسمانوں ، زمین اور ہر اس چیز کے بھراؤ کے برابر جو تو چاہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ: «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ أَهْلُ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجد» . رَوَاهُ مُسلم

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ رکوع سے سر اٹھاتے تو آپ یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! ہمارے رب ! ہر قسم کی تعریف تیرے لیے ہے ، آسمانوں اور زمین اور ہر اس چیز کے بھراؤ کے برابر جو تو چاہے اور بندے نے جو تیری تعریف اور شان بیان کی وہ تیرے ہی لائق ہے ، ہم سب تیرے ہی بندے ہیں ، اے اللہ ! جو چیز تو عطا کر دے اسے کوئی روکنے والا نہیں ، جس چیز کو تو روک لے اسے کوئی عطا کرنے والا نہیں ، اور دولت مند کی دولت ، تیرے ہاں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي وَرَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ قَالَ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» . فَقَالَ رَجُلٌ وَرَاءَهُ: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «مَنِ الْمُتَكَلِّمُ آنِفًا؟» قَالَ: أَنَا. قَالَ: «رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلَاثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبهَا أول» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

رفاعہ بن رافع ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نبی ﷺ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے ، پس جب آپ ﷺ نے رکوع سے سر اٹھایا تو فرمایا :’’ سمع اللہ لمن حمدہ ۔‘‘ آپ کے پیچھے ایک آدمی نے کہا : ہمارے رب ! تیرے ہی واسطے تعریف ہے ، بہت زیادہ پاکیزہ اور با برکت تعریف ۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا :’’ ابھی بولنے والا کون تھا ؟‘‘ اس آدمی نے کہا : میں ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے تیس سے زائد فرشتوں کو دیکھا کہ وہ جلدی کر رہے تھے کہ ان کا ثواب سب سے پہلے کون لکھتا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

عَنْ أَبِي مَسْعُودِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُجْزِئُ صَلَاةُ الرَّجُلِ حَتَّى يُقِيمَ ظَهْرَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

ابومسعود انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تک آدمی رکوع و سجود میں اپنی کمر مکمل طور پر برابر نہیں کرتا اس کی نماز درست نہیں ہوتی ۔‘‘ ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ ، دارمی ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحیح ۔

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ (فسبح باسم رَبك الْعَظِيم) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْعَلُوهَا فِي رُكُوعِكُمْ» فَلَمَّا نَزَلَتْ (سَبِّحِ اسْمَ رَبك الْأَعْلَى) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْعَلُوهَا فِي سُجُودِكُمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْن مَاجَه والدارمي

عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب (فسبح باسم ربک العظیم) نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے اپنے رکوع میں پڑھا کرو ۔‘‘ اور جب (سبح اسم ربک الاعلیٰ) نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے اپنے سجدوں میں پڑھا کرو ۔‘‘ صحیح ، ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔

وَعَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ فَقَالَ فِي رُكُوعِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَدْ تَمَّ رُكُوعُهُ وَذَلِكَ أَدْنَاهُ وَإِذَا سَجَدَ فَقَالَ فِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَدْ تَمَّ سُجُودُهُ وَذَلِكَ أَدْنَاهُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد ابْن مَاجَهْ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ لِأَنَّ عونا لم يلق ابْن مَسْعُود

عون بن عبداللہ ؒ ابن مسعود ؓ سے بیان کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی ایک رکوع کرتا ہے اور اپنے رکوع میں تین مرتبہ ((سبحان ربی العظیم)) پڑھتا ہے تو اپنا رکوع مکمل کر لیتا ہہے ، اور یہ اس کا کم از کم درجہ ہے ، اور جب وہ سجدہ کرتا ہے اور اپنے سجدوں میں تین مرتبہ ((سبحان ربی الاعلیٰ)) پڑھ لیتا ہے تو وہ اپنا سجدہ مکمل کر لیتا ہے ، اور یہ (تعداد) اس کا کم از کم درجہ ہے ۔ ترمذی ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ۔ امام ترمذی ؒ نے فرمایا : اس کی سند متصل نہیں ، کیونکہ عون کی ابن مسعود ؓ سے ملاقات نہیں ہوئی ۔ ضعیف ۔

وَعَنْ حُذَيْفَةَ: أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» وَفِي سُجُودِهِ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» . وَمَا أَتَى عَلَى آيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ وَسَأَلَ وَمَا أَتَى عَلَى آيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ وَتَعَوَّذَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَرَوَى النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ إِلَى قَوْلِهِ: «الْأَعْلَى» . وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

حذیفہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ، آپ اپنے رکوع میں ((سبحان ربی العظیم)) اور سجود میں ((سبحان ربی الاعلیٰ)) پڑھا کرتے تھے ، جب آپ کسی آیت رحمت پر پہنچے تو وقف فرما کر رحمت طلب کرتے اور جب کسی آیت عذاب پر پہنچتے تو وقف فرما کر اللہ کی پناہ طلب کرتے ۔ ترمذی ، ابوداؤد ، دارمی ، اور نسائی و ابن ماجہ نے ((الاعلیٰ)) تک روایت کیا ، اور امام ترمذی ؒ نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحیح ۔

عَن عَوْف بن مَالك قَالَ: قُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَكَعَ مَكَثَ قَدْرَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَيَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: «سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ والملكوت والكبرياء وَالْعَظَمَة» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ

عوف بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (حالت نماز میں) قیام کیا ، جب آپ ﷺ نے رکوع کیا تو سورۃ البقرہ کی قراءت کے برابر رکوع میں رہے اور یہ دعا کرتے رہے :’’ قہرو غلبے ، بادشاہت و کبریائی اور عظمت والا رب پاک ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی ۔

وَعَنِ ابْنً جُبَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْبَهَ صَلَاةً بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْفَتَى يَعْنِي عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ: فَحَزَرْنَا رُكُوعَهُ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ وَسُجُودَهُ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

ابن جبی ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے انس بن مالک ؓ کو بیان کرتے ہوئے سنا : میں نے رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی ایسے شخص کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جس کی نماز ، اس نوجوان یعنی عمر بن عبدالعزیز کے سوا ، رسول اللہ ﷺ کی نماز کے مشابہ ہو ، راوی نے کہا ، انس ؓ نے فرمایا : ہم نے آپ ﷺ کے رکوع و سجود کی تسبیحات کا اندازہ دس دس مرتبہ کا لگایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

وَعَن شَقِيق قَالَ: إِنَّ حُذَيْفَةَ رَأَى رَجُلًا لَا يُتِمُّ رُكُوعَهُ وَلَا سُجُودَهُ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ: مَا صَلَّيْتَ. قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: وَلَوْ مِتَّ مِتَّ عَلَى غَيْرِ الْفِطْرَةِ الَّتِي فطر الله مُحَمَّدًا صلى الله عَلَيْهِ وَسلم. رَوَاهُ البُخَارِيّ

شقیق ؒ بیان کرتے ہیں ، حذیفہ ؓ نے ایک آدمی کو نا مکمل رکوع و سجود کرتے ہوئے دیکھا ، جب وہ نماز پڑھ چکا تو انہوں نے اسے بلایا ، حذیفہ ؓ نے اسے فرمایا : تم نے نماز نہیں پڑھی ، راوی بیان کرتے ہیں ، میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا : اگر تم (اسی طرح) فوت ہو جاتے تو تم اس فطرت و ملت پر فوت نہ ہوتے جس پر اللہ نے محمد ﷺ کو پیدا فرمایا ۔ رواہ البخاری ۔

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْوَأُ النَّاسِ سَرِقَةً الَّذِي يَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِهِ» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِهِ؟ قَالَ: لَا يتم ركوعها وَلَا سجودها . رَوَاهُ أَحْمد

ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سب سے برا چور وہ ہے جو اپنی نماز کی چوری کرتا ہے ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! وہ اپنی نماز کی چوری کیسے کرتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ اس کا رکوع و سجود مکمل نہیں کرتا ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد ۔

وَعَن النُّعْمَان بن مرّة أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا تَرَوْنَ فِي الشَّارِبِ وَالزَّانِي وَالسَّارِقِ؟ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تُنْزَلَ فِيهِمُ الْحُدُودُ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «هُنَّ فَوَاحِشُ وَفِيهِنَّ عُقُوبَةٌ وَأَسْوَأُ السَّرِقَةِ الَّذِي يَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِهِ» . قَالُوا: وَكَيف يسرق م صَلَاتِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «لَا يُتِمُّ ركوعها وَلَا سجودها» . رَوَاهُ مَالك وَأحمد وروى الدَّارمِيّ نَحوه

نعمان بن مرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم شراب نوش ، زانی اور چور کے بارے میں کیا گمان کرتے ہو ؟‘‘ راوی کہتے ہیں ، یہ ان کے بارے حدود نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے ، صحابہ نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ کبیرہ گناہ ہیں اور ان پر سزا ہے ، اور سب سے بڑی چوری وہ ہے جو اپنی نماز کی چوری کرتا ہے ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ اپنی نماز کی کیسے چوری کرتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ اس کا رکوع و سجود مکمل نہیں کرتا ۔‘‘ مالک ، احمد ، جبکہ دارمی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ ضعیف ۔