مشکوۃ

Mishkat

نماز کا بیان

تشہد کی دعا کا بیان

بَاب الدُّعَاء فِي التَّشَهُّد

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ اللَّهُمَّ إِنِّي أعوذ بك من المأثم والمغرم» فَقَالَ لَهُ قَائِل مَا أَكثر مَا تستعيذ من المغرم يَا رَسُول الله فَقَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ»

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نماز میں یہ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں عذاب قبر اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، میں موت و حیات کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، اے اللہ ! میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ کسی نے آپ ﷺ سے کہا : آپ قرض سے اس قدر کیوں پناہ طلب کرتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیونکہ جب آدمی مقروض ہوتا ہے تو وہ بات کرتے ہوئے جھوٹ بولتا ہے ، اور جب وعدہ کرتا ہے تو خلاف ورزی کرتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي قَالَ: «قُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عنْدك وارحمني إِنَّك أَنْت الغفور الرَّحِيم»

ابوبکر صدیق ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے کوئی دعا سکھائیں جو میں اپنی نماز میں کیا کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کہو ، اے اللہ ! بے شک میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا ہے ، تیرے سوا گناہوں کو کوئی نہیں بخش سکتا ، سو اپنی جناب سے مجھے بخش دے ، اور مجھ پر رحم فرما ، بے شک تو ہی بخشنے والا مہربان ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنْتُ أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى أرى بَيَاض خَدّه. رَوَاهُ مُسلم

عامر بن سعد ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں رسول اللہ ﷺ کو دائیں بائیں سلام پھیرتے ہوئے دیکھتا تھا حتیٰ کہ میں آپ کے رخسار کی سفیدی بھی دیکھتا تھا ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى أَقْبَلَ علينا بِوَجْهِهِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوتے تو آپ اپنا چہرہ مبارک ہماری طرف کر لیتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ (سلام پھیرنے کے بعد) اپنی دائیں طرف سے رخ بدلتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَا يَجْعَلْ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِهِ يَرَى أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرًا يَنْصَرِفُ عَن يسَاره

عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز سے شیطان کے لیے حصہ نہ بنائے او اس طرح کہ وہ سمجھے کہ (سلام پھیرنے کے بعد) صرف دائیں طرف ہی سے رخ بدلے گا ، حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ اکثر اپنی بائیں جانب سے پھرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ سَوَّلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْبَبْنَا أَنْ نَكُونَ عَنْ يَمِينِهِ يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ أَو تجمع عِبَادك» . رَوَاهُ مُسلم

براء ؓ بیان کرتے ہیں ، جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہم آپ کے دائیں جانب کھڑا ہونا پسند کرتے تھے ، (کیونکہ) آپ ہماری طرف چہرہ مبارک کیا کرتے تھے ۔ نیز فرمایا : میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میرے رب ! مجھے اس روز ، جب تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا ، اپنے عذاب سے بچانا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَن أم سَلمَة قَالَتْ: إِنَّ النِّسَاءَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ إِذَا سَلَّمْنَ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ قُمْنَ وَثَبَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ صَلَّى مِنَ الرِّجَالِ مَا شَاءَ اللَّهُ فَإِذَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ الرِّجَالُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ فِي بَاب الضحك إِن شَاءَ الله تَعَالَى

ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے دور میں جب خواتین فرض نماز سے سلام پھیرتیں تو وہ کھڑی ہو (کر فوراً چلی) جاتیں ، جبکہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والے صحابہ ، جب تک اللہ چاہتا ، بیٹھے رہتے ، پس جب رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوتے تو پھر صحابہ کرام ؓ بھی کھڑے ہوتے ۔ رواہ البخاری ۔ ہم جابر بن سمرہ ؓ سے مروی حدیث ان شاء اللہ ’’ باب الضحک ‘‘ میں ذکر کریں گے ۔

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: أَخَذَ بِيَدِي رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فَقَالَ: «إِنِّي لَأُحِبُّكَ يَا مُعَاذُ» . فَقُلْتُ: وَأَنَا أُحِبُّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: فَلَا تَدَعْ أَنْ تَقُولَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ: رَبِّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ إِلَّا أَنَّ أَبَا دَاوُدَ لَمْ يَذْكُرْ: قَالَ معَاذ وَأَنا أحبك

معاذ بن جبل بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :’’ معاذ ! میں تم سے محبت کرتا ہوں ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا ترک نہ کرنا : میرے رب ! اپنے ذکر و شکر اور اپنی بہترین خالص عبادت کرنے پر میری مدد فرما ۔‘‘ صحیح ۔ احمد ، ابوداؤد ، نسائی ، البتہ ابوداؤد نے ’’قال معاذ : وانا احبک‘‘ کے الفاظ ذکر نہیں کیے ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ الْأَيْمَنِ وَعَنْ يَسَارِهِ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ الْأَيْسَرِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ وَالتِّرْمِذِيّ وَلَمْ يَذْكُرِ التِّرْمِذِيُّ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ

عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ((السلام علیکم و رحمۃ اللہ)) کہتے ہوئے دائیں طرف سلام پھیرتے حتیٰ کہ آپ کے دائیں رخسار کی سفیدی نظر آ جاتی ، اور ((السلام علیکم و رحمۃ اللہ)) کہتے ہوئے بائیں طرف سلام پھیرتے حتیٰ کہ آپ کے بائیں رخسار کی سفیدی نظر آ جاتی ۔‘‘ ابوداؤد ، نسائی ، ترمذی ، البتہ امام ترمذی نے ((حتیٰ یرٰی بیاض خدہ)) کا ذکر نہیں کیا ۔ صحیح ۔

وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ

ابن ماجہ نے عمار بن یاسر ؓ سے اسے روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔

وَعَن عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ عَنِ الْمُغِيرَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُصَلِّي الْإِمَامُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ حَتَّى يتَحَوَّل» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَقَالَ عَطاء الخرساني لم يدْرك الْمُغيرَة

عطاء خراسانی ؒ مغیرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ امام اس جگہ جہاں اس نے (فرض) نماز پڑھی ہے ، (نفل) نماز نہ پڑھے حتیٰ کہ جگہ بدل لے ۔‘‘ ابوداؤد ، اور انہوں نے فرمایا : عطا خراسانی کی مغیرہ ؓ سے ملاقات ثابت نہیں ۔ ضعیف ۔

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَضَّهُمْ عَلَى الصَّلَاةِ وَنَهَاهُمْ أَنْ يَنْصَرِفُوا قَبْلَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلَاةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے انہیں نماز پر ترغیب دلائی اور آپ نے انہیں آپ کے (ان کی طرف پھرنے) سے پہلے اٹھ کر جانے سے منع فرمایا ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَن شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسأَلك الثَّبَات فِي الْأَمر والعزيمة عَلَى الرُّشْدِ وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ وَأَسْأَلُكَ قَلْبًا سَلِيمًا وَلِسَانًا صَادِقًا وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وروى أَحْمد نَحوه

شداد بن اوس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ اپنی نماز میں یہ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں دین کے معاملے میں ثابت قدمی ، رشدو ہدایت پر عزیمت ، تیری نعمت پر شکر اور تیری بہترین اور خالص عبادت کرنے کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، میں تجھ سے قلب سلیم اور زبان صادق کا سوال کرتا ہوں ، میں اس خیرو بھلائی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں جسے تو جانتا ہے ، اور ہر اس شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جسے تو جانتا ہے ، اور ان گناہوں سے جسے تو جانتا ہے تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ۔‘‘ نسائی ، امام احمد نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ النسائی ۔

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ بَعْدَ التَّشَهُّدِ: «أَحْسَنُ الْكَلَامِ كَلَامُ اللَّهِ وَأَحْسَنُ الْهَدْيِ هدي مُحَمَّد» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ اپنی نماز میں تشہد کے بعد یہ کہا کرتے تھے :’’ بہترین کلام اللہ کا کلام ہے اور سب سے بہترین طریقہ محمد (ﷺ) کا طریقہ ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُول الله صلى يُسَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ تَسْلِيمَةً تِلْقَاءَ وَجْهِهِ ثُمَّ تميل إِلَى الشق الْأَيْمن شَيْئا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نماز میں اپنے چہرے کے سامنے سے ایک سلام پھیرتے پھر تھوڑا سا اپنی دائیں جانب جھک جاتے تھے ۔ ضعیف ۔

وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَرُدَّ عَلَى الْإِمَامِ وَنَتَحَابَّ وَأَنْ يُسَلِّمَ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم امام کے سلام کا جواب دیں ، باہم محبت کریں اور ایک دوسرے کو سلام کریں ۔ ضعیف ۔