مشکوۃ

Mishkat

نماز کا بیان

دوران نماز نا جائز اور مباح اعمال کا بیان

بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ

وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَفَعَهُ قَالَ: «الْعُطَاسُ وَالنُّعَاسُ وَالتَّثَاؤُبُ فِي الصَّلَاةِ وَالْحَيْضُ وَالْقَيْءُ وَالرُّعَافُ مِنَ الشَّيْطَانِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

عدی بن ثابت اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے مرفوع روایت کرتے ہیں ، فرمایا :’’ دوران نماز چھینکیں ، اونگھ ، جمائی ، حیض ، قے کا آنا نیز نکسیر کا پھوٹنا شیطان کی طرف سے ہے ۔‘‘ ضعیف ۔

وَعَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي وَلِجَوْفِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الْمِرْجَلِ يَعْنِي: يَبْكِي وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَفِي صَدْرِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الرَّحَا مِنَ الْبُكَاءِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرَوَى النَّسَائِيُّ الرِّوَايَةَ الْأُولَى وَأَبُو دَاوُدَ الثَّانِيَة

مطرف بن عبداللہ بن شخیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نماز پڑھ رہے تھے تو رونے کی وجہ سے آپ کے پیٹ سے ہنڈیاں کے ابلنے کی سی آواز آ رہی تھی ۔ ایک دوسری روایت میں ہے : میں نے نبی ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو رونے کی وجہ سے آپ کے سینے میں چکی چلنے کی سی آواز آ رہی تھی ۔ احمد ، اور امام نسائی نے پہلی روایت کی ہے اور امام ابوداؤد نے دوسری ۔ صحیح ۔

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَا يَمْسَحِ الْحَصَى فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ» . رَوَاهُ أَحَمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو تو وہ کنکریوں کو ہاتھ نہ لگائے کیونکہ اس وقت اسے رحمت کا سامنا ہوتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔

وَعَن أم سَلمَة قَالَتْ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا لَنَا يُقَالُ لَهُ: أَفْلَحُ إِذَا سَجَدَ نَفَخَ فَقَالَ: «يَا أَفْلَحُ تَرِّبْ وَجْهَكَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ نے ہمارے افلح نامی غلام کو دیکھا کہ جب وہ سجدہ کرتا تو پھونک مارتا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ افلح ! اپنے چہرے کو مٹی لگنے دو ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْتُلُوا الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ الْحَيَّةَ وَالْعَقْرَبَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَلِلنَّسَائِيِّ مَعْنَاهُ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دو سیاہ چیزوں ، سانپ اور بچھو کو قتل کر دو خواہ (تم) نماز میں ہو ۔‘‘ احمد ، ابوداؤد ترمذی اور نسائی کی روایت اسی معنی میں ہے ۔ صحیح ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي تَطَوُّعًا وَالْبَابُ عَلَيْهِ مُغْلَقٌ فَجِئْتُ فَاسْتَفْتَحْتُ فَمَشَى فَفَتَحَ لِي ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مُصَلَّاهُ وَذَكَرْتُ أَنَّ الْبَابَ كَانَ فِي الْقِبْلَةِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ وروى النَّسَائِيّ نَحوه

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ دروازہ بند کر کے نفل ادا کر رہے تھے ، میں آئی تو میں نے دروازہ کھولنے کی درخواست کی ، آپ چل کر آئے اور میرے لیے دروازہ کھول کر پھر اپنی جائے نماز پر واپس چلے گئے ، اور عائشہ ؓ نے ذکر کیا کہ دروازہ قبلہ کی سمت تھا ۔ احمد ، ابوداؤد ، ترمذی ، اور نسائی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ ضعیف ۔

وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا فَسَا أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَتَوَضَّأْ وَلْيُعِدِ الصَّلَاةَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى التِّرْمِذِيّ مَعَ زِيَادَة ونقصان

طلق بن علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی کی دوران نماز ہوا خارج ہو جائے تو وہ جا کر وضو کرے اور آ کر نماز دہرائے ۔‘‘ ابوداؤد ، ترمذی نے الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أحدث أدكم فِي صَلَاتِهِ فَلْيَأْخُذْ بِأَنْفِهِ ثُمَّ لِيَنْصَرِفْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی شخص کا دوران نماز وضو ٹوٹ جائے تو وہ اپنی ناک پکڑ کر وہاں سے باہر نکل جائے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أحدث أدكم وَقَدْ جَلَسَ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ فَقَدْ جَازَتْ صَلَاتُهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَقَدِ اضْطَرَبُوا فِي إِسْنَاده

عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی شخص کا وضو ٹوٹ جائے جبکہ وہ سلام پھیرنے سے پہلے ، نماز کے آخر میں بیٹھا ہو ، تو اس کی نماز پوری ہو گئی ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : اس حدیث کی اسناد قوی نہیں ، انہوں (یعنی محدثین) نے اس کی اسناد کو مضطرب قرار دیا ہے ۔ ضعیف ۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَمَّا كَبَّرَ انْصَرَفَ وَأَوْمَأَ إِلَيْهِمْ أَنْ كَمَا كُنْتُمْ. ثُمَّ خَرَجَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ جَاءَ وَرَأَسُهُ يَقْطُرُ فَصَلَّى بِهِمْ. فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: «إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا فنسيت أَن أَغْتَسِل» . رَوَاهُ أَحْمد

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نماز کے لیے تشریف لائے ، چنانچہ آپ نے جب اللہ اکبر کہا تو پھر واپس چلے گئے اور انہیں اشارہ کیا کہ وہ اسی حالت میں رہیں ، پھر آپ گئے ، غسل کیا ، پھر تشریف لائے تو آپ کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے ، آپ ﷺ نے انہیں نماز پڑھائی ، جب نماز پڑھ چکے تو فرمایا :’’ میں جنبی تھا ، اور میں غسل کرنا بھول گیا تھا ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد ۔

وروى مَالك عَن عَطاء بن يسَار نَحوه مُرْسلا

اور امام مالک نے عطاء بن یسار سے مرسل روایت کیا ہے ۔ حسن ۔

وَعَنْ جَابِرِ قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي الظُّهْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فآخذ قَبْضَة من الْحَصَى لتبرد فِي كفي ن أَضَعُهَا لِجَبْهَتِي أَسْجُدُ عَلَيْهَا لِشِدَّةِ الْحَرِّ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وروى النَّسَائِيّ نَحوه

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز ظہر ادا کر رہا تھا ، میں نے کنکریوں کی مٹھی بھری تاکہ وہ میری مٹھی میں ٹھنڈی ہو جائیں ، میں گرمی کی شدت کی وجہ سے ان پر سجدہ کیا کرتا تھا ۔ ابوداؤد ، اور امام نسائی نے بھی اسی کی مثل روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ۔

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ» ثُمَّ قَالَ: «أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ» ثَلَاثًا وَبَسَطَ يَدَهُ كَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ سَمِعْنَاكَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ شَيْئًا لَمْ نَسْمَعْكَ تَقُولُهُ قَبْلَ ذَلِكَ وَرَأَيْنَاكَ بَسَطْتَ يَدَكَ قَالَ: إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ التَّامَّةِ فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ أَخْذَهُ وَاللَّهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا يَلْعَبُ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَة. رَوَاهُ مُسلم

ابودرداء بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھا رہے تھے ، تو ہم نے آپ کو تین مرتبہ یہ کہتے ہوئے سنا :’’ میں تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ میں تجھے اللہ کی لعنت کے ذریعے لعنت بھیجتا ہوں ۔‘‘ اور آپ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا جیسے آپ کوئی چیز پکڑ رہے ہوں ، پس جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم نے آپ کو نماز میں کچھ کہتے ہوئے سنا جو ہم نے اس سے پہلے آپ کو کہتے ہوئے نہیں سنا اور ہم نے آپ کو ہاتھ بڑھاتے ہوئے بھی دیکھا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تاکہ وہ اسے میرے چہرے پر ڈال دے ، تو میں نے تین مرتبہ کہا : میں تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ، پھر میں نے کہا : میں اللہ کی لعنت کامل کے ذریعے تجھ پر لعنت بھیجتا ہوں ، لیکن وہ تینوں مرتبہ پیچھے نہ ہٹا تو پھر میں نے اسے پکڑنے کا ارادہ کیا ، اللہ کی قسم ! اگر ہمارے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح کے وقت یہاں بندھا ہوا ہوتا اور اہل مدینہ کے بچے اس کے ساتھ کھیل رہے ہوتے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَرَدَّ الرَّجُلُ كَلَامًا فَرَجَعَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَقَالَ لَهُ: إِذَا سُلِّمَ عَلَى أَحَدِكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَا يَتَكَلَّمْ وَلْيُشِرْ بِيَدِهِ. رَوَاهُ مَالك

نافع بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر ؓ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہا تھا ، انہوں نے اسے سلام کیا تو اس نے بول کر جواب دیا ، عبداللہ بن عمر ؓ اس کے پاس واپس آئے اور اسے بتایا : جب تم میں سے کسی شخص کو حالت نماز میں سلام کیا جائے تو وہ بول کر جواب نہ دے بلکہ اپنے ہاتھ سے اشارہ کر دے ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔