مشکوۃ

Mishkat

نماز کا بیان

نماز عیدین کا بیان

بَاب صَلَاة الْعِيدَيْنِ

وَعَن جَابر قَالَ: شَهِدْتُ الصَّلَاةِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَامَ مُتَّكِئًا عَلَى بِلَالٍ فَحَمَدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَكَّرَهُمْ وَحَثَّهُمْ على طَاعَته ثمَّ قَالَ: وَمَضَى إِلَى النِّسَاءِ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى الله ووعظهن وذكرهن. رَوَاهُ النَّسَائِيّ

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عید کے روز نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ، تو آپ نے خطبہ سے پہلے اذان و اقامت کے بغیر نماز پڑھی ، جب آپ نماز پڑھ چکے تو آپ ﷺ بلال ؓ پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے ، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، لوگوں کو وعظ و نصیحت کی ، انہیں یاد دہانی کرائی ، اور اپنی اطاعت کی ترغیب دی ، پھر آپ ﷺ بلال ؓ کے ساتھ خواتین کی طرف گئے تو انہیں اللہ کا تقوی اختیار کرنے کا حکم فرمایا اور وعظ و نصیحت کی اور یاد دہانی کرائی ۔ صحیح ، رواہ النسائی ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ فِي طَرِيقٍ رَجَعَ فِي غَيْرِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ والدارمي

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی ﷺ نماز عید کے لیے تشریف لے جاتے تو آپ ایک راستے سے جاتے اور دوسرے راستے سے واپس آتے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔

وَعَن أبي الْحُوَيْرِث أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَهُوَ بِنَجْرَانَ عَجِّلِ الْأَضْحَى وَأَخِّرِ الْفِطْرَ وَذَكِّرِ النَّاسَ. رَوَاهُ الشَّافِعِي

ابوالحویرث ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن حزم ؓ کے نام نجران خط لکھا کہ عید الاضحی کی نماز جلدی پڑھو اور عید الفطر کی نماز دیر سے پڑھو اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کرو ۔ ضعیف ۔

وَعَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَكْبًا جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْهَدُونَ أَنَّهُمْ رَأَوُا الْهِلَالَ بالْأَمْس ن فَأَمرهمْ أَن يفطروا وَإِذا أَصْبحُوا أَن يَغْدُو إِلَى مصلاهم. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

ابوعمیر بن انس اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں ، جنہیں نبی ﷺ کا صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ، کہ کچھ سوار نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے کہا : ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہم نے کل چاند دیکھا تھا ، تو نبی ﷺ نے انہیں روزہ افطار کرنے کا حکم فرمایا ، اور انہیں فرمایا کہ کل عید گاہ پہنچیں ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنِ ابْن عَبَّاس وَجَابِر ابْن عَبْدِ اللَّهِ قَالَا: لَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَلَا يَوْمَ الْأَضْحَى ثُمَّ سَأَلْتُهُ يَعْنِي عَطَاءً بَعْدَ حِينٍ عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرَنِي قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنْ لَا أَذَانَ لِلصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ حِينَ يَخْرُجُ الْإِمَامُ وَلَا بعد مَا يَخْرُجُ وَلَا إِقَامَةَ وَلَا نِدَاءَ وَلَا شَيْءَ لَا نِدَاءَ يَوْمَئِذٍ وَلَا إِقَامَةَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

ابن جریج ؒ بیان کرتے ہیں ، عطاء ؒ نے ابن عباس ؓ اور جابر بن عبداللہ ؓ کے واسطہ سے مجھے بتایا ، انہوں نے فرمایا : عید الفطر اور عید الاضحی کے لیے اذان نہیں کہی جاتی تھی ۔ پھر میں نے کچھ مدت بعد عطاء سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے مجھے بتاتے ہوئے کہا : جابر بن عبداللہ ؓ نے مجھے بتایا کہ نماز عید الفطر کے لیے ، امام کے آنے سے پہلے یا اس کے آنے کے بعد کوئی اذان نہیں ہوتی تھی ، اذان و اقامت والی کوئی چیز ہی نہیں تھی ، اس روز اذان تھی نہ اقامت ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْأَضْحَى ويم الْفِطْرِ فَيَبْدَأُ بِالصَّلَاةِ فَإِذَا صَلَّى صَلَاتَهُ قَامَ فَأقبل عل النَّاسِ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي مُصَلَّاهُمْ فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَة ببعث ذِكْرَهُ لِلنَّاسِ أَوْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِغَيْرِ ذَلِكَ أَمَرَهُمْ بِهَا وَكَانَ يَقُولُ: «تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا» . وَكَانَ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ ثُمَّ ينْصَرف فَلم يزل كَذَلِك حَتَّى كَانَ مَرْوَان ابْن الْحَكَمِ فَخَرَجْتُ مُخَاصِرًا مَرْوَانَ حَتَّى أَتَيْنَا الْمُصَلَّى فَإِذَا كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ قَدْ بَنَى مِنْبَرًا مِنْ طِينٍ وَلَبِنٍ فَإِذَا مَرْوَانُ يُنَازِعُنِي يَدَهُ كَأَنَّهُ يَجُرُّنِي نَحْوَ الْمِنْبَرِ وَأَنَا أَجُرُّهُ نَحْوَ الصَّلَاة فَلَمَّا رَأَيْت ذَلِكَ مِنْهُ قُلْتُ: أَيْنَ الِابْتِدَاءُ بِالصَّلَاةِ؟ فَقَالَ: لَا يَا أَبَا سَعِيدٍ قَدْ تُرِكَ مَا تَعْلَمُ قُلْتُ: كَلَّا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تأتون بِخَير مِمَّا أعلم ثَلَاث مَرَّات ثمَّ انْصَرف. رَوَاهُ مُسلم

ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید الاضحی اور عید الفطر کے لیے تشریف لاتے تو آپ سب سے پہلے نماز پڑھتے ، جب آپ نماز پڑھ لیتے تو آپ کھڑے ہو کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے ، جبکہ لوگ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے ہوتے تھے ، اگر آپ ﷺ نے کوئی لشکر بھیجنا ہوتا تو لوگوں سے اس کا تذکرہ فرماتے ، یا اس کے علاوہ کوئی اور ضرورت ہوتی تو آپ اس کے متعلق انہیں حکم فرماتے ، آپ ﷺ فرماتے :’’ صدقہ کرو ، صدقہ کرو ، صدقہ کرو ۔‘‘ اور خواتین سب سے زیادہ صدقہ کیا کرتی تھیں ، پھر آپ ﷺ گھر تشریف لے جاتے ، یہ معمول ایسے ہی رہا حتیٰ کہ مروان بن حکم کا دور حکومت آیا تو میں مروان کی کمر پر ہاتھ رکھ کر نماز عید کے لیے روانہ ہوا حتیٰ کہ ہم عید گاہ پہنچ گئے ، وہاں دیکھا کہ کثیر بن صلت ؒ نے گارے اور اینٹوں سے ایک منبر تیار کر رکھا تھا ، مروان مجھ سے اپنا ہاتھ کھینچ رہا تھا گویا وہ مجھے منبر کی طرف لے جانا چاہتا تھا جبکہ میں اسے نماز کی طرف لانا چاہتا تھا ، جب میں نے اس کا یہ عزم دیکھا تو میں نے کہا : نماز سے ابتدا کرنا کہاں چلا گیا ؟ اس نے کہا : نہیں ، ابوسعید ! جیسا کہ آپ جانتے ہیں ہ وہ طریقہ متروک ہو چکا ، میں نے کہا : ہرگز نہیں ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میرے علم کے مطابق تم خیرو بھلائی پر نہیں ہو ، انہوں نے تین مرتبہ ایسے ہی فرمایا پھر وہ منبر سے دور چلے گئے ۔ رواہ مسلم ۔