مشکوۃ

Mishkat

نماز کا بیان

قربانی کا بیان

بَاب فِي الْأُضْحِية

وَعَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ: الْأَضْحَى يَوْمَانِ بعد يَوْم الْأَضْحَى. رَوَاهُ مَالك

نافع ؒ سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ نے فرمایا : قربانی کے دن کے دو دن بعد تک قربانی کرنا جائز ہے ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔

وَقَالَ: وَبَلَغَنِي عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ مثله

امام مالک ؒ فرماتے ہیں : علی بن ابی طالب ؓ سے بھی اسی طرح کی روایت مجھے پہنچتی ہے ۔ حسن ، رواہ مالک ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ يُضحي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں دس سال قیام فرمایا اور آپ ﷺ قربانی کرتے رہے ۔ ضعیف ۔

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ؟ قَالَ: «سُنَّةُ أبيكم إِبْرَاهِيم عَلَيْهِ السَّلَام» قَالُوا: فَمَا لَنَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَةٌ» . قَالُوا: فَالصُّوفُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «بِكُلِّ شَعْرَةٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَة» رَوَاهُ أَحْمد وَابْن مَاجَه

زید بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! یہ قربانی کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارے باپ ابراہیم ؑ کی سنت ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے لیے اس میں کیا (ثواب) ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر بال کے بدلے ایک نیکی ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اون کے بارے میں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اون کے ہر ریشے پر ایک نیکی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا موضوع ۔