وَعَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ: الْأَضْحَى يَوْمَانِ بعد يَوْم الْأَضْحَى. رَوَاهُ مَالك
نافع ؒ سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ نے فرمایا : قربانی کے دن کے دو دن بعد تک قربانی کرنا جائز ہے ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔
وَقَالَ: وَبَلَغَنِي عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ مثله
امام مالک ؒ فرماتے ہیں : علی بن ابی طالب ؓ سے بھی اسی طرح کی روایت مجھے پہنچتی ہے ۔ حسن ، رواہ مالک ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں دس سال قیام فرمایا اور آپ ﷺ قربانی کرتے رہے ۔ ضعیف ۔
زید بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! یہ قربانی کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارے باپ ابراہیم ؑ کی سنت ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے لیے اس میں کیا (ثواب) ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر بال کے بدلے ایک نیکی ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اون کے بارے میں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اون کے ہر ریشے پر ایک نیکی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا موضوع ۔