مشکوۃ

Mishkat

نماز کا بیان

عتیرہ کا بیان

بَاب فِي العتيرة

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ» . قَالَ: وَالْفرع: أول نتاج كَانَ ينْتج لَهُمْ كَانُوا يَذْبَحُونَهُ لِطَوَاغِيتِهِمْ. وَالْعَتِيرَةُ: فِي رَجَبٍ

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ فرع کوئی چیز ہے نہ عتیرہ ۔‘‘ ’’ فرع ‘‘ اونٹ کے پہلے بچے کو کہتے ہیں جسے مشرکین اپنے بتوں کے نام پر ذبح کیا کرتے تھے ، جبکہ ’’ عتیرہ ‘‘ اس بکری کو کہتے ہیں جس کی رجب کے مہینے میں قربانی کی جاتی تھی ۔ متفق علیہ ۔

عَن مخنف بن سليم قَالَ: كُنَّا وُقُوفًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُضْحِيَّةً وَعَتِيرَةً هَلْ تَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ؟ هِيَ الَّتِي تُسَمُّونَهَا الرَّجَبِيَّةَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ وَابْن مامجه وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ضَعِيفُ الْإِسْنَادِ وَقَالَ أَبُو دَاوُد: وَالْعَتِيرَة مَنْسُوخَة

مخنف بن سلیم ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عرفات میں وقوف کیے ہوئے تھے ، میں نے وہاں رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ لوگو ! ہر اہل خانہ پر ہر سال ایک قربانی کرنا اور ایک عتیرہ واجب ہے ۔ کیا تم جانتے ہو عتیرہ کیا ہے ؟ وہی جسے تم رجبیہ کہتے ہو ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ ، اور امام ترمذی ؒ نے فرمایا : یہ حدیث غریب ، ضعیف الاسناد ہے ۔ امام ابوداؤد ؒ نے فرمایا : عتیرہ منسوخ ہو چکا ہے ۔ ضعیف ۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى عِيدًا جَعَلَهُ اللَّهُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ» . قَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا مَنِيحَةً أُنْثَى أَفَأُضَحِّي بِهَا؟ قَالَ: «لَا وَلَكِنْ خُذْ مِنْ شَعْرِكَ وَأَظْفَارِكَ وَتَقُصُّ مِنْ شَارِبِكَ وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ فَذَلِكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللَّهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس امت کے لیے اضحی کے دن کو عید قرار دوں ۔‘‘ کسی آدمی نے آپ ﷺ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے بتائیں اگر میں دودھ دینے والی بکری ، جو کہ مجھے کسی نے عطیہ کی ہے ، کے سوا کوئی جانور نہ پاؤں تو کیا میں اسے ذبح کر دوں ؟ فرمایا :’’ نہیں ، لیکن تم (عید کے روز) اپنے بال اور ناخن کٹاؤ ، مونچھیں کتراؤ اور زیر ناف بال مونڈ لو ، اللہ کے ہاں یہ تمہاری مکمل قربانی ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔