مشکوۃ

Mishkat

جنازوں کا بیان

میت پر رونے کا بیان

باب البکاء علی المیت

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: دَخَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَيْفٍ الْقَيْنِ وَكَانَ ظِئْرًا لِإِبْرَاهِيمَ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِبْرَاهِيمَ فَقَبَّلَهُ وَشَمَّهُ ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَيْهِ بَعْدَ ذَلِكَ وَإِبْرَاهِيمُ يَجُودُ بِنَفْسِهِ فَجَعَلَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَذْرِفَانِ. فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: يَا ابْنَ عَوْفٍ إِنَّهَا رَحْمَةٌ ثُمَّ أَتْبَعَهَا بِأُخْرَى فَقَالَ: إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يُرْضِي رَبَّنَا وَإِنَّا بِفِرَاقِك يَا إِبْرَاهِيم لَمَحْزُونُونَ

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کی معیت میں ابوسیف حداد جو کہ (نبی ﷺ کے بیٹے) ابراہیم کے رضاعی باپ تھے ، کے پاس گئے تو رسول اللہ ﷺ نے ابراہیم کو لے لیا ، اسے چوما اور سونگھا ، ہم اس کے بعد پھر ان کے پاس گئے تو ابراہیم آخری سانسوں پر تھے ، رسول اللہ ﷺ کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں تو عبدالرحمن بن عوف ؓ نے آپ سے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ (بھی روتے ہیں) ، آپ نے فرمایا :’’ ابن عوف ! یہ تو رحمت ہے ۔‘‘ اور پھر آپ دوبارہ روئے اور فرمایا بے شک آنکھیں اشکبار اور دل غمگین ہے ، لیکن ہم صرف وہی بات کریں گے جس سے ہمارا پروردگار راضی ہو ۔ اے ابراہیم ! ہم تیری جدائی پر یقیناً غمگین ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: أَرْسَلَتِ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ: إِنَّ ابْنًا لِي قُبِضَ فَأْتِنَا. فَأَرْسَلَ يُقْرِئُ السَّلَامَ وَيَقُولُ: «إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلٌّ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ» . فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تُقْسِمُ عَلَيْهِ لَيَأْتِيَنَّهَا فَقَامَ وَمَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَمُعَاذُ بْنُ جبل وَأبي بن كَعْب وَزيد ابْن ثَابِتٍ وَرِجَالٌ فَرُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّبِيُّ وَنَفْسُهُ تَتَقَعْقَعُ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ. فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذَا؟ فَقَالَ: «هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ. فَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاء»

اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ کی لخت جگر نے آپ کی طرف پیغام بھیجا کہ میرا بیٹا قریب المرگ ہے ، لہذا آپ تشریف لائیں ، آپ ﷺ نے سلام بھیجا اور یہ پیغام دیا :’’ یقیناً اللہ کا ہے جو اس نے لے لیا ، اور جو اس نے دے رکھا ہے ، اس کے ہاں ہر چیز کا وقت مقرر ہے ، پس صبر کریں اور ثواب پائیں ۔‘‘ انہوں نے دوبارا پیغام بھیجا اور قسم دے کر عرض کیا کہ آپ ضرور تشریف لائیں ، آپ کھڑے ہوئے اور سعد بن عبادہ ؓ ، معاذ بن جبل ؓ ، ابی بن کعب ؓ ، زید بن ثابت ؓ ، اور کچھ اور لوگ آپ کے ساتھ تشریف لائے ، بچے کو رسول اللہ ﷺ کی گود میں دے دیا گیا ، جب کہ اس کے سانسوں کا ربط ٹوٹ رہا تھا ، آپ کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں تو سعد ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! یہ کیا ہوا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ (آنسو) تو اللہ کی رحمت ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا فرمائی ، اللہ بھی اپنے رحم کرنے والے بندوں پر ہی رحم فرماتاہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: اشْتَكَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ شَكْوًى لَهُ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ وَجَدَهُ فِي غَاشِيَةٍ فَقَالَ: (قَدْ قَضَى؟ قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَبَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمُ بُكَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكَوْا فَقَالَ: أَلَا تَسْمَعُونَ؟ أَنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ بِدَمْعِ الْعَيْنِ وَلَا بِحُزْنِ الْقَلْبِ وَلَكِنْ يُعَذِّبُ بِهَذَا وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ أَوْ يَرْحَمُ وَإِن الْمَيِّت لعيذب ببكاء أَهله

عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، سعد بن عبادہ ؓ کسی بیماری میں مبتلا ہوئے تو نبی ﷺ ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے جبکہ عبدالرحمن بن عوف ؓ ، سعد بن ابی وقاص ؓ اور عبداللہ بن مسعود ؓ بھی آپ کے ساتھ تھے ، جب آپ ان کے پاس پہنچے تو آپ نے انہیں بیہوشی کے عالم میں پایا تو فرمایا :’’ کیا یہ فوت ہو چکے ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! نہیں ، پس نبی ﷺ رونے لگے ، جب لوگوں نے آپ کو روتے ہوئے دیکھا تو وہ بھی رو دئیے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم سنتے نہیں کہ اللہ آنکھوں کے رونے اور دل کے غمگین ہونے پر عذاب نہیں دیتا ، لیکن وہ تو اس زبان کی وجہ سے عذاب دیتا ہے یا رحم کرتا ہے ، اور بے شک میت کو ، اس کے اہل خانہ کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ»

عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص رخسار پیٹے ، گریبان چاک کرے اور جاہلیت کی سی باتیں کرے تو وہ ہم میں سے نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَن أبي بردة قَالَ: أُغمي على أبي مُوسَى فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ تَصِيحُ بِرَنَّةٍ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: أَلَمْ تَعْلَمِي؟ وَكَانَ يُحَدِّثُهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ حَلَقَ وَصَلَقَ وَخَرَقَ» . وَلَفظه لمُسلم

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوموسی ؓ پر بے ہوشی طاری ہو گئی تو ان کی اہلیہ ام عبداللہ نے زور سے رونا شروع کر دیا ، پھر انہیں افاقہ ہو گیا تو فرمایا :’’ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں ایسے شخص سے بری ہوں جو مصیبت کے وقت سر منڈائے ، اونچی آواز سے روئے اور کپڑے چاک کرے ۔‘‘ بخاری ، مسلم اور حدیث کے الفاظ صحیح مسلم کے ہیں ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُكُونَهُنَّ: الْفَخْرُ فِي الْأَحْسَابِ وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ وَالِاسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ وَالنِّيَاحَةُ . وَقَالَ: «النَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا تُقَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَيْهَا سِرْبَالٌ مِنْ قطران وَدرع من جرب» . رَوَاهُ مُسلم

ابومالک اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت میں جاہلیت کی چار خصلتیں ایسی ہیں جنہیں وہ نہیں چھوڑیں گے ، حسب پر فخر کرنا ، نسب پر طعن کرنا ، ستاروں کے ذریعے بارش طلب کرنا اور نوحہ کرنا ‘‘ اور فرمایا :’’ جو نوحہ کرنے والی موت سے پہلے توبہ نہ کرے تو روز قیامت اس پر گندھک کی قمیض ہو گی اور خارش کا کرتہ ہو گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ تَبْكِي عِنْدَ قَبْرٍ فَقَالَ: «اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي» قَالَتْ: إِلَيْكَ عَنِّي فَإِنَّكَ لَمْ تُصَبْ بِمُصِيبَتِي وَلَمْ تَعْرِفْهُ فَقِيلَ لَهَا: إِنَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَأَتَتْ بَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ تَجِدْ عِنْدَهُ بَوَّابِينَ فَقَالَتْ: لَمْ أَعْرِفْكَ. فَقَالَ: «إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى»

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ کا ایک عورت کے پاس سے گزر ہوا جو ایک قبر کے پاس رو رہی تھی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ سے ڈر اور صبر کر ۔‘‘ اس نے کہا : مجھ سے دور رہو ، کیونکہ تم میری مصیبت سے دوچار نہیں ہوئے ، اس نے آپ کو دیکھ کر نہ پہچانا تو اسے بتایا گیا کہ وہ نبی ﷺ ہیں ، پس وہ نبی ﷺ کے دروازے پر حاضر ہوئی تو اس نے دیکھا کہ وہاں کوئی دربان نہیں تھا ، اس نے عرض کیا : میں آپ کو پہچان نہیں سکی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ صبر تو ابتدائے صدمہ کے وقت ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «لَا يَمُوت لمُسلم ثَلَاث مِنَ الْوَلَدِ فَيَلِجُ النَّارَ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ»

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس مسلمان کے تین بچے فوت ہو جائیں تو وہ صرف قسم پوری کرنے کی خاطر ہی جہنم میں جائے گا (وہ بھی پل صراط سے گزرتے وقت) ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ: لَا يَمُوتُ لِإِحْدَاكُنَّ ثَلَاثَةٌ من الْوَلَد فتحتسبه إِلَّا دخلت الْجنَّة. فَقَالَ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: أَوِ اثْنَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: أَوْ اثْنَانِ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةٍ لَهما: «ثَلَاثَة لم يبلغُوا الْحِنْث»

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے انصار کی خواتین سے فرمایا :’’ تم میں سے کسی کے تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ اس سے ثواب طلب کرے تو وہ جنت میں داخل ہو گی ، ان میں سے کسی عورت نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا دو پر بھی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دو پر بھی ۔‘‘ مسلم ، اور صحیحین کی روایت میں ہے :’’ تین نابالغ بچے ۔‘‘ رواہ مسلم و البخاری ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ اللَّهُ: مَا لِعَبْدِي الْمُؤْمِنِ عِنْدِي جَزَاءٌ إِذَا قَبَضْتُ صَفِيَّهُ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا ثُمَّ احتسبه إِلَّا الْجنَّة . رَوَاهُ البُخَارِيّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جب میں اپنے مومن بندے کی اہل دنیا سے کسی محبوب چیز کو اٹھاتا ہوں اور وہ اس پر صبر کرتا ہے تو اس کی میرے ہاں جزا جنت کے سوا اور کچھ نہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّائِحَةَ وَالْمُسْتَمِعَةَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے نوحہ کرنے والی اور قصداً اسے سننے والی پر لعنت فرمائی ۔ ضعیف ۔

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَجَبٌ لِلْمُؤْمِنِ: إِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ حمد الله وَشَكَرَ وَإِنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ حَمِدَ اللَّهَ وَصَبَرَ فالمؤمن يُؤْجَرُ فِي كُلِّ أَمْرِهِ حَتَّى فِي اللُّقْمَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِهِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان

سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مومن کی عجیب شان ہے ، اگر اسے کوئی خیرو بھلائی نصیب ہوتی ہے تو اللہ کی حمد بیان کرتا اور شکر کرتا ہے ، اور اگر اسے کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو بھی اللہ کی حمد بیان کرتا ہے اور صبر کرتا ہے ، پس مومن اپنے (شکر و صبر کے) ہر معاملے میں اجر پاتا ہے ، حتیٰ کہ اس لقمہ پر بھی جو وہ اپنی اہلیہ کے منہ میں ڈالتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا وَله بَابَانِ: بَاب يصعد مِنْهُ علمه وَبَابٌ يَنْزِلُ مِنْهُ رِزْقُهُ. فَإِذَا مَاتَ بَكَيَا عَلَيْهِ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: (فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاء وَالْأَرْض) رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر مومن کے لیے دو دروازے ہیں ، ایک دروازے سے اس کے اعمال اوپر چڑھتے ہیں اور ایک دروازے سے اس کا رزق نازل ہوتا ہے ، جب وہ فوت ہو جاتا ہے تو وہ دونوں اس پر روتے ہیں ، پس یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :’’ ان پر آسمان رویا نہ زمین ۔‘‘ ضعیف ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ لَهُ فرطان من متي أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهِمَا الْجَنَّةَ . فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ مَنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ: «وَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ يَا مُوَفَّقَةُ» . فَقَالَتْ: فَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ فَرَطٌ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ: «فَأَنَا فَرَطُ أُمَّتِي لَنْ يُصَابُوا بِمِثْلِي» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت میں سے جس شخص کے دو بچے پیش رو ہوں (یعنی فوت ہو جائیں) تو اللہ ان کی وجہ سے اسے جنت میں داخل فرمائے گا ۔‘‘ عائشہ ؓ نے عرض کیا ، آپ کی امت میں سے جس کا ایک پیش رو ہو ؟ آپ نے فرمایا :’’ موفّقہ (جس کو توفیق دی گئی ہو) ! جس کا ایک پیش رو ہو (وہ بھی جنتی ہے) ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، آپ کی امت میں سے جس کا ایک بھی پیش رو نہ ہو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں اپنی امت کا پیش رو ہوں گا ، انہیں میری مثل کوئی تکلیف نہیں پہنچائی گئی ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے کہا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَن أبي مُوسَى اشعري قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا مَاتَ وَلَدُ الْعَبْدِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِمَلَائِكَتِهِ: قَبَضْتُمْ وَلَدَ عَبْدِي؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. فَيَقُولُ: قَبَضْتُمْ ثَمَرَةَ فُؤَادِهِ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. فَيَقُولُ: مَاذَا قَالَ عَبْدِي؟ فَيَقُولُونَ: حَمِدَكَ وَاسْتَرْجَعَ. فَيَقُولُ اللَّهُ: ابْنُوا لِعَبْدِي بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَسَمُّوهُ بَيت الْحَمد . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ

ابوموسی اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب بندے کا بچہ فوت ہو جاتاہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے : کیا تم نے میرے بندے کے بچے (کی روح) کو قبض کر لیا ؟ وہ عرض کرتے ہیں ، جی ہاں ، پھر وہ پوچھتا ہے : کیا تم نے اس کے ثمر قلب (جگر گوشہ کی روح) کو قبض کر لیا ؟ وہ عرض کرتے ہیں ، جی ہاں ، اللہ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے کیا کہا تھا ؟ وہ عرض کرتے ہیں ، اس نے تیری حمد بیان کی اور (انا للہ وانا الیہ راجعون) پڑھا تھا ، پھر اللہ فرماتا ہے : میرے بندے کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دو اور اس کا نام بیت الحمد رکھو ۔‘‘ ضعیف ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من عَزَّى مُصَابًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ الرَّاوِي وَقَالَ: وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ مُحَمَّد بن سوقة بِهَذَا الْإِسْنَاد مَوْقُوفا

عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص کسی مصیبت زدہ شخص کو تسلی دیتا ہے تو اسے بھی اس کی مثل اجر ملتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، اور ہم علی بن عاصم سے مروی حدیث سے اسے مرفوع جانتے ہیں ، اور انہوں نے (امام ترمذی) نے فرمایا : ان میں سے بعض نے اسے محمد بن سوقہ سے اسی سند کے ساتھ موقوف روایت کیا ہے ۔ ضعیف ۔

وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ عَزَّى ثَكْلَى كسي بردا فِي الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب

ابوبرزہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص کسی عورت کو ، جس کا بچہ گم جائے ، تسلی دیتا ہے تو اسے جنت میں ایک قیمتی لباس پہنایا جائے گا ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ ضعیف ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: لَمَّا جَاءَ نَعْيُ جَعْفَرٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: صانعوا لِآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا فَقَدْ أَتَاهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ) رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

عبداللہ بن جعفر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب جعفر کی خبر شہادت آئی تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ آل جعفر کے لیے کھانا تیار کرو ، ان کے پاس ایسی چیز (یعنی خبر) آئی ہے جو انہیں مشغول رکھے گی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «من نِيحَ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ يَوْم الْقِيَامَة»

مغیرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس شخص پر نوحہ کیا جائے تو اس پر نوحہ کیے جانے کے باعث روز قیامت اسے عذاب دیا جائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ وَذُكِرَ لَهَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ: إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ عَلَيْهِ تَقُولُ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكْذِبْ وَلَكِنَّهُ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ إِنَّمَا مَرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى يَهُودِيَّةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا فَقَالَ: «إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لتعذب فِي قبرها»

عمرہ بنت عبدالرحمن ؒ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ، میں نے عائشہ ؓ سے سنا ، اور انہیں بتایا گیا کہ عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میت کو ، اس کے قبیلے کے اس پر رونے کی وجہ سے ، عذاب دیا جاتا ہے ، انہوں نے فرمایا : اللہ ! ابوعبدالرحمن کو معاف فرمائے ، انہوں نے جھوٹ نہیں بولا ، بلکہ وہ بھول گئے یا غلطی کر گئے ، بات صرف اتنی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک یہودی عورت کے پاس سے گزرے جس پر اس کے گھر والے رو رہے تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک یہ تو اس پر رو رہے ہیں جبکہ اسے اپنی قبر میں عذاب ہو رہا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔