مشکوۃ

Mishkat

جنازوں کا بیان

قبروں کی زیارت کا بیان

بَاب زِيَارَة الْقُبُور

عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِي فَوْقَ ثَلَاثٍ فَأَمْسِكُوا مَا بَدَا لَكُمْ وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَاءٍ فَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ كُلِّهَا وَلَا تشْربُوا مُسكرا» . رَوَاهُ مُسلم

بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا ، (اب) ان کی زیارت کیا کرو ، میں نے تمہیں تین دن سے زائد قربانی کا گوشت رکھنے سے منع کیا تھا ، اب جس قدر ضرورت محسوس کرو اسے رکھو ، میں نے مشکیزے کے علاوہ نبیذ بنانے سے تمہیں منع کیا تھا ، تم تمام برتنوں میں نبیذ بنا سکتے ہو ، لیکن نشہ آور مشروب استعمال نہ کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: زَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهَ فَقَالَ: «اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي أَن أسْتَغْفر لَهَا فَلم يُؤذن لي ن وَاسْتَأْذَنْتُهُ فِي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأُذِنَ لِي فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْمَوْتَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی تو آپ خود بھی روئے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی رلایا ، پھر فرمایا :’’ میں نے ان کی مغفرت طلب کرنے کے متعلق اپنے رب سے اجازت طلب کی تو مجھے اس کی اجازت نہ ملی ، پھر میں نے ان کی قبر کی زیارت کے متعلق اس سے اجازت طلب کی تو مجھے اجازت مل گئی ، پس تم قبروں کی زیارت کیا کرو ، کیونکہ وہ موت یاد دلاتی ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُمْ إِذَا خَرَجُوا إِلَى الْمَقَابِرِ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَلَاحِقُونَ نَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب وہ قبرستان جانے کا ارادہ کرتے تو رسول اللہ ﷺؑ انہیں یہ دعا سکھایا کرتے تھے :’’ مومن اور مسلمان گھر والوں پر سلامتی ہو ، اگر اللہ نے چاہا تو ہم تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں ، ہم اپنے اور تمہارے لیے اللہ سے عافیت طلب کرتے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورٍ بِالْمَدِينَةِ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ فَقَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُورِ يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَلَكُمْ أَنْتُمْ سَلَفُنَا وَنَحْنُ بِالْأَثَرِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ کا مدینہ کی قبروں کے پاس سے گزر ہوا تو آپ ﷺ نے ان کی طرف چہرہ مبارک کرتے ہوئے فرمایا :’’ اہل قبور ! تم پر سلامتی ہو ، اللہ ہمیں اور تمہیں معاف فرمائے ، تم ہمارے اسلاف ہو اور ہم تمہارے پیچھے آنے والے ہیں ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ ضعیف ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا كَانَ لَيْلَتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقُولُ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَأَتَاكُمْ مَا تُوعِدُونَ غَدًا مُؤَجَّلُونَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لأهل بَقِيع الْغَرْقَد» . رَوَاهُ مُسلم

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ کا رات قیام میرے پاس ہوتا تو آپ رات کے آخری حصے میں بقیع (قبرستان) کی طرف تشریف لے جاتے اور فرماتے :’’ مومن قوم کے گھرو ! تم پر سلامتی ہو اور جس کل کے لیے تم سے وعدہ کیا گیا تھا اور تمہیں اس کے لیے مہلت دی گئی تھی وہ تم تک پہنچ چکا ، اور بے شک ہم تم سے ملنے والے ہیں ، اے اللہ ! بقیع غرقد والوں کی مغفرت فرما ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَيْفَ أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ تَعْنِي فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ قَالَ: قُولِي: السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَيَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ للاحقون . رَوَاهُ مُسلم

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! زیارت قبور کے موقع پر میں کیسے دعا کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ دعا کریں : مومن اور مسلمان گھر والوں پر سلامتی ہو ، اللہ ہم سے آگے جانے والوں اور ہم سے پیچھے رہ جانے والوں پر رحم فرمائے ، اور اگر اللہ نے چاہا تو بے شک ہم بھی تم سے ملنے والے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ يُرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ زَارَ قَبْرَ أَبَوَيْهِ أَوْ أَحَدِهِمَا فِي كُلِّ جُمُعَةٍ غُفِرَ لَهُ وَكُتِبَ بَرًّا» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان مُرْسلا

محمد بن نعمان ، نبی ﷺ سے مرفوع روایت کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص ہر جمعے اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کی قبر کی زیارت کرتا ہے تو اسے بخش دیا جاتا ہے اور اسے (والدین کا) اطاعت گزار لکھا جاتا ہے ۔‘‘ بیہقی نے شعب الایمان میں مرسل روایت کیا ہے ۔ موضوع ۔

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا فَإِنَّهَا تُزَهِّدُ فِي الدُّنْيَا وتذكر الْآخِرَة» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه

ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا کرتا تھا ، اب ان کی زیارت کیا کرو ، کیونکہ وہ دنیا سے بے رغبت کرتی ہیں اور آخرت کی یاد دلاتی ہیں ۔‘‘ ضعیف ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم لعن زوارات الْقُبُورِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيح وَقَالَ: قَدْ رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ هَذَا كَانَ قبل أَن يرخص النَّبِي فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَلَمَّا رَخَّصَ دَخَلَ فِي رُخْصَتِهِ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّمَا كَرِهَ زِيَارَةَ الْقُبُورِ لِلنِّسَاءِ لِقِلَّةِ صَبْرِهِنَّ وَكَثْرَةِ جَزَعِهِنَّ. تمّ كَلَامه

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کثرت کے ساتھ قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے ۔ احمد ، ترمذی ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ مزید فرمایا : بعض اہل علم کا خیال ہے کہ یہ زیارت قبور کے متعلق نبی ﷺ کی رخصت سے پہلے تھا ، جب آپ نے اجازت دے دی تو آپ کی اجازت میں مرد اور عورتیں سب داخل ہیں ، اور ان میں سے بعض نے کہا : آپ نے عورتوں کے قبرستا ن جانے کو اس لیے نا پسند فرمایا کہ وہ صبر کم کرتی ہیں ، جبکہ جزع و فزع زیادہ کرتی ہیں ، امام ترمذی ؒ کا کلام مکمل ہوا ۔ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ ۔

وَعَن عَائِشَة قَالَتْ: كُنْتُ أَدْخُلُ بَيْتِيَ الَّذِي فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنِّي وَاضِعٌ ثَوْبِي وَأَقُولُ: إِنَّمَا هُوَ زَوْجِي وَأَبِي فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَعَهُمْ فَوَاللَّهِ مَا دَخَلْتُهُ إِلَّا وَأَنَا مَشْدُودَةٌ عَلَيَّ ثِيَابِي حَيَاء من عمر. رَوَاهُ أَحْمد

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں اپنے اس حجرے میں جس میں رسول اللہ ﷺ (مدفون) ہیں چلی جایا کرتی تھی ، اور یہیں اپنی چادر اتار دیا کرتی تھی ، اور میں (دل میں) کہتی تھی : وہ تو میرے شوہر ہیں اور دوسرے میرے والد ہیں ، جب عمر ؓ کو ان کے ساتھ دفن کر دیا گیا تو اللہ کی قسم ! میں عمر ؓ سے حیا کی وجہ سے اپنے اوپر اچھی طرح چادر لے کر وہاں داخل ہوتی ہوں ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد ۔