مشکوۃ

Mishkat

زکوۃ کا بیان

سوال کرنا کس کے لیے جائز ہے اور کس کے لیے ناجائز

بَاب من لَا تحل لَهُ الْمَسْأَلَة وَمن تحل لَهُ


وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُلْحِفُوا فِي الْمَسْأَلَةِ فوَاللَّه لَا يسألني أحدق مِنْكُمِ شَيْئًا فَتُخْرِجَ لَهُ مَسْأَلَتُهُ مِنِّي شَيْئًا وَأَنَا لَهُ كَارِهٌ فَيُبَارَكَ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتُهُ» . رَوَاهُ مُسلم

معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سوال کرنے میں پیچھے نہ پڑ جایا کرو ، اللہ کی قسم ! جب تم میں سے کوئی شخص سوال کر کے مجھ سے کوئی چیز حاصل کر لیتا ہے ، جبکہ میں اسے نا پسند کرتا ہوں تو پھر میں وہ چیز اسے دے بھی دوں تو اس میں برکت نہیں ہوتی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
رواہ مسلم (۹۹ / ۱۰۳۸) ۔ 2390