مشکوۃ

Mishkat

زکوۃ کا بیان

سوال کرنا کس کے لیے جائز ہے اور کس کے لیے ناجائز

بَاب من لَا تحل لَهُ الْمَسْأَلَة وَمن تحل لَهُ


وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَذْكُرُ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ عَنِ الْمَسْأَلَةِ: «الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَالْيَد الْعليا هِيَ المنفقة وَالْيَد السُّفْلى هِيَ السائلة»

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے ، اور آپ نے صدقہ کرنے اور سوال کرنے سے بچنے کے لیے فضائل بیان کرتے ہوئے فرمایا :’’ اوپر والا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہے ، اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے جبکہ نچلا ہاتھ سوال کرنے والا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Reference
حوالہ حکم
(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
Conclusion
تخریج
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۴۲۹) و مسلم (۹۴ / ۱۰۳۳) ۔ 2385