مشکوۃ

Mishkat

زکوۃ کا بیان

سوال کرنا کس کے لیے جائز ہے اور کس کے لیے ناجائز

بَاب من لَا تحل لَهُ الْمَسْأَلَة وَمن تحل لَهُ


وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ فَأَنْزَلَهَا بِالنَّاسِ لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُهُ. وَمَنْ أَنْزَلَهَا بِاللَّه أوشك الله لَهُ بالغنى إِمَّا بِمَوْتٍ عَاجِلٍ أَوْ غِنًى آجِلٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ

ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص فاقے میں مبتلا ہو جائے اور وہ اسے لوگوں پر پیش کرے تو اس کا فاقہ دور نہیں ہو گا ، اور جو شخص اس کے متعلق اللہ سے عرض کرے تو قریب ہے کہ اللہ جلد موت دے کر یا بدیر دولت مندی دے کر اسے غنی عطا فرما دے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Reference
حوالہ حکم
(حسن)
Conclusion
تخریج
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۱۶۴۵) و الترمذی (۲۳۲۶ وقال : حسن صحیح غریب) ۔