مشکوۃ

Mishkat

روزوں کا بیان

روزے سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

بَاب فِي مسَائِل مُتَفَرِّقَة من كتاب الصَّوْم

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بركَة»

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سحری کھایا کرو کیونکہ سحری کھانے میں برکت ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ سَهْلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ»

سہل ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تک لوگ افطاری کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے وہ خیر و بھلائی پر رہیں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْل من هَهُنَا وَأدبر النَّهَار من هَهُنَا وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ»

عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب رات اس طرف سے آ جائے اور دن اس طرف پلٹ جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار کو چاہیے کہ وہ افطار کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ. فَقَالَ لَهُ رجل: إِنَّك تواصل يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَأَيُّكُمْ مِثْلِي إِنِّي أَبَيْتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي ويسقيني

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے روزوں میں وصال کرنے سے منع فرمایا ، تو کسی آدمی نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ تو وصال فرماتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کون میری طرح ہے ؟ میں رات کو سوتا ہوں تو میرا رب مجھے کھلا پلا دیتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

عَن حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَمْ يَجْمَعِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلَا صِيَامَ لَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمَيُّ وَقَالَ أَبُو دَاوُد: وَقفه على حَفْصَة معمر والزبيدي وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَيُونُسُ الَأَيْلِيُّ كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ

حفصہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص طلوع فجر سے پہلے روزے کی نیت نہ کرے تو اس کا روزہ نہیں ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ، دارمی اور ابوداؤد نے فرمایا : معمر ، زبیدی ، ابن عیینہ اور یونس ایلی نے اس حدیث کو حفصہ ؓ پر موقوف قرار دیا ہے اور ان سب نے زہری سے روایت کیا ہے ۔ ضعیف ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ أَحَدُكُمْ وَالْإِنَاءُ فِي يَدِهِ فَلَا يَضَعْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ مِنْهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی اذان (فجر) سنے اور (کھانے پینے کا) برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو وہ اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد اسے نیچے رکھے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أَحَبُّ عِبَادِي إِلَيَّ أَعْجَلُهُمْ فطرا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : مجھے اپنے وہ بندے زیادہ محبوب ہیں جو ان میں سے افطار کرنے میں جلدی کرتے ہیں ۔‘‘ ضعیف ۔

وَعَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ فَإِنَّهُ طَهُورٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ. وَلَمْ يَذْكُرْ: «فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ» غَيْرُ التِّرْمِذِيِّ

سلمان بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی افطار کرے تو وہ کھجور سے افطار کرے کیونکہ وہ باعث برکت ہے ، اگر وہ نہ پائے تو پھر پانی سے افطار کر لے کیونکہ وہ باعث طہارت ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابوداؤد ، دارمی ، لیکن انہوں نے یہ نہیں کہا :’’ کیونکہ وہ باعث برکت ہے ۔‘‘ صرف امام ترمذی نے یہ الفاظ ایک دوسری روایت سے نقل کیے ہیں ۔ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى رطبات فَإِن لم تكن فتميرات فإنلم تكن تُمَيْرَات حسى حَسَوَاتٍ مِنْ مَاءٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيب

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نماز (مغرب) پڑھنے سے پہلے چند تازہ کھجوروں سے افطار کیا کرتے تھے ، اگر تازہ کھجوریں نہ ہوتیں تو پھر چند چھوہاروں سے اور اگر چھوہارے نہ ہوتے تو پھر پانی کے چند گھونٹ پی لیا کرتے تھے ۔ ترمذی ، ابوداؤد اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من فَطَّرَ صَائِمًا أَوْ جَهَّزَ غَازِيًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ وَمُحْيِي السّنة فِي شرح السّنة وَقَالَ صَحِيح

زید بن خالد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے یا کسی مجاہد کی تیاری کرا دے تو اسے بھی اس (روزہ دار یا مجاہد) کی مثل اجر ملتا ہے ۔‘‘ بیہقی فی شعب الایمان ۔ اور محی السنہ نے شرح السنہ میں روایت کیا اور انہوں نے کہا یہ روایت صحیح ہے ۔ حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَفْطَرَ قَالَ: «ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ الله» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی ﷺ روزہ افطار کرتے تو آپ یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’ پیاس جاتی رہی ، رگیں تر ہوگئیں اور اگر اللہ نے چاہا تو اجر ثابت ہو گیا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ مُعَاذٍ بْنِ زُهْرَةَ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَفْطَرَ قَالَ: «اللَّهُمَّ لَكَ صَمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد مُرْسلا

معاذ بن زہرہ ؒ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ جب افطار کرتے تو آپ ﷺ یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں نے تیرے ہی لیے روزہ رکھا اور تیرے ہی رزق سے افطار کیا ۔‘‘ ابوداؤد نے اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ ضعیف ۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ لِأَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى يُؤَخِّرُونَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تک لوگ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے دین غالب رہے گا کیونکہ یہود و نصاریٰ (افطار کرنے میں) تاخیر کرتے ہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

وَعَنْ أَبِي عَطِيَّةَ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْنَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ وَالْآخَرُ: يُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ. قَالَتْ: أَيُّهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ؟ قُلْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ. قَالَتْ: هَكَذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُ أَبُو مُوسَى. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

ابوعطیہ ؒ بیان کرتے ہیں ، میں اور مسروق ، عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے عرض کیا : ام المومنین ! محمد ﷺ کے صحابہ میں سے دو آدمی ہیں ان میں سے ایک جلدی افطار کرتے ہیں اور جلد ہی نماز (مغرب) پڑھتے ہیں ، جبکہ دوسرے دیر سے افطار کرتے ہیں اور دیر سے نماز پڑھتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : ان میں سے کون جلد افطار کرتا ہے اور جلد نماز پڑھتا ہے ؟ ہم نے عرض کیا عبداللہ بن مسعود ؓ ، انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے بھی ایسے ہی کیا ، جبکہ دوسرے ابوموسی ؓ ہیں ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّحُورِ فِي رَمَضَانَ فَقَالَ: «هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد والسنائي

عرباض بن ساریہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں مجھے سحری کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا :’’ مبارک کھانے کی طرف آؤ ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔