مشکوۃ

Mishkat

روزوں کا بیان

مسافر کے روزے کا بیان

بَاب صَوْم الْمُسَافِر

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصُومُ فِي السَّفَرِ وَكَانَ كَثِيرَ الصِّيَامِ. فَقَالَ: «إِنْ شِئْتَ فَصم وَإِن شِئْت فَأفْطر»

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ حمزہ بن عمرو اسلمی ؓ بہت زیادہ روزے رکھا کرتے تھے ، انہوں نے نبی ﷺ سے عرض کیا : کیا میں دوران سفر روزہ رکھ لیا کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تم چاہو تو روزہ رکھو اور اگر تم چاہو تو نہ رکھو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسِتَّ عَشْرَةَ مَضَتْ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ. رَوَاهُ مُسلم

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے سولہ رمضان کو رسول اللہ ﷺ کی معیت میں جہاد کیا ، ہم میں سے کچھ نے روزہ رکھا ہوا تھا اور کچھ نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا ، روزہ دار نے روزہ نہ رکھنے والے کو معیوب سمجھا نہ افطار کرنے والے نے روزہ دار کو معیوب سمجھا ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَرَأَى زِحَامًا وَرَجُلًا قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» قَالُوا: صَائِمٌ. فَقَالَ: «لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ»

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ سفر میں تھے کہ آپ نے ہجوم اور ایک آدمی دیکھا جس پر سایہ کیا ہوا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے کیا ہوا ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا : روزہ دار ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فِي وم حَارٍّ فَسَقَطَ الصَّوَّامُونَ وَقَامَ الْمُفْطِرُونَ فَضَرَبُوا الْأَبْنِيَةَ وَسَقَوُا الرِّكَابَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ»

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نبی ﷺ کے ساتھ شریک سفر تھے ، ہم میں سے کچھ روزے سے تھے اور کچھ نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا ، ایک سخت گرم دن میں ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا تو روزہ دار تو (نڈھال ہو کر) گر پڑے ، جبکہ جن لوگوں نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے خیمے لگائے اور سواریوں کو پانی پلایا ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آج روزہ نہ رکھنے والے اجر لے گئے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَرَفَعَهُ إِلَى يَدِهِ لِيَرَاهُ النَّاسُ فَأَفْطَرَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ. فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَدْ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفْطَرَ. فَمن شَاءَ صَامَ وَمن شَاءَ أفطر

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تو آپ نے روزہ رکھا ، حتیٰ کہ آپ مقام عسفان پر پہنچے تو آپ نے پانی منگایا اور اسے ہاتھ سے بلند کیا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیں ، پس آپ نے روزہ افطار کر لیا حتیٰ کہ آپ مکہ پہنچ گئے اور یہ رمضان کا واقعہ ہے ، ابن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے ، رسول اللہ ﷺ نے (دوران سفر) روزہ رکھا بھی ہے اور افطار بھی کیا ہے ، جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے ۔ متفق علیہ ۔

وَفِي رِوَايَة لمُسلم عَن جَابر رَضِي الله عَنهُ أَنه شرب بعد الْعَصْر

صحیح مسلم میں جابر ؓ سے مروی روایت میں ہے کہ آپ نے عصر کے بعد (پانی) پیا ۔ رواہ مسلم ۔

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْكَعْبِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِن اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلَاةِ وَالصَّوْمَ عَنِ الْمُسَافِرِ وَعَنِ الْمُرْضِعِ وَالْحُبْلَى» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

انس بن مالک کعبی ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے مسافر سے نصف نماز ساقط فرما دی جبکہ مسافر ، دودھ پلانے والی اور حاملہ خاتون سے روزہ ساقط فرما دیا ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ لَهُ حَمُولَةٌ تَأْوِي إِلَى شِبْعٍ فَلْيَصُمْ رَمَضَانَ من حَيْثُ أدْركهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

سلمہ بن محبق ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کے پاس سواری ہو جو شکم سیری کے مقام پر اسے پہنچا دے وہ روزے رکھے جہاں بھی وہ رمضان کو پا لے ۔‘‘ ضعیف

عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ فَصَامَ النَّاسُ ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ فَرَفَعَهُ حَتَّى نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ فَقِيلَ لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ إِنَّ بَعْضَ النَّاسِ قَدْ صَامَ. فَقَالَ: «أُولَئِكَ الْعُصَاةُ أُولَئِكَ الْعُصَاةُ» . رَوَاهُ مُسلم

جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے سال رمضان میں مکہ کے لیے روانہ ہوئے تو آپ نے روزہ رکھا ، حتیٰ کہ آپ مقام کراع الغمیم پر پہنچے ، صحابہ کرام ؓ نے بھی روزہ رکھا ہوا تھا ، پھر آپ نے پانی کا پیالہ منگوایا ، اسے بلند کیا حتیٰ کہ صحابہ کرام نے اسے دیکھ لیا ، پھر آپ نے اسے نوش فرمایا ، اس کے بعد آپ کو بتایا گیا کہ بعض لوگوں نے روزہ رکھا ہوا ہے (ابھی تک افطار نہیں کیا) تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ نافرمان ہیں ، وہ نافرمان ہیں ۔ ‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَائِمُ رَمَضَانَ فِي السَّفَرِ كَالْمُفْطِرِ فِي الْحَضَرِ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه

عبدالرحمن بن عوف ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دوران سفر رمضان کا روزہ رکھنے والا ، حالتِ قیام میں روزہ نہ رکھنے والے کی طرح ہے ۔‘‘ ضعیف ۔

وَعَن حَمْزَة بن عَمْرو السّلمِيّ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ بِي قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ؟ قَالَ: «هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ مُسلم

حمزہ بن عمرو اسلمی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں دوران سفر روزہ رکھنے کی قوت رکھتا ہوں ، تو کیا (دوران سفر روزہ رکھنے پر) مجھے گناہ ہو گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ اللہ عزوجل کی طرف سے ایک رخصت ہے ، جس نے اسے لے لیا تو اس نے اچھا کیا اور جو شخص روزہ رکھنا چاہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔