مشکوۃ

Mishkat

روزوں کا بیان

گزشتہ ابواب سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

بَاب فِي الافطار من التَّطَوُّع


عَن بُرَيْدَة قَالَ: دَخَلَ بِلَالٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَغَدَّى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْغَدَاءَ يَا بِلَالُ» . قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَأْكُلُ رِزْقَنَا وَفَضْلُ رِزْقِ بِلَالٍ فِي الْجَنَّةِ أشعرت يَا بِلَال أَن الصَّائِم نُسَبِّح عِظَامه وَتَسْتَغْفِر لَهُ الْمَلَائِكَةُ مَا أَكَلَ عِنْدَهُ؟» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان

بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں، بلال ؓ ، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ناشتہ کر رہے تھے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بلال ! ناشتہ کر لو ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں روزہ سے ہوں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہم اپنا رزق کھا رہے ہیں جبکہ بلال کا عمدہ رزق جنت میں ہے ، بلال ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب روزہ دار کے پاس کھایا جائے تو اس کی ہڈیاں تسبیح بیان کرتی ہیں اور فرشتے اس کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ موضوع ۔

Status: Zaeef
حکمِ حدیث: ضعیف
Reference
حوالہ حکم
(ضَعِيف)
Conclusion
تخریج
اسنادہ موضوع ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۳۵۸۶) [و ابن ماجہ : ۱۷۴۹] * فیہ محمد بن عبد الرحمن من شیوخ بقیۃ : کذبوہ ۔