مشکوۃ

Mishkat

روزوں کا بیان

اعتکاف کا بیان

بَاب الِاعْتِكَاف

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بعده

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے رہے حتیٰ کہ اللہ نے انہیں فوت کر لیا ، پھر آپ کی وفات کے بعد ازواج مطہرات نے اعتکاف کیا ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَان وَكَانَ جِبْرِيلُ يَلْقَاهُ كُلَّ لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ يَعْرِضُ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ كَانَ أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنَ الرّيح الْمُرْسلَة

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ خیر و بھلائی میں سب سے زیادہ سخی تھے ، اور جب رمضان میں جبریل ؑ آپ ﷺ سے ملاقات کرتے تو آپ ﷺ کی سخاوت بڑھ جاتی ، وہ رمضان کی ہر رات آپ سے ملاقات کرتے تو نبی ﷺ انہیں قرآن سنایا کرتے تھے ، جب جبریل آپ سے ملاقات کرتے تو آپ خیر و بھلائی اور سخاوت کرنے میں کھلی ہوا (تیز رفتار آندھی) سے بھی بڑھ کر ہوتے تھے ۔ متفق علیہ ۔

وَعَن أبي هُرَيْرَة قَالَ: كَانَ يعرض على النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ كُلَّ عَامٍ مَرَّةً فَعَرَضَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ فِي الْعَامِ الَّذِي قُبِضَ وَكَانَ يَعْتَكِفُ كُلَّ عَامٍ عَشْرًا فَاعْتَكَفَ عِشْرِينَ فِي الْعَامِ الَّذِي قُبِضَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ کو ہر سال ایک مرتبہ قرآن سنایا جاتا تھا ، اور جس سال آپ کی جان قبض کی گئی اس سال دو مرتبہ سنایا گیا ، اور آپ ہر سال دس دن اعتکاف کیا کرتے تھے لیکن جس سال آپ کی جان قبض کی گئی اس سال آپ نے بیس روز اعتکاف فرمایا ۔ رواہ البخاری ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اعْتَكَفَ أَدْنَى إِلَيَّ رَأَسَهِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَأُرَجِّلُهُ وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لحَاجَة الْإِنْسَان

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں، جب رسول اللہ ﷺ اعتکاف فرمایا کرتے تو آپ اپنا سر مبارک میرے قریب کر دیتے جبکہ آپ مسجد میں ہوتے تھے ، میں آپ کے کنگھی کر دیتی اور آپ صرف انسانی حاجت کے تحت ہی گھر میں تشریف لایا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُنْتُ نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِد الْحَرَام؟ قَالَ: «فأوف بِنَذْرِك»

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ عمر ؓ نے نبی ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا ، میں نے دور جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ میں مسجد حرام میں ایک رات اعتکاف کروں گا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنی نذر پوری کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَلَمْ يَعْتَكِفْ عَامًا. فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمقبل اعْتكف عشْرين. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ رمضان کے آخری دس دن میں اعتکاف کیا کرتے تھے ، لیکن آپ نے ایک سال اعتکاف نہ کیا تو پھر آئندہ سال آپ نے بیس روز کا اعتکاف کیا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ عَنْ أَبِي بن كَعْب

امام ابوداؤد اور ابن ماجہ نے اسے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ صَلَّى الْفَجْرَ ثُمَّ دَخَلَ فِي مُعْتَكَفِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ اعتکاف کرنے کا ارادہ فرماتے تو آپ ﷺ نماز فجر ادا کرتے اور پھر اپنے اعتکاف کی جگہ میں تشریف لے جاتے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

وَعَن عَائِشَة رَضِي الله عَنْهَا قَالَتْ: السُّنَّةُ عَلَى الْمُعْتَكِفِ أَنْ لَا يَعُودَ مَرِيضًا وَلَا يَشْهَدُ جِنَازَةً وَلَا يَمَسُّ الْمَرْأَةَ وَلَا يُبَاشِرُهَا وَلَا يَخْرُجُ لِحَاجَةٍ إِلَّا لِمَا لابد مِنْهُ وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا بِصَوْمٍ وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا فِي مَسْجِدٍ جَامِعٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، اعتکاف کرنے والے کے لیے مسنون یہی ہے کہ وہ کسی مریض کی عیادت کرے نہ جنازے میں شرکت کرے ، عورت سے جماع کرے نہ اسے گلے لگائے اور کسی بہت ہی ضروری کام کے علاوہ اعتکاف کی جگہ سے باہر نہ نکلے نیز روزے کے بغیر اعتکاف ہے نہ جامع مسجد کے بغیر ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا اعْتَكَفَ طُرِحَ لَهُ فِرَاشُهُ أَوْ يُوضَعُ لَهُ سَرِيرُهُ وَرَاءَ أسطوانه التَّوْبَة. رَوَاهُ ابْن مَاجَه

عبداللہ بن عمر ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ اعتکاف فرماتے تو توبہ کے ستون کے پیچھے آپ ﷺ کے لیے بستر بچھا دیا جاتا یا چار پائی لگا دی جاتی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمُعْتَكَفِ: «هُوَ يَعْتَكِفُ الذُّنُوبَ وَيُجْرَى لَهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ كَعَامِلِ الْحَسَنَات كلهَا» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اعتکاف کرنے والے کے بارے میں فرمایا :’’ وہ گناہوں سے رکا رہتا ہے اور تمام نیکیاں کرنے والے کی طرح اسے نیکیوں کا ثواب ملتا رہتاہے ۔‘‘ (جن کو وہ پہلے کای کرتا تھا ) اسنادہ ضعیف ۔