حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قرآن ، عربی لہجے اور عربی آواز سے پڑھا کرو اور اہل عشق اور یہود و نصاریٰ کے لہجوں سے بچو ، اور میرے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو نغمے اور نوحے کی طرح آواز دہرا دہرا کر قرآن پڑھیں گے ، اور وہ (قرآن کا پڑھنا) ان کے حلق سے نیچے (دل تک) نہیں اترے گا ۔ ان کے اور ان لوگوں کے دل ، جو ان کی حالت پر فریفتہ ہوں گے ، فتنہ سے دوچار ہوں گے ۔‘‘ بیہقی فی شعب الایمان ۔ اور رزین نے اسے اپنی کتاب میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف منکر ۔
براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اپنی آوازوں سے قرآن کو حسین بناؤ ، کیونکہ اچھی آواز ، قرآن کے حسن میں اضافہ کرتی ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الدارمی ۔
طاؤس ؒ روایت کرتے ہیں ، نبی ﷺ سے دریافت کیا گیا ، کون لوگ اچھی آواز اور اچھی قراءت سے قرآن پڑھتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جسے تم قرآن پڑھتے سنو اور اس پر خشیت الٰہی ظاہر ہو ۔‘‘ طاؤس بیان کرتے ہیں ، طلق ؒ اسی طرح تھے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
عبیدہ ملیکی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اہل قرآن ! قرآن کے معاملے میں سستی و تغافل نہ برتو ، جیسے اس کی تلاوت کا حق ہے ویسے صبح و شام اس کی تلاوت کرو ، اس (کی تعلیمات) کو عام کرو ، اس کے علاوہ دوسری چیزوں سے بے نیاز ہو جاؤ ، اس پر تدبر کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ ، دنیا میں اس کا ثواب حاصل کرنے کی کوشش نہ کرو کیونکہ (آخرت میں) اس کا ثواب (بہت زیادہ) ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔