TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2241 مشکوۃ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 19 of 38 in this chapter
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ادْعُوا اللَّهَ وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالْإِجَابَةِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَجِيبُ دُعَاءً مِنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لَاهٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حديثٌ غَرِيب
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دعا کی قبولیت کے یقین کے ساتھ اللہ سے دعا کرو ، اور جان لو اللہ قلب غافل سے کی گئی دعا قبول نہیں فرماتا ۔‘‘ ترمذی ۔ اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۴۷۹) و احمد (۲ / ۱۷۷) ۔
2241
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Reference
حوالہ حکم
(ضَعِيف)
Conclusion
تخریج
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۴۷۹) * صالح المری : ضعیف ، و لہ شاھد ضعیف عند احمد (۲ / ۱۷۷) ۔

Related Chapters

0
No related chapter found.
No related chapter matched that.

Related Hadith

31
Jam e Tirmazi
3479
حَدَّثَنَا وَهُوَ رَجُلٌ صَالِحٌ، ‏‏‏‏‏‏عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ادْعُوا اللَّهَ وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالْإِجَابَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَجِيبُ دُعَاءً مِنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لَاهٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ عَبَّاسًا الْعَنْبَرِيَّ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ اكْتُبُوا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيِّ فَإِنَّهُ ثِقَةٌ.
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Call upon Allah while being certain of being answered, and know that Allah does not respond to a supplication from the heart of one heedless and occupied by play.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ سے دعا مانگو اور اس یقین کے ساتھ مانگو کہ تمہاری دعا ضرور قبول ہو گی، اور ( اچھی طرح ) جان لو کہ اللہ تعالیٰ بےپرواہی اور بے توجہی سے مانگی ہوئی غفلت اور لہو و لعب میں مبتلا دل کی دعا قبول نہیں کرتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- میں نے عباس عنبری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ عبداللہ بن معاویہ جمحی کی بیان کردہ روایتیں لکھ لو کیونکہ وہ ثقہ راوی ہیں۔
Silsila Sahih
2738
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: ادْعُوا اللهَ تَعَالَى وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالْإِجَابَةِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ لَا يَسْتَجِيبُ دُعَاءً مِنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لَاهٍ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: اللہ سے قبولیت کے یقین کے ساتھ دعا کرو، اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ لا پرواہ و غافل دل کی دعا قبول نہیں کرتا
Jam e Tirmazi
3269
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ الْمُسْتَمِرِّ بْنِ الرَّيَّانِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَرَأَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ:‏‏‏‏ وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الأَمْرِ لَعَنِتُّمْ سورة الحجرات آية 7، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوحَى إِلَيْهِ وَخِيَارُ أَئِمَّتِكُمْ لَوْ أَطَاعَهُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُوا فَكَيْفَ بِكُمُ الْيَوْمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْمُسْتَمِرِّ بْنِ الرَّيَّانِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ثِقَةٌ.
Narrated Abu Nadrah: Abu Sa'eed Al-Khudri recited: And know that among you there is the Messenger of Allah. If he were to obey you in much of the matter, you would surely be in trouble (49:7). He said: This is your Prophet (ﷺ) to whom the Revelation came, and the best of your leaders, if he had obeyed them in may of their matters, then he would have been in trouble. So how about you people today?
ابونضرہ کہتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے آیت: «واعلموا أن فيكم رسول الله لو يطيعكم في كثير من الأمر لعنتم» ”جان لو تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے، اگر وہ بیشتر معاملات میں تمہاری بات ماننے لگ جائے تو تم مشقت و تکلیف میں پڑ جاؤ گے“ ( الحجرات: ۷ ) ، تلاوت کی اور اس کی تشریح میں کہا: یہ تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، ان پر وحی بھیجی جاتی ہے اور اگر وہ بہت سارے معاملات میں تمہاری امت کے چیدہ لوگوں کی اطاعت کرنے لگیں گے تو تم تکلیف میں مبتلا ہو جاتے، چنانچہ ( آج ) اب تمہاری باتیں کب اور کیسے مانی جا سکتی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- علی بن مدینی کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن سعید قطان سے مستمر بن ریان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ ثقہ ہیں۔
Mishkat
292
عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةُ وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ
ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ درست رہو ، اور تم اس کی طاقت نہیں رکھتے ، اور جان لو کہ نماز تمہارا بہترین عمل ہے ، اور وضو کی حفاظت صرف مومن شخص ہی کر سکتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ مالک (فی الموطا ۱ /۳۴ ح ۶۵) و احمد (۵ /۲۸۰ ح ۲۲۷۷۸) و ابن ماجہ (۲۷۷) و الدارمی (۱ /۱۶۹ ح ۶۶۱) و الحاکم (۱ /۱۳۰ ح ۴۴۹) ۔
Mishkat
3930
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أوفى: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا الْعَدُوَّ انْتَظَرَ حَتَّى مَالَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ قَامَ فِي النَّاسِ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَاسْأَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ فَإِذَا لَقِيتُمْ فَاصْبِرُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ» ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ وَمُجْرِيَ السَّحَابِ وهازم الْأَحْزَاب واهزمهم وَانْصُرْنَا عَلَيْهِم»
عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ان ایام میں سے کسی روز جس میں آپ دشمن سے ملے زوال آفتاب کا انتظار فرمایا ، پھر کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب فرمایا :’’ لوگو ! دشمن سے ملاقات کی تمنا مت کرو بلکہ اللہ سے عافیت طلب کرو ۔ لیکن جب تم آمنے سامنے ہو جاؤ تو پھر صبر کرو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے یوں دعا فرمائی :’’ اے اللہ ! کتاب کے نازل فرمانے والے ، بادلوں کو چلانے والے اور لشکروں کو شکست دینے والے ! انہیں شکست دے اور ان کے خلاف ہماری مدد فرما ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Mishkat
4061
وَعَنْهُ قَالَ: قَرَأَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنهُ: (إِنَّما الصَّدَقاتُ للفقراءِ والمساكينِ) حَتَّى بَلَغَ (عَلِيمٌ حَكِيمٌ) فَقَالَ: هَذِهِ لِهَؤُلَاءِ. ثُمَّ قَرَأَ (وَاعْلَمُوا أَنَّ مَا غَنِمْتُمْ مِنْ شيءٍ فإنَّ للَّهِ خُمُسَه وللرَّسولِ) حَتَّى بلغَ (وابنِ السَّبِيلِ) ثُمَّ قَالَ: هَذِهِ لِهَؤُلَاءِ. ثُمَّ قَرَأَ (مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقرى) حَتَّى بلغَ (للفقراءِ) ثمَّ قرأَ (والذينَ جاؤوا منْ بعدِهِم) ثُمَّ قَالَ: هَذِهِ اسْتَوْعَبَتِ الْمُسْلِمِينَ عَامَّةً فَلَئِنْ عِشْتُ فَلَيَأْتِيَنَّ الرَّاعِيَ وَهُوَ بِسَرْوِ حِمْيَرَ نَصِيبُهُ مِنْهَا لَمْ يَعْرَقْ فِيهَا جَبِينُهُ. رَوَاهُ فِي شرح السّنة
مالک بن اوس بن حدثان ؓ بیان کرتے ہیں ، عمر بن خطاب ؓ نے یہ آیت ’’صدقات (زکوۃ) تو فقراء اور مساکین کے لیے ہیں ..... علیم حکیم ۔‘‘ تک تلاوت فرمائی ۔ فرمایا یہ (آیت) ان کے لیے ہے ، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ جان لو جو تم نے مالِ غنیمت حاصل کیا اس میں سے خمس اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے ۔ ..... مسافر ‘‘ تک تلاوت فرمائی ، پھر فرمایا : یہ ان کے لیے ہے ، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ اللہ نے بستی والوں سے اپنے رسول کو جو دیا ..... حتی کہ وہ فقراء کے لیے ‘‘ تک پہنچے ، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ وہ لوگ جو ان کے بعد آئے ۔‘‘ پھر فرمایا : یہ تمام مسلمانوں کے لیے ہے ، اگر میں زندہ رہا تو سروحمیر (یمن کے شہر) کے چرواہے کو مشقت اٹھائے بغیر اس سے اس کا حصہ پہنچ جائے گا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Mishkat
5216
وَعَنْ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ: «أَلَا إِنَّ الدُّنْيَا عَرَضٌ حَاضِرٌ يَأْكُلُ مِنْهُ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ أَلا وَإِن الآحرة أَجَلٌ صَادِقٌ وَيَقْضِي فِيهَا مَلِكٌ قَادِرٌ أَلَا وَإِنَّ الْخَيْرَ كُلَّهُ بِحَذَافِيرِهِ فِي الْجَنَّةِ أَلَا وَإِنَّ الشَّرَّ كُلَّهُ بِحَذَافِيرِهِ فِي النَّارِ أَلَا فَاعْمَلُوا وَأَنْتُمْ مِنَ اللَّهِ عَلَى حَذَرٍ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مَعْرُوضُونَ عَلَى أَعْمَالِكُمْ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شرا يره» . للشَّافِعِيّ
عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک روز خطبہ ارشاد فرمایا تو آپ ﷺ نے اپنے خطبے میں فرمایا :’’ سن لو ! دنیا ایک حاضر مال ہے ، نیک بھی اس سے کھاتا ہے اور فاجر بھی ، سن لو ! آخرت ایک اٹل حقیقت ہے ، اس وقت قادر مطلق بادشاہ (نیک و فاجر کے درمیان) فیصلہ کرے گا ، سن لو ! خیر مکمل طور پر جنت میں ہے اور سن لو ! شر مکمل طور پر جہنم میں ہے ، اور سن لو ! عمل کرتے رہو ، تم اللہ کی طرف سے (وقوع شر کے خوف سے) ڈرتے رہو ، اور جان لو کہ تمہیں تمہارے اعمال پر پیش کیا جائے گا ، جس شخص نے ذرہ برابر نیکی کی ہو گی اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہو گی وہ بھی اسے دیکھ لے گا ۔‘‘ امام شافعی نے اسے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الشافعی ۔
Musnad Ahmad
3342
۔ (۳۳۴۲) عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: آخِرُ مَا تَکَلَّمَ بِہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَخْرِجُوْا یَہُوْدَ أَہْلِ الْحِجَازِ وَأَہْلَ نَجْرَانَ مِنْ جَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ، وَاعْلَمُوا أَنَّ شِرَارَ النَّاسِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِیَائِہِمْ مَسَاجِدَ)) (مسند احمد: ۱۶۹۱)
سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سب سے آخری بات یہ فرمائی تھی: حجاز کے یہودیوں اور نجران والوں کو جزیرۂ عرب سے نکال دو اور یاد رکھو کہ سب سے برے وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا تھا۔
Musnad Ahmad
4975
۔ (۴۹۷۵)۔ عن أَبی حَیَّانَ، قَالَ: سَمِعْتُ شَیْخًا بِالْمَدِینَۃِ یُحَدِّثُ: أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ أَبِی أَوْفَی کَتَبَ إِلٰی عُبَیْدِ اللّٰہِ إِذْ أَرَادَ أَنْ یَغْزُوَ الْحَرُورِیَّۃَ، فَقُلْتُ لِکَاتِبِہِ وَکَانَ لِی صَدِیقًا: انْسَخْہُ لِی، فَفَعَلَ إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُولُ: ((لَا تَمَنَّوْا لِقَائَ الْعَدُوِّ، وَسَلُوا اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ الْعَافِیَۃَ، فَإِذَا لَقِیتُمُوہُمْ فَاصْبِرُوْا، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّۃَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّیُوفِ۔)) قَالَ: فَیَنْظُرُ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ نَہَدَ إِلٰی عَدُوِّہِ، ثُمَّ قَالَ: ((اللّٰہُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ، وَمُجْرِیَ السَّحَابِ، وَہَازِمَ الْأَحْزَابِ، اہْزِمْہُمْ وَانْصُرْنَا عَلَیْہِمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۳۲۴)
۔ ابو حیان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ میں ایک بزرگ سے سنا، وہ بیان کر رہے تھے کہ سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عبید اللہ کی طرف ایک خط لکھا، یہ اس وقت کی بات ہے، جب اس نے حروریہ یعنی خوارج سے لڑنا چاہا تھا، اس کا کاتب میرا دوست تھا، میں نے اس سے کہا: تو اس کو میرے لیے بھی حرف بہ حرف لکھ، اس نے ایسے ہی کیا، بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دشمنوں سے لڑنے کی تمنا نہ کیا کرو اور اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کیا کرو، ہاں جب ان سے ٹکر ہو جائے تو پھر صبر کیا کرو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انتظار کرتے، یہاں تک کہ جب سورج ڈھل جاتا تو دشمن کی طرف کھڑے ہوتے اور یہ دعا کرتے: اَللَّہُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ، وَمُجْرِیَ السَّحَابِ، وَہَازِمَ الْأَحْزَابِ، اہْزِمْہُمْ وَانْصُرْنَا عَلَیْہِمْ۔(اے اللہ! اے کتاب کو نازل کرنے والے! بادلوں کو چلانے والے! لشکروں کو شکست دینے والے! تو ان کو شکست دے اور ان پر ہماری مدد فرما۔)