مشکوۃ

Mishkat

دعاؤں کا بیان

تسبیح ، تحمید ، تہلیل اور تکبیر کے ثواب کا بیان

بَاب ثَوَابُ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا قَالَ عَبْدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا قَطُّ إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ حَتَّى يُفْضِيَ إِلَى الْعَرْشِ مَا اجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيث غَرِيب

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب کوئی بندہ کبیرہ گناہوں سے بچتے ہوئے اخلاص کے ساتھ ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ)) کہتا ہے تو اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں حتیٰ کہ وہ عرش تک پہنچ جاتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۳۵۹۰) ۔

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقِيتُ إِبْرَاهِيمَ لَيْلَةَ أُسَرِيَ بِي فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَقْرِئْ أُمَّتَكَ مِنِّي السَّلَامَ وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ الْجَنَّةَ طَيِّبَةُ التُّرْبَةِ عَذْبَةُ الْمَاءِ وَأَنَّهَا قِيعَانٌ وَأَنَّ غِرَاسَهَا سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِسْنَادًا

ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ شب معراج ابراہیم ؑ سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے فرمایا :’’ محمد (ﷺ) ! میری طرف سے اپنی امت کو سلام کہنا اور انہیں بتانا کہ جنت کی مٹی بہت اچھی ہے اور اس کا پانی شیریں ہے لیکن وہ ایک صاف میدان ہے ، اور ((سُبْحَانَ اللہِ وَ الْحَمْدُلِلہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَر)) کہنا اس میں درخت لگانا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث سند کے لحاظ سے حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۴۶۲) و احمد (۵ / ۴۱۸ ح ۲۳۹۴۸) ۔

وَعَنْ يُسَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ قَالَتْ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُنَّ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّهْلِيلِ وَالتَّقْدِيسِ واعقِدْنَ بالأناملِ فإِنهنَّ مسؤولات مُسْتَنْطَقَاتٌ وَلَا تَغْفُلْنَ فَتَنْسَيْنَ الرَّحْمَةَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد

یُسیرہ ؓ جو کہ مہاجرات میں سے تھیں بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا :’’ ((سُبْحَانَ اللہِ)) ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ)) اور ((سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسَ)) پڑھنے کا التزام (اہتمام) کرو اور انہیں انگلیوں کے پوروں پر شمار کرو کیونکہ (روز قیامت) ان سے پوچھا جائے گا اور وہ کلام کریں گے ، غافل نہ ہونا ورنہ تمہیں رحمت سے محروم کر دیا جائے گا ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۳۵۸۳) و ابوداؤد (۱۵۰۱)

عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: عَلِّمْنِي كَلَامًا أَقُولُهُ قَالَ: «قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَى بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ» . فَقَالَ فَهَؤُلَاءِ لِرَبِّي فَمَا لِي؟ فَقَالَ: «قُلِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي» . شَكَّ الرَّاوِي فِي «عَافِنِي» . رَوَاهُ مُسلم

سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، مجھے کوئی کلام سکھائیں جسے میں پڑھا کروں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کہو ((لا الہ الا اللہ ...... العزیز الحکیم)) ’’ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ کے لئے بہت زیادہ حمد ہے ، پاک ہے اللہ جہانوں کا پروردگار ، گناہوں سے بچنا اور نیکی کرنا محض اللہ غالب حکمت والے کی توفیق ہی سے ممکن ہے ۔‘‘ اس اعرابی نے عرض کیا ، یہ کلمات تو میرے رب کے لئے ہوئے تو میرے لئے کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کہو : اے اللہ ! مجھے بخش دے ، مجھ پر رحم فرما ، مجھے ہدایت نصیب فرما ، مجھے رزق عطا فرما اور مجھے عافیت میں رکھ ۔‘‘راوی کو ((عافنی)) کے الفاظ میں شک ہے ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى شَجَرَةٍ يَابِسَةِ الْوَرَقِ فَضَرَبَهَا بِعَصَاهُ فَتَنَاثَرَ الْوَرَقُ فَقَالَ: «إِنَّ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ تُساقطُ ذُنوبَ العَبدِ كَمَا يتَساقطُ وَرَقُ هَذِهِ الشَّجَرَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حديثٌ غَرِيب

انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک درخت کے پاس سے گزرے جس کے پتے خشک ہو چکے تھے ، آپ ﷺ نے اس پر اپنی لاٹھی ماری تو پتے گر پڑے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ((الْحَمْدَلِلہِ ، سُبْحَانَ اللہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ)) بندے کے گناہ گرا دیتاہے جیسے اس درخت کے پتے گررہے ہیں ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی (۳۵۳۳) و احمد (۳ / ۱۵۲) و البخاری فی الادب المفرد (۶۳۴) ۔

وَعَن مَكحولِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَكْثِرْ مِنْ قَوْلِ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ . قَالَ مَكْحُولٌ: فَمَنْ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ وَلَا مَنْجًى مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ كَشَفَ اللَّهُ عَنْهُ سَبْعِينَ بَابًا مِنَ الضُّرِّ أَدْنَاهَا الْفَقْرُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ وَمَكْحُولٌ لَمْ يَسْمَعْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

مکحول ، ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ)) کثرت سے پڑھا کرو ، کیونکہ وہ جنت کاخزانہ ہے ۔‘‘ مکحول نے فرمایا : جو شخص ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ وَلَا مَنْجَاءَ مِنَ اللہِ اِلَّا اِلَیْہِ)) پڑھتا ہے تو اللہ اس سے ستر قسم کی تکلیفیں دور فرما دیتا ہے اور ان میں سے سب سے کم فقر ہے ۔ ترمذی ، اور امام ترمذی نے فرمایا : اس حدیث کی سند متصل نہیں ، مکحول نے ابوہریرہ ؓ سے نہیں سنا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۶۰۱) و ابن حبان (۲۳۳۸) ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ دَوَاءٌ مِنْ تِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ دَاء أيسرها الْهم»

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ )) ننانوے بیماریوں کی دوا ہے اور ان میں سے سب سے ہلکی بیماری غم ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر (۱ / ۱۲۸ ح ۱۷۱) و صححہ الحاکم (۱ / ۵۴۲) ۔

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: أَسلَمَ عَبدِي واستسلم . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيّ فِي الدَّعْوَات الْكَبِير

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں ایسا کلمہ نہ بتاؤں ، جو کہ عرش کے نیچے جنت کا خزانہ ہے ، اور وہ ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ )) ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے اطاعت اختیار کر لی اور اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیا ۔‘‘ امام بیہقی نے دونوں روایتیں الدعوات الکبیر میں روایت کی ہیں ۔ صحیح ، رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر (۱ / ۱۰۱ ح ۱۳۵) و احمد (۲ / ۲۹۸ ، ۳۶۳)و النسائی (۱۳ و الکبری : ۹۸۴۱) و صححہ الحاکم (۱ / ۲۱) و احمد ۲ / ۵۲۰) و النسائی (۳۵۸) و الحاکم ۱ ۵۱۷) و فتح الباری (۱۱ / ۵۰۱) ۔

وَعَن ابْن عمر أَنَّهُ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ هِيَ صَلَاةُ الْخَلَائِقِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَلِمَةُ الشُّكْرِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ كَلِمَةُ الْإِخْلَاصِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أسلم عَبدِي واستَسلَم. رَوَاهُ رزين

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : ((سُبْحَانَ اللہِ)) کہنا مخلوق کی عبادت ہے ، ((اَلْحَمْدُلِلہِ)) کلمۂ شکر ہے ، ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ)) کلمہ اخلاص ہے ، ((اَللہُ اَکْبَرُ)) زمین و آسمان کے خلا کو بھر دیتا ہے ، اور جب بندہ ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ)) پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اس نے اطاعت اختیار کی اور اپنے آپ کو میرے سپرد کر دیا ۔ رواہ رزین ، لم اجدہ و رواہ الحاکم (۱ / ۲۱) و احمد (۲ / ۲۹۸ ، ۳۶۳ ، ۳۳۵ ، ۳۵۵ ، ۴۰۳) ۔