اور امام احمد ؒ نے براء ؓ سے اسے روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ احمد ۔
حفصہ ؓ سے روایت ہے کہ ، رسول اللہ ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو آپ اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھتے اور تین بار یہ دعا فرماتے :’’ اے اللہ ! تو جس روز اپنے بندوں کو اٹھائے گا اس روز مجھے اپنے عذاب سے بچانا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ لیٹتے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں تیرے عزت والے چہرے اور تیرے کامل کلمات کے ذریعے ہر اس چیز کے شر سے ، جس کی پیشانی تو نے تھام رکھی ہے ، پناہ چاہتا ہوں ، اے اللہ ! تو ہی قرض اور گناہ دور کرنے والا ہے ، اے اللہ ! تیرے لشکر کو شکست نہیں دی جا سکتی ، تیرا وعدہ خلاف نہیں ہوتا ، کسی تونگر شخص کی تونگری تیرے ہاں کام نہیں آ سکتی ، تو ہی اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اپنے بستر پر آئے اور تین مرتبہ یہ دعا پڑھے : میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ زندہ ، قائم رکھنے والا ہے اور میں اسی کے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ تو اللہ اس کے گناہ معاف کر دیتا ہے خواہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں یا وادی عالج کی ریت کے ذرات کی تعداد یا درختوں کے پتوں یا دنیا کے ایام کے برابر ہوں ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
شداد بن اوس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب کوئی مسلمان لیٹتے وقت قرآن مجید کی کوئی سورت تلاوت کرتا ہے تو اللہ اس پر ایک فرشتہ مامور فرما دیتا ہے تو پھر اس کے بیدار ہونے تک کوئی موذی چیز اس کے قریب نہیں جاتی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دو خصلتیں ایسی ہیں کہ جو کوئی مسلمان ان کی حفاظت کرتا ہے وہ جنت میں داخل ہو گا ، سن لو ! وہ بہت آسان ہیں ۔ لیکن انہیں بجا لانے والے قلیل ہیں ، ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ کہنا ، دس مرتبہ الحمدللہ کہنا اور دس مرتبہ اللہ اکبر کہنا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھ سے ان کی گرہ لگا رہے تھے ، فرمایا :’’ یہ (پانچوں نمازوں میں) زبان پر ایک سو پچاس ہیں جبکہ میزان میں پندرہ سو ہیں ۔ اور جب وہ لیٹتے وقت سبحان اللہ ، اللہ اکبر اور الحمدللہ کی سو مرتبہ گنتی کرے تو یہ زبان پر سو ہے جبکہ ترازو میں ہزار ، تم میں سے روزانہ اڑھائی ہزار گنا کون کرتا ہے ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، ہم ان (دو خصلتوں) کی کیسے حفاظت نہیں کریں گے ؟ فرمایا :’’ تم میں سے کوئی نماز میں ہوتا ہے ۔ شیطان اس کے پاس آتا ہے تو کہتا ہے : فلاں چیز یاد کرو ، فلاں چیز یاد کرو حتیٰ کہ وہ شخص نماز سے فارغ ہو جاتا ہے ، شاید کہ وہ ایسے نہ کر سکے اور وہ اس کے لیٹنے کے وقت بھی اس کے پاس آتا ہے اور وہ اسے سلاتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ سو جاتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ۔ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے فرمایا :’’ دو خصلتیں ایسی ہیں جن کی مسلمان بندہ حفاظت نہیں کرتا ۔‘‘ اور اسی طرح اس کی روایت میں ہے :’’ میزان میں پندرہ سو ہے ۔‘‘ کہنے کے بعد فرمایا : جب وہ اپنے بستر پر آئے تو وہ چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہتا ہے ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ کہتا ہے اور تینتیس مرتبہ سبحان اللہ کہتا ہے ۔‘‘ اور مصابیح کے اکثر نسخوں میں عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
عبداللہ بن غنام ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص صبح کے وقت یہ دعا کرتا ہے :’’ اے اللہ ! جو نعمت مجھے یا تیری مخلوق میں سے کسی کو ملی ہے وہ صرف تجھ اکیلے ہی کی طرف سے ملی ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ، ہر قسم کی تعریف اور شکر تیرے ہی لئے ہے ۔‘‘ وہ شخص اس روز کا شکر ادا کر دیتا ہے ، اور جو شخص شام کے وقت یہی دعا کرتا ہے تو وہ اس شام کا شکر ادا کر دیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ اپنے بستر پر تشریف لاتے تو آپ یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! زمین و آسمان کے رب ! اور ہر چیز کے رب ! دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے ! تورات ، انجیل اور قرآن نازل کرنے والے ! میں ہر شر والی چیز کے شر سے جس کی تو پیشانی پکڑے ہوئے ہے پناہ چاہتا ہوں ، تو ہی اول ہے تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں ، تو ہی آخر ہے تیرے بعد کوئی چیز نہیں ، تو ہی غالب ہے تیرے اوپر کوئی چیز نہیں ، تو ہی باطن ہے اور تجھ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ، مجھ سے قرض دور کر دے ، اور مجھے فقر سے غنی کر دے ۔‘‘ ابوداؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ ۔ اور امام مسلم نے تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و ابن ماجہ و مسلم ۔
ابوازہرا نماری ؓ روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ جب اپنے بستر پر لیٹ جاتے تو یہ دعا پڑھتے تھے :’’ اللہ کے نام کے ساتھ ، میں نے اپنا پہلو اللہ کے لئے (بستر پر) لگایا ، اے اللہ میرے گناہ معاف کر دے ، میرے شیطان کو ذلیل کر دے ، مجھے تمام حقوق سے آزاد کر دے اور مجھے مجلس اعلیٰ میں شامل فرما ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو یہ دعا پڑھتے :’’ ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے مجھے کفایت کیا ، مجھے مسکن عطا کیا ، مجھے کھلایا پلایا ، جس نے مجھ پر ان گنت انعام و احسان کیا ، جس نے مجھے عطا فرمایا تو بہت عطا فرمایا ، ہر حال میں اللہ کا شکر ہے ، اے اللہ ! ہر چیز کے رب اور اس کے مالک و بادشاہ اور ہر چیز کے معبود میں جہنم سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
بُریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، خالد بن ولید ؓ نے نبی ﷺ سے شکایت کرتے ہوئے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں بے خوابی کی وجہ سے پوری رات نہیں سوتا ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم اپنے بستر پر آؤ تو یہ دعا پڑھو :’’ اے اللہ ! ساتوں آسمانوں اور جن چیزوں پر انہوں نے سایہ کیا ہے ان کے رب ! زمینوں اور جن چیزوں کو انہوں نے اٹھا رکھا ہے ان کے رب ! شیاطین اور جن کو انہوں نے گمراہ کیا ہے ان کے رب ! اپنی ساری مخلوق کے شر سے ، یہ کہ ان میں سے کوئی مجھ پر زیادتی کرے ، مجھے پناہ دینے والا ہو جا ، تجھ سے پناہ لینے والا غالب آتا ہے ، تیری ثنا و تعریف بہت زیادہ ہے اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا اس روایت کی اسناد قوی نہیں ۔ حکم بن ظہیر راوی کی احادیث کو بعض محدثین نے ترک کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔
ابومالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی صبح کرے تو یہ دعا کرے :’’ ہم نے اور تمام جہانوں کے پروردگار کے ملک نے صبح کی ، اے اللہ ! میں تجھ سے اس دن کی فتح و نصرت ، اس کی روشنی و برکت اور اس کی ہدایت کا سوال کرتا ہوں ، اور اس دن کے اور اس کے بعد والے دنوں کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ پھر جب شام کرے تو بھی اسی طرح دعا پڑھے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عبدالرحمن بن ابوبکرہ بیان کرتے ہیں ، میں نے اپنے والد سے کہا : ابا جان ! میں آپ کو ہر روز یہ دعا پڑھتے ہوئے سنتا ہوں :’’ اے اللہ ! مجھے میرے بدن میں عافیت دے ، اے اللہ ! مجھے میرے کانوں میں عافیت دے ، اے اللہ ! مجھے میری آنکھوں میں عافیت دے ، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔‘‘ آپ صبح و شام تین تین مرتبہ انہیں پڑھتے ہیں ۔ تو انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو ان کلمات کے ذریعے دعا کرتے ہوئے سنا ہے لہذا میں آپ ﷺ کی سنت کی اقتدا کرنا چاہتا ہوں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عبداللہ بن ابی اوفی ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ صبح کرتے تو یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’ ہم نے اور اللہ کے ملک نے صبح کی ، ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے ، کبریائی و عظمت اللہ کے لئے ہے ، خلق و امر ، لیل و نہار اور جو چیزیں ان میں ہیں اللہ کے لئے ہیں ، اے اللہ ! اس دن کے اول حصے کو صلاح بنا دے ، اس کے اوسط کو نجاح اور آخر کو فلاح بنا دے ، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔‘‘ امام نووی نے ابن السنی کی روایت سے اسے کتاب الاذکار میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ۔
عبدالرحمن بن ابزی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ جب صبح کرتے تو یہ دعا کیا کرتے تھے :’’ ہم نے فطرتِ اسلام ، کلمہ اخلاص ، اپنے نبی محمد ﷺ کے دین اور اپنے باپ ابراہیم جو کہ یکسو تھے ، مشرکین میں سے نہیں تھے ، کی ملت پر صبح کی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الدارمی ۔