عبداللہ خطمی ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ لشکر روانہ کرنے کا ارادہ فرماتے تو یوں دعا فرماتے :’’ میں تمہارے دین ، تمہاری امانتوں اور تمہارے آخری اعمال کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں سفر کا ارادہ رکھتا ہوں ، آپ مجھے زاد راہ عطا فرمائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تمہیں تقویٰ کا زاد راہ عطا فرمائے ۔‘‘ اس نے عرض کیا : کچھ زیادہ فرمائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ تمہارے گناہ بخش دے ۔‘‘ اس نے عرض کیا ، میرے والدین آپ پر قربان ہوں ، زیادہ فرمائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم جہاں بھی ہو اللہ تمہارے لئے خیرو بھلائی آسان فرما دے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ کسی آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں سفر کرنا چاہتا ہوں ، لہذا آپ مجھے کوئی وصیت فرمائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کے تقویٰ اور ہر اونچی جگہ پر اللہ اکبر پڑھنے کا التزام کرنا ۔‘‘ جب وہ آدمی واپس چلا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! اس کی دوری و مسافت کو لپیٹ (کر سمیٹ) دے اور سفر کو اس کے لئے آسان کر دے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ سفر میں ہوتے اور رات ہو جاتی تو آپ ﷺ فرماتے :’’ زمین ! میرا اور تیرا رب اللہ ہے ، میں تیرے شر سے ، جو کچھ تجھ میں ہے اس کے شر سے ، جو تجھ میں پیدا کیا گیا ہے اس کے شر سے اور جو چیز تیری سطح پر چل رہی ہے اس کے شر سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ۔ میں شیر ، کالے ناگ ، سانپ و بچھو کے شر سے اور بستی کے باسیوں اور والد (شیطان) اور ذریت (اولاد شیطان) کے شر سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ جہاد کے لئے نکلتے تو یوں دعا فرماتے :’’ اے اللہ ! تو ہی میرا بازو ہے ، تو ہی میرا مددگار ہے ، میں تیری ہی توفیق سے دشمن کی چالوں کو رد کرتا ہوں ، تیری ہی مدد سے (دشمن پر) حملہ کرتا ہوں اور تیری توفیق و نصرت سے قتال کرتا ہوں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ کو کسی قوم سے اندیشہ ہوتا تو آپ ﷺ یوں دعا فرماتے تھے :’’ اے اللہ ہم ان کے مقابلے میں تجھے کرتے ہیں ، اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ میں آتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ اپنے گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو دعا فرماتے :’’ اللہ کے نام کے ساتھ ، میں نے اللہ پر توکل کیا ، اے اللہ ! ہم تیری پناہ چاہتے ہیں کہ ہم (صراط مستقیم سے) پھسل جائیں یا گمراہ ہو جائیں ، یا ہم ظلم کریں یا ہم پر ظلم کیا جائے ، یا ہم کسی سے جہالت سے پیش آئیں یا ہمارے ساتھ جہالت سے پیش آیا جائے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، نسائی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ ابوداؤد اور ابن ماجہ کی روایت میں ہے ، ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ جب بھی میرے گھر سے تشریف لے جاتے تو آپ ﷺ آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دعا فرماتے :’’ اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں گمراہ ہو جاؤں یا گمراہ کر دیا جاؤں ، یا میں ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے ، یا میں جہالت سے پیش آؤں یا مجھ سے جہالت سے پیش آیا جائے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و النسائی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب آدمی گھر سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھے :’’ اللہ کے نام کے ساتھ ، میں نے اللہ پر توکل کیا ، گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا محض اللہ کی توفیق سے ہے ۔‘‘ تو تب اسے کہا جاتا ہے : تیری راہنمائی کر دی گئی ، تجھے کفایت کر دی گئی اور تو بچا لیا گیا ۔ شیطان اس سے الگ ہو جاتا ہے ، اور دوسرا شیطان کہتا ہے : تمہارا ایسے آدمی پر کیسے زور چل سکتا ہے جس کی راہنمائی کر دی گئی ، اسے کفایت کر دی گئی اور اسے بچا لیا گیا ۔‘‘ ابوداؤد ۔ اور امام ترمذی نے ((لہ الشیطان)) تک روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
ابومالک اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب آدمی اپنے گھر داخل ہو تو یہ دعا پڑھے :’’ اے اللہ ! میں داخل ہونے کی جگہ اور نکلنے کی جگہ کی بھلائی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، اللہ کے نام کے ساتھ ہم داخل ہوئے اور اپنے رب اللہ پر ہم نے توکل کیا ، پھر وہ اپنے اہل خانہ کو سلام کرے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب شادی کے موقع پر کسی شخص کو دعا دیتے تو آپ ﷺ فرماتے :’’ اللہ تیرے لئے برکت کرے اور تم دونوں پر برکت کرے اور تم دونوں کو خیر پر اکٹھا کرے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت سے شادی کرے یا کوئی غلام خریدے تو وہ یوں دعا کرے :’’ اے اللہ ! میں تجھ سے اس کی خیرو بھلائی اور اس چیز کی خیرو بھلائی کا جس پر تو نے اسے پیدا کیا ، سوال کرتا ہوں ، اور میں اس کے شر سے اور اس چیز کے شر سے جس پر تو نے اسے پیدا کیا تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ اور جب اونٹ خریدے تو اس کی کوہان کی چوٹی پکڑ کر یہی دعا کرے ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں عورت اور خادم کے بارے میں ہے :’’ پھر اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر برکت کی دعا کرے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
ابوبکرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مغموم شخص کی دعا ہے :’’ اے اللہ ! میں تیری رحمت کا امیدوار ہوں ، مجھے لمحہ بھر کے لیے بھی میرے نفس کے سپرد نہ کرنا ، میرے تمام حالات درست کر دے ، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، کسی شخص نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! غموں اور قرضوں نے مجھے گھیر رکھا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں ایسا کلام نہ بتاؤں کہ جب تم وہ کلام پڑھو تو اللہ تمہارے غم دور کر دے اور تیری طرف سے تیرا قرض ادا کر دے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : جی ہاں ، کیوں نہیں ! ضرور بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا : صبح و شام یہ دعا پڑھا کرو :’’ اے اللہ ! میں فکر و غم سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، میں عجز و کاہلی سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، میں بخل و بزدلی سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، میں قرض کے زیادہ ہونے اور لوگوں کے غلبہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ وہ شخص بیان کرتا ہے : میں نے یہ وظیفہ کیا تو اللہ نے میرا غم دور کر دیا اور میرا قرض ادا کر دیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
علی ؓ سے روایت ہے کہ ایک مکاتب ان کے پاس آیا تو اس نے کہا : میں اپنی آزادی کے لئے طے شدہ رقم ادا کرنے سے عاجز ہوں لہذا آپ ؓ میری مدد فرمائیں ، انہوں نے فرمایا : کیا میں تجھے چند کلمات نہ سکھاؤں جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے سکھائے تھے ، اگر تجھ پر کسی بڑے پہاڑ کے برابر قرض ہو گا تو اللہ اسے تجھ سے ادا کر دے گا ، کہو :’’ اے اللہ ! تو اپنی حلال کردہ چیز کے ذریعے اپنی حرام کردہ چیز سے مجھے کافی ہو جا اور اپنے فضل کے ذریعے اپنے علاوہ مجھے سب سے بے نیاز کر دے ۔‘‘ ہم جابر ؓ سے مروی حدیث ((اِذَا سَمِعْتُمْ نُبَاحَ الْکِلَابِ)) باب تغطیۃ الاوانی میں ان شاء اللہ ذکر کریں گے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و البیھقی ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی مجلس میں بیٹھتے یا نماز پڑھتے تو آپ چند کلمات پڑھتے ، میں نے ان کلمات کے بارے میں آپ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تو اچھی باتیں کی گئیں تو یہ کلمات روز قیامت تک ان پر بطور مہر ہوں گے ، اور اگر کوئی بُری باتیں کی گئیں تو یہ کلمات ان کے لئے کفارہ ہوں گے :’’ اے اللہ ! تو اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے ، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
قتادہ ؒ بیان کرتے ہیں ، انہیں یہ خبر پہنچی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ چاند دیکھتے تو تین بار فرماتے :’’ خیرو بھلائی کے چاند ! میں اس ذات پر ایمان لایا جس نے مجھے پیدا فرمایا ۔‘‘ پھر فرماتے :’’ ہر قسم کی تعریف اس ذات کے لئے ہے جو فلاں مہینے کو لے گیا اور فلاں مہینہ لے آیا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص بہت زیادہ غم کا شکار ہو تو وہ یہ دعا کرے :’’ اے اللہ ! میں تیرا بندہ ہوں ، تیرے بندے اور تیری لونڈی کا بیٹا ہوں ، میں تیرے قبضہ و قدرت کے تحت ہوں ، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے ، تیرا حکم میرے بارے میں نافذ ہونے والا ہے ، تیرا میرے متعلق فیصلہ عدل پر مبنی ہے ، میں تیرے ہر اس نام سے ، جو تو نے اپنے لئے رکھا ، یا تو نے اسے اپنی کتاب میں نازل کیا ، یا تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ، یا تو نے اپنے بندوں کو الہام کیا ، یا تو نے اپنے پاس غیب کے خزانے میں اسے مخصوص کر لیا ، تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار ، میرے فکر و غم کا علاج بنا دے ۔‘‘ جو شخص یہ کلمات پڑھتا ہے تو اللہ اس کے غم دور کر دیتا ہے اور حزن و غم کو فرحت و مسرت میں تبدیل کر دیتا ہے ۔ لم اجدہ ، رواہ رزین ۔
وَعَن جابرٍ قَالَ: كُنَّا إِذَا صَعِدْنَا كَبَّرْنَا وَإِذَا نَزَلْنَا سبحنا. رَوَاهُ البُخَارِيّ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب ہم اوپر چڑھتے تو اللہ اکبر کہتے اور جب نیچے اترتے تو سبحان اللہ کہتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو کوئی تکلیف پہنچتی تو آپ یہ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے زندہ قائم رہنے والے ! میں تیری رحمت کے ذریعے مدد طلب کرتا ہوں ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، اور محفوظ نہیں ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، غزوہ خندق کے موقع پر ہم نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا کوئی کلمہ ہے جو ہم پڑھیں اب تو کلیجے منہ کو آ رہے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں : اے اللہ ! ہماری پردے کی چیزوں پر پردہ ڈال دے اور ہمارے خوف کو امن عطا فرما ۔‘‘ اللہ نے آندھی کے ذریعے آپ کے دشمن کا رخ بدل دیا ، اللہ نے آندھی کے ذریعے شکست دی ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد ۔