عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص نیند میں گھبرا جائے تو وہ یوں کہے :’’ میں اللہ کے کامل کلمات کے ذریعے ، اس کے غضب ، اس کے عقاب ، اس کے بندوں کے شر اور شیاطین کے وسوسوں سے کہ وہ میرے پاس آئیں ، پناہ چاہتا ہوں ‘‘ وہ (وسوسے) اسے ہرگز نقصان نہیں پہنچائیں گے ۔‘‘ عبداللہ بن عمرو ؓ اپنے بالغ بچوں کو یہ کلمات سکھایا کرتے تھے ، اور جو ابھی بالغ نہیں ہوئے تھے تو آپ انہیں کاغذ پر لکھ کر ان کے گلے میں ڈال دیا کرتے تھے ۔ ابوداؤد ، ترمذی ۔ اور یہ الفاظ ترمذی کے ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص تین مرتبہ اللہ سے جنت کا سوال کرتا ہے تو جنت کہتی ہے : اے اللہ ! اسے جنت میں داخل فرما ، اور جو شخص تین مرتبہ جہنم سے پناہ طلب کرتا ہے تو جہنم عرض کرتی ہے : اے اللہ ! اسے جہنم سے بچا ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
قعقاع بیان کرتے ہیں ، کعب احبار نے کہا : اگر میں چند کلمات نہ کہوں تو یہودی (جادو کے ذریعے) مجھے گدھا بنا دیں ، ان سے پوچھا گیا ، وہ کلمات کون سے ہیں ؟ انہوں نے کہا : میں اللہ عظیم کے چہرے کے ذریعے پناہ حاصل کرتا ہوں جس سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ، اور اللہ کے کامل کلمات کے ذریعے (پناہ حاصل کرتا ہوں) جن سے کوئی نیک تجاوز کر سکتا ہے نہ کوئی فاجر ، اور اللہ کے اسمائے حسنی کے ذریعے جنہیں میں جانتا ہوں اور جنہیں میں نہیں جانتا ، ہر چیز کے شر سے پناہ چاہتا ہوں جو اس نے پیدا فرمائی اور پھیلائی اور مناسب بنائی ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک ۔
مسلم بن ابی بکرہ بیان کرتے ہیں ، میرے والد نماز کے بعد دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں کفر و فقر اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ میں بھی انہیں پڑھا کرتا تھا ، انہوں نے کہا : بیٹا تم نے انہیں کس سے سیکھا ہے ؟ میں نے عرض کیا ، آپ سے ، انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ انہیں نماز کے بعد کہا کرتے تھے ۔ ترمذی ، نسائی ۔ البتہ امام ترمذی ؒ نے ’’ نماز کے بعد ‘ کا ذکر نہیں کیا ۔ اور امام احمد ؒ نے حدیث کے الفاظ روایت کیے اور ان کی روایت میں ہے ’’ ہر نماز کے بعد ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی و الترمذی و احمد ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اے اللہ ! میں کفر و قرض سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ کسی آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا کفر ، قرض کے برابر ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں !‘‘ اور دوسری روایت میں ہے :’’ اے اللہ ! میں کفر و فقر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ کسی آدمی نے عرض کیا : وہ دونوں برابر ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں !‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی ۔