مشکوۃ

Mishkat

دعاؤں کا بیان

جامع دعاؤں کا بیان

بَاب جَامع الدُّعَاء

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَدْ خَفَتَ فَصَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ كُنْتَ تَدْعُو اللَّهَ بِشَيْءٍ أَوْ تَسْأَلُهُ إِيَّاهُ؟» . قَالَ: نَعَمْ كُنْتُ أَقُولُ: اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبِي بِهِ فِي الْآخِرَةِ فَعَجِّلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سُبْحَانَ اللَّهِ لَا تُطِيقُهُ وَلَا تَسْتَطِيعُهُ أَفَلَا قُلْتَ: اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ . قَالَ: فَدَعَا الله بِهِ فشفاه الله. رَوَاهُ مُسلم

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مسلمان شخص کی عیادت کی ، وہ پرندے کے بچے کی طرح کمزور ہو چکا تھا ، رسول اللہ ﷺ نے (اس کی یہ حالت دیکھ کر) اسے فرمایا :’’ کیا تم اللہ سے کوئی دعا یا کسی خاص چیز کا سوال کرتے ہو ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، جی ہاں ، میں کہا کرتا تھا : اے اللہ ! تو نے جو مجھے آخرت میں سزا دینی ہے وہ تو مجھے دنیا میں دے لے ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سبحان اللہ ! تم (دنیا میں) اس کی طاقت رکھتے ہو نہ تم (آخرت میں) اس کی استطاعت رکھتے ہو ، تم نے ایسے کیوں نہ کہا : اے اللہ ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھلائی عطا فرما ، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، اس شخص نے ان کلمات کے ذریعے دعا کی تو اللہ نے اسے شفا عطا کر دی ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يُذِلَّ نَفْسَهُ» . قَالُوا: وَكَيْفَ يُذِلُّ نَفْسَهُ؟ قَالَ: «يَتَعَرَّضُ مِنَ الْبَلَاءِ لِمَا لَا يُطِيقُ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث حسن غَرِيب

حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کسی مومن کی شان نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کرے ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا : وہ اپنے آپ کو کیسے ذلیل کرتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ایسے مصائب کو (دعا یا اعمال کے ذریعے) دعوت دیتا ہے ۔ جن کی وہ طاقت نہیں رکھتا ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، بیہقی فی شعب الایمان ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و البیھقی ۔

وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُلْ: اللَّهُمَّ اجْعَلْ سَرِيرَتِي خَيْرًا مِنْ عَلَانِيَتِي وَاجْعَلْ عَلَانِيَتِي صَالِحَةً اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ صَالِحِ مَا تُؤْتِي النَّاسَ مِنَ الْأَهْلِ وَالْمَالِ وَالْوَلَدِ غَيْرِ الضَّالِّ وَلَا الْمُضِلِّ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

عمر ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے مجھے دعا سکھائی تو فرمایا : کہو :’’ اے اللہ ! میرا باطن ، میرے ظاہر سے بہتر کر دے اور میرے ظاہر کو صالح بنا دے ، اے اللہ ! تو نے جو لوگوں کو اہل و مال اور اولاد دے رکھی ہے مجھے اس سے صالح عطا فرما ، جو خود گمراہ ہوں نہ گمراہ کن ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔