صحیح مسلم

Sahih Muslim

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

The book of prayer - funerals

جنازے کو جلدی لیے جانا

Chapter: Hastening with the funeral

و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ لَعَلَّهُ قَالَ تُقَدِّمُونَهَا عَلَيْهِ وَإِنْ تَكُنْ غَيْرَ ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ

Abu Huraira reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Make haste at a funeral; if the dead person was good, it is a good state to which you are sending him on; but if he was otherwise it is an evil of which you are ridding yourselves.

سفیان بن عیینہ نے زہری سے انھوں نے سعید ( بن مسیب ) سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فر ما یا جنا زے ( کو لے جا نے ) میں جلدی کرو ، اگر وہ ( میت ) نیک ہے تو جس کی طرف تم اس کو لے جا رہے ہو وہ خیرہے اگر وہ اس کے سوا ہے تو پھر وہ شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتاردو گے ۔

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ كِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ قَالَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَ الْحَدِيثَ

This hadith has been narrated by another chain of transmitters except with this variation (of words) that in the hadith narrated by Ma'mar (the words are): I do not know whether the hadith is marfu'.

معمر اور محمد بن ابی حفصہ دو نوں نے زہری سے ، انھوں نے سعید ( بن مسیب ) سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ( یہی حدیث ) روایت کی ، لیکن معمر کی حدیث میں ہے انھوں نے کہا : میں اس کے سوا اور کچھ نہیں جا نتا کہ انھوں ( ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے اس حدیث کو مرفوع ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ) بیان کیا ہے ۔

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ قَالَ هَارُونُ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَرَّبْتُمُوهَا إِلَى الْخَيْرِ وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ ذَلِكَ كَانَ شَرًّا تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ

Abu Huraira reported Allah's Messenger as saying: Hasten at a funeral, for if (the dead person) is good, you would (soon) bring him close to the good. And if it is otherwise, it is an evil of which you are ridding yourselves.

ابو امامہ بن سہل بن حنیف نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فر ما تے ہو ئے سنا ہے : " جنا زے میں جلدی کرو اگر ( میت ) نیک ہے تو تم نے اسے بھلا ئی کے قریب کر دیا اور اگر وہ اس کے سوا ہے تو شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتار دو گے ۔