صحیح مسلم

Sahih Muslim

کتاب: حج کے احکام ومسائل

The book of pilgrimage

مدینہ والوں کو مسجد ذوالحلیفہ سے احرام باندھنے کا حکم

Chapter: The command to the people of Al-Madinah to enter Ihram from the Masjid at Dhul-Hulaifah

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: بَيْدَاؤُكُمْ هَذِهِ الَّتِي تَكْذِبُونَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا «مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ» يَعْنِي ذَا الْحُلَيْفَةِ

Salim b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported that he heard his father saying: This place Baida' is for you that about which you attribute lie to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). And the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) did not enter upon the state of Ihram but near the mosque at Dhu'l- Hulaifa.

یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی کہا میں نے مالک کے سامنے قراءت کی انھوں نے موسیٰ بن عقبہ سے اور انھوں نے سالم بن عبد اللہ سے روایت کی کہ انھوں نے اپنے والد ( عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے سنا انھوں نے فر ما یا : یہ تمھا را چٹیل میدا ن بيداءوہ مقام ہے جس کے حوالے سے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں غلط بیا نی کرتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اور جگہ سے نہیں مگر مسجد کے قریب ( یعنی ذوالحلیفہ ) ہی سے احرا م باندھا تھا ۔

وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، إِذَا قِيلَ لَهُ: الْإِحْرَامُ مِنَ الْبَيْدَاءِ، قَالَ: الْبَيْدَاءُ الَّتِي تَكْذِبُونَ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ عِنْدِ الشَّجَرَةِ، حِينَ قَامَ بِهِ بَعِيرُهُ»

Salim reported that when it was said to Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) that the state of Ihram (commences from)a al-Baida' he said: Al-Baida', you attribute lie about it to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). And the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) did not enter upon the state of Ihram but near the tree when his camel stood up with him.

حاتم یعنی ابن اسماعیل نے مو سیٰ بن عقبہ سے انھوں نے سالم سے حدیث بیان کی کہا : جب ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ کہا جا تا کہ احرا م بیدا ء سے ( باند ھا جا تا ) ہے تو وہ کہتے پیداء وہ مقام ہے جس کے حوالے سے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غلط بیا نی کرتے ہو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اور جگہ سے نہیں درخت کے پاس ہی سے احرا م باندھا تھا ۔ جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہو گئی تھی ۔