صحیح مسلم

Sahih Muslim

کتاب: حج کے احکام ومسائل

The book of pilgrimage

میدان عرفات میں کہیں بھی وقوف کیا جا سکتا ہے

Chapter: All of Arafat is a place of standing

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَابِرٍ، فِي حَدِيثِهِ ذَلِكَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «نَحَرْتُ هَاهُنَا، وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ، فَانْحَرُوا فِي رِحَالِكُمْ، وَوَقَفْتُ هَاهُنَا، وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ، وَوَقَفْتُ هَاهُنَا، وَجَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ»

Jabir reported Allah's Messenger (May peace be upon him) as saying: I have sacrificed (the animals) here, and the whole of Mini is a place for sacrifice; so sacrifice your animals at your places. 1 have stayed here (near these rocks), and the whole of Arafat is a place for stay. And I have stayed here (at Muzdalifa near Mash'ar al-Haram and the whole of Muzdalifa) is a place for stay (i. e. one is permitted to spend night in any part of it, as one likes).

حضرت جعفر ؒ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، ( کہا : ) مجھے میرے والد نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کردہ اپنی اس حدیث میں یہ بھی بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے یہاں قربانی کی ہے ۔ ( لیکن ) پورا منیٰ قربان گاہ ہے ، اس لئے تم اپنے اپنے پڑاؤ ہی پر قربانی کرو ، میں نے اسی جگہ وقوف کیا ہے ( لیکن ) پورا عرفہ ہے مقام وقوف ہے اور میں نے ( مزدلفہ میں ) یہاں وقوف کیا ہے ( ٹھہرا ہوں ۔ ) اور پورا مزدلفہ موقف ہے ( اس میں کہیں بھی پڑاؤ کیا جاسکتاہے ۔

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَتَى الْحَجَرَ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ مَشَى عَلَى يَمِينِهِ، فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا»

Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) reported that when Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) proceeded to Mecca, he came to it (the Black Stone). he kissed it. and moved to his right. and moved quickly in three circuits, and walked in four circuits.

سفیان ( ثوری ) نے جعفر بن محمد سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے سابقہ سند کے ساتھ جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے تو حجر اسود کے پاس آئے ، اسے بوسہ دیا ، پھر ( طواف کے لئے ) اپنی دائیں جانب روانہ ہوئے ۔ ( تین چکروں میں ) چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے تیزی سے اور ( باقی ) چار میں عام رفتار سے چلے ۔