Abd al-'Aziz b. Rufai' (Allah be pleased with him) said: I asked Anas b. Malik to tell me about something he knew about Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), viz. where he observed the noon prayer on Yaum al-Tarwiya. He said: At Mina. I said: Where did he observe the afternoon prayer on the Yaum an-Nafr? and he said: It was at al-Abtah. He then said: Do as your rulers do.
عبد العزیز بن رفیع سے روایت ہے انھوں نے کہا میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا میں نے کہا : مجھے ایسی چیز بتا یئے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمجھی ہو ( اور یاد رکھی ہو ) آپ نے تر ویہ کے دن ( آٹھ ذوالحجہ کو ظہر کی نماز کہاں ادا کی تھی ؟ انھوں نے بتا یا منیٰ میں ۔ میں نے پو چھا : آپ نے ( منیٰ سے ) واپسی کے دن عصر کی نماز کہاں ادا کی ؟انھوں نے کہا اَبطح میں ۔ پھر کہا ( لیکن تم ) اسی طرح کرو جیسے تمھا رے امراء کرتے ہیں ۔
Ibn 'Umar (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and Abu Bakr and 'Umar observed halt at al-Abtah.
ایوب نے نا فع سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابطح میں پڑاؤ کیا کرتے تھے ( واپسی کے وقت مدینہ کے راستے میں منیٰ کے باہر وہیں پڑاؤ کیا جا سکتا تھا )
Nafi' reported that Ibn 'Umar regarded halt at Muhassab as Sunnah (of the Holy Prophet) and observed the noon prayer on Yaum al-Nafr at that place. Nafi' said: Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) halted at Muhassab and the Caliphs did the same after him.
صخر بن جو یریہ نے نافع سے حدیث بیان کی کہ حضر ت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ محصب میں پڑاؤ کرنے کو سنت سمجھتے تھے اور وہ روانگی کے دن ظہر کی نماز حصبہ ( محصب ) میں ادا کرتے تھے ۔ نافع نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد خلفاء نے وادی محصب میں قیام کیا ۔
A'isha (Allah be pleased with her) reported.: Halt at al-Abtah is not the Sunnah. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) halted there simply because it was easier for him to depart from there, when he left.
عبد اللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی ( کہا ) ہمیں ہشام نے اپنے والد ( عروہ ) سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا ابطح میں ٹھہر نا ( اعمال حج کی سنتوں میں سے کو ئی ) سنت نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اترے تھے کیونکہ ( مکہ سے ) روانہ ہو تے وقت وہاں سے نکلنا آسان تھا ۔
This hadith is narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters.
حفص بن غیاث حماد بن زید اور حبیب المعلم سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
Salim reported that Abu Bakr, 'Umar and Ibn Umar used to halt at Abtah. 'Urwa narrated from 'A'isha (Allah be pleased with her) that he did not observe this practice and said: Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) halted there, for it is a place from where it was easy to depart.
زہری نے سالم سے روایت کی کہ ابو بکر عمر اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابطح پڑاؤکیا کرتے تھے ۔ زہر ی نے کہا مجھے عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خبر دی کہ وہ ایسا نہیں کرتی تھیں اور ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اترے تھے کیونکہ پڑاؤ کی وہ جگہ آپ کے ( مکہ سے ) نکلنے کے لیے زیادہ آسان تھی ۔
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported: Halt at Muhassab is not something (significant from the point of view of the Shari'ah). It is a place of halt where Allah's Messenger (way peace be upon him) halted.
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا تحصب ( محصب میں ٹھہرنا ) کو ئی چیز نہیں وہ تو پڑاؤ کی ایک جگہ ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا تھا ۔
Abu Rafi' reported: Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) did not command me to observe halt at al-Abtah when be departed from Mina, but I came and set up his (the Holy Prcphet's) tent (of my own accord) ; and he (Allah's Apostle) came and observed halt. This hadith is narrated through another chain of transmitters from Abu Rafi' who was (in charge) of the luggage of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
قتیبہ بن سعید ابو بکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حر ب ان سب نے ابن عیینہ سے حدیث بیان کی انھوں نے صالح بن کیسان سے اور انھوں نے سلیمان بن یسارسے روایت کی انھوں کہا ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آپ نے منیٰ سے نکلے مجھے یہ حکم نہیں دیا تھا کہ میں ابطح میں قیام کروں لیکن میں ( خود ) وہاں آیا اور آپ کا خیمہ لگا یا اس کے بعد آپ تشریف لا ئے اور قیام کیا ۔ ابو بکر ( بن ابی شیبہ ) نے صالح سے ( بیان کردہ ) روایت میں کہا انھوں ( صالح ) نے کہا میں نے سلیمان بن یسار سے سنا اور قتیبہ کی روایت میں ہے ۔ ( سلیمان نے ) کہا ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان ( کی حفاظت اور نقل و حمل ) پر مامور تھے ۔
Abu Huraira (Allah be pleated with him) reported that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: God willing, we will get down tomorrow, at Khaif of Banu Kinanah, the place where they had taken an oath on unbelief.
یو نس نے ابن شہاب سے خبر دی انھوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن بن عوف سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : " کل ہم ان شاء اللہ خیف بنی کنانہ ( وادی محصب ) میں قیام کریں گے جہاں انھوں ( قریش ) نے باہم کفر پر ( قائم رہنے کی ) قسم کھا ئی تھی ۔
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported: Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to us as we were at Mina: We would observe halt tomorrow at-Khaif of Banu Kinanah, where (the polytheists) had taken an oath on unbelief, and that was that the Quraish and Banu Kinanah had, pledged against Banu Hashim and Banu Muttalib that they would neither marry nor do any transaction with them unless they deliver Allah's Messenger (way peace be upon him) to them. And (this pledge was) taken at this (place) Muhassab.
اوزاعی نے حدیث بیان کی ، ( کہا ) مجھے زہری نے حدیث سنا ئی ہے ( کہا ) مجھ سے ابو سلمہ نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہم منیٰ میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فر ما یا کل ہم خیف بنو کنا نہ میں قیام کر یں گے جہا ں انھوں ( قر یش ) نے آپس میں مل کر کفر پر ( ڈٹے رہنے کی ) قسم کھا ئی تھی ۔ واقعہ یہ تھا کہ قریش اور بنو کنا نہ نے بنو ہاشم اور بنو مطلب کے خلاف ایک دوسرے کے ساتھ معاہدہ کیا تھا کہ وہ نہ ان سے شادی بیاہ کریں گے نہ ان سے لین دین کریں گے ۔ یہاں تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حوالے کردیں ۔ اس ( خیف بنی کنانہ ) سے آپ کی مراد وادی محصب تھی ۔
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: God willing, when Allah has granted us victory, our halt tomorrow will be at Khaif, where they (the unbelievers of Mecca) had taken an oath on unbelief.
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا ان شاء اللہ جب اللہ نے فتح دی تو ہمارا قیام خیف ( محصب ) میں ہو گا ۔ جہاں انھوں ( قریش ) نے باہم مل کر کفر پر ( قائم رہنے کی قسم کھا ئی تھی ۔