Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) declared sacred the territory between two lava mountains of Medina. Abu Huraira said: If I were to find deer in the territory between the two mountains, I would not molest them, and he (the Holy Prophet) declared twelve miles of suburb around Medina as a prohibited pasture.
معمر نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی انھوں نے سعید بن مسیب سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے دو سیاہ پتھروں والے میدانوں کے درمیانی حصے کو حرم قرار دیا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اگر میں ان دو سیاہ پتھریلے میدانوں کے درمیان ہرنیوں کو پاؤں تو میں انھیں ہراساں نہیں کروں گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے اردگرد بارہ میل کا علاقہ محفوظ چراگاہ قراردیا ہے ۔
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that when the people saw the first fruit (of the season or of plantation) they brought it to Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ). When he received it he said: O Allah, bless us in our fruits; and bless us in our city; and bless us in our sa's and bless us in our mudd. O Allah, Ibrahim was Thy servant, Thy friend, and Thy apostle; and I am Thy servant and Thy apostle. He (Ibrahim) made supplication to Thee for (the showering of blessings upon) Mecca, and I am making supplication to Thee for Medina just as he made supplication to Thee for Mecca, and the like of it in addition. He would then call to him the youngest child and give him these fruits.
امام مالک بن انس کے سامنے جن احادیث کی قراءت کی گئی ان میں سے سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : لوگ جب ( کسی موسم کا ) پہلا پھل دیکھتے تو اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اسے پکڑ تے تو فرماتے اے اللہ !ہمارے پھلوں میں برکت عطا فرما ۔ ہمارے لیے شہر ( مدینہ ) میں برکت عطا فرما ہمارے لیے ہمارے صاع میں بر کت عطا فر ما اور ہمارے مد میں بر کت عطا فر ما ۔ اےاللہ !بلا شبہ ابرا ہیم ؑتیرے بندے تیرے خلیل اور تیرے نبی تھے میں تیرا بندہ اور نبی ہوں انھوں نے تجھ سے مکہ کے لیے دعا کی ، میں تجھ سے مدینہ کے لیے اتنی ( برکت ) کی دعا کرتا ہوں جو انھوں نے مکہ کے لیے کی اور اس کے ساتھ اتنی ہی مزید برکت کی بھی ۔ ( با ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : پھر آپ اپنے بچوں میں سب سے چھوٹے بچے کو بلا تے اور وہ پھل اسے دے دیتے ۔
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was given the first fruit and he said: O Allah, shower blessings upon us in our city, and in our fruits, in our mudd and in our sa's, blessings upon blessings, and he would then give that to the youngest of the children present there.
عبد العزیز بن محمد مدنی نے ہمیں سہیل بن ابی صالح سے خبر دی انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب ( کسی موسم کا ) پہلا پھل پیش کیا جا تا تو آپ فر ما تے : " اے اللہ !ہمارے لیے ہمارے شہر ( مدینہ ) میں ہمارے پھلوں میں ہمارے مد میں اور ہمارے صاع میں برکت پر بر کت فر ما " پھر آپ وہ پھل اپنے پاس موجود بچوں میں سب سے چھوٹے بچے کو دے دیتے ۔