صحیح مسلم

Sahih Muslim

کتاب: غلامی سے آزادی کا بیان

The book of emancipating slaves

آزاد کیے جانے والیے کی طرف سے اپنے موالی (آزاد کرنے والوں )کےسواکسی اور کی طرف نسبت اختیار کرنا حرام ہے

Chapter: The prohibition of a manumitted slave taking anyone as a Mawla except the one who manumitted him

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: كَتَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى كُلِّ بَطْنٍ عُقُولَهُ»، ثُمَّ كَتَبَ: «أَنَّهُ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُتَوَالَى مَوْلَى رَجُلٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ»، ثُمَّ أُخْبِرْتُ أَنَّهُ لَعَنَ فِي صَحِيفَتِهِ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ

Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) reported that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) made it obligatory for every tribe (the payment) of blood-wit; he then also made it explicit that it is not permissible for a Muslim to make himself the ally (of the slave emancipated by another) Muslim without his permission. He (the narrator further added): I was informed that he (the Holy Prophet) cursed the one who did that (and it was recorded) in his Sahifa (in a document).

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میثاقِ مدینہ میں ) دیتوں ( عقول ) کی ادائیگی قبیلے کی ہر شاخ پر لازم ٹھہرائی ، پھر آپ نے لکھا : " کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ کسی ( اور ) مسلمان کی اجازت کے بغیر اس کے ( مولیٰ ) غلام کو اپنا مولیٰ ( حقِ ولاء رکھنے والا ) بنا لے ۔ " پھر مجھے خبر دی گئی کہ آپ نے ، اپنے صحیفے میں ، اس شخص پر جو یہ کام کرے ، لعنت بھیجی

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ، وَلَا صَرْفٌ»

Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: He who takes anyone as his ally without the consent of his previous master, there will be the curse of Allah and that of His angels upon him, and neither, any obligatory act of his nor the supererogatory one will be accepted (by Allah).

سہیل نے اپنے والد ( صالح سمان ) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : : جس نے اپنے آزاد کرنے والوں کی اجازت کے بغیر کسی ( دوسری ) قوم کی ولاء اختیار کی ، اس پر اللہ کی اور فرشتوں کی لعنت ہے ۔ اور ( قیامت کے روز ) اس سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی نہ فدیہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ، وَلَا صَرْفٌ

Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: He who took the freed slave as his ally without the consent of his previous master, there is upon him the curse of Allah and that of His angels and that of the whole mankind, and there will not be accepted from him his obligatory acts or supercrogatory acts on the Day of Resurrection.

زائدہ نے سلیمان ( اعمش ) سے ، انہوں نے ابوصالح سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جس نے اپنے آزاد کرنے والوں کی اجازت کے بغیر کسی ( دوسری ) قوم کی ولاء اختیار کی ، اس پر اللہ کی ، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے ، اور قیامت کے دن اس سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا نہ کوئی سفارش

وحَدَّثَنِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «وَمَنْ وَالَى غَيْرَ مَوَالِيهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ»

This hadith is narrated through the same chain of transmitters, but with a slight change of words.

شیبان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، البتہ انہوں نے کہا : " جس نے اپنے آزاد کرنے والوں کے سوا ، ان کی اجازت کے بغیر کسی اور کے ساتھ موالات کی

وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: مَنْ زَعَمَ أَنَّ عِنْدَنَا شَيْئًا نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابَ اللهِ وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ، قَالَ: وَصَحِيفَةٌ مُعَلَّقَةٌ فِي قِرَابِ سَيْفِهِ، فَقَدْ كَذَبَ، فِيهَا أَسْنَانُ الْإِبِلِ، وَأَشْيَاءُ مِنَ الْجِرَاحَاتِ، وَفِيهَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا، وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا

Ibrahim al-Taimi reported on the authority of his father: 'Ali b. Abu Talib (Allah be pleased with him) addressed us and said: He who thinks that we (the members of the Prophet's family) read anything else besides the Book of Allah and this Sahifa (and he said that Sahifa was tied to the scabbard of the sword) tells a lie. (This Sahifa) contains (problems) pertaining to the ages of the camels and (the recompense) of the injuries, and it also records the words of the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ): Medina is a sacred territory from 'Ayr to Thaur (it is most probably Uhud). He who innovates (an act or practice) or gives protection to an innovator, there is a curse of Allah and that of His angels and that of the whole humanity upon him. Allah will not accdpt from him (as a recompense) any obligatory act or supererogatory act, and the responsibility of the Muslims is a joint responsibility; even the lowest in rank can undertake the responsibility (on behalf of others), and he who claims anyone else as his father besides his own father or makes one his ally other than the one (who freed him), there is a curse of Allah. that of His angels and that of the wholemankind upon him. Allah will not accept the obligatory act of the supererogatery act (as a recompense) from him.

ابراہیم تیمی کے والد یزید بن شریک سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور کہا : جس کا گمان ہے کہ ہمارے پاس کتاب اللہ اور اس صحیفے کے سوا ۔ ۔ ۔ کہا : وہ صحیفہ ان کی تلوار کی نیام سے لٹکا ہوا تھا ۔ ۔ کوئی اور چیز ہے جسے ہم پڑھتے ہیں تو وہ جھوٹا ہے ۔ اس میں ( دیت وغیرہ کے ) اونٹوں کی عمریں اور زخموں ( کی دیت ) سے متعلقہ کچھ چیزیں ( لکھی ہوئی ) ہیں ۔ اور اس میں ( یہ لکھا ہوا ہے کہ ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جبل عیر سے لے کر جبل ثور تک مدینہ حرم ہے ، جس نے اس میں ( گمراہی پھیلانے کی ) کوئی واردات کی یا واردات کرنے والے کسی شخص کو پناہ دی تو اس پر اللہ کی ، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے کوئی سفارش قبول کرے گا نہ بدلہ ۔ تمام مسلمانوں کی پناہ ایک ہے ۔ ان کا ادنی آدمی بھی کسی کو پناہ دے سکتا ہے ۔ جس نے اپنے والد کے سوا کسی کی طرف نسبت کی یا ( کوئی غلام ) اپنے آزاد کرنے والے مالکوں کے سوا کسی اور کا مولیٰ بنا ، اس پر اللہ کی ، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے کوئی سفارش قبول کرے گا نہ فدیہ