صحیح مسلم

Sahih Muslim

کتاب: لین دین کے مسائل

The book of transactions

مجلس (ایک جگہ موجود گی )ختم ہونے سے پہلے بیچنے یا خریدنے والے کو سودا واپس کرنے کا اختیار ہے

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْبَيِّعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ، مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ

Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Both parties in a business transaction have the right to annul it so long as they have not separated; except in transactions which have been made subject to the right of parties to annul them.

امام مالک نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بیع کرنے والے دونوں میں سے ہر ایک کو اپنے ساتھی کے خلاف ( بیع فسخ کرنے کا ) اختیار ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں ، الا یہ کہ اختیار والی بیع ہو

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، كِلَاهُمَا، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ

This hadith has been narrated on the authority of Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) through another chain of transmitters.

عبیداللہ ، ایوب ، یحییٰ بن سعید اور ضحاک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ، نافع سے امام مالک کی حدیث کی طرح روایت کی

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، وَكَانَا جَمِيعًا، أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ، فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكِ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ، وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ

Ibn 'Umar (Allah be pleased with thcm) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: When two persons enter into a transaction, each of them has the right to annul it so long as they are not separated and are together (at the place of transaction) ; or if one gives the other the right (to annul the transaction) But if one gives the other the option, the transaction is made on this condition (i. e. one has the right to annul the transaction), it becomes binding. And if they are separated after they have made the bargain and none of them annulled it, even then the transaction is binding.

لیث نے ہمیں نافع سے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جب دو آدمی باہم بیع کریں تو دونوں میں سے ہر ایک کو ( سودا ختم کرنے کا ) اختیار ہے جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں اور اکٹھے ہوں ۔ یا ان دونوں میں سے ایک دوسرے کو اختیار دے ، اگر ان میں سے ایک دوسرے کو اختیار دے اور اسی پر دونوں بیع کر لیں تو بیع لازم ہو گئی ، اور اگر باہم بیع کرنے کے بعد دونوں جدا ہوئے اور ان میں سے کسی نے بیع کو ترک نہیں کیا تو بھی بیع لازم ہو گئی

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَمْلَى عَلَيَّ نَافِعٌ، سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا تَبَايَعَ الْمُتَبَايِعَانِ بِالْبَيْعِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، أَوْ يَكُونُ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ، فَإِذَا كَانَ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ، فَقَدْ وَجَبَ»، زَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ نَافِعٌ: فَكَانَ إِذَا بَايَعَ رَجُلًا، فَأَرَادَ أَنْ لَا يُقِيلَهُ، قَامَ فَمَشَى هُنَيَّةً، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ

Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: When two persons enter into a transac. tion, each one of them has the right to annul it so long as they are not separated, or their transaction gives one another (as a condition) the right of annulling, and if their transaction, has the right of annulling it the transaction becomes binding. Ibn Abi Umar made this addition that whenever he (Ibn Umar) entered into a transaction with a person with the intention of not breaking it, he walked a while and then returned to him.

زہیر بن حرب اور ابن ابی عمر دونوں نے سفیان سے روایت کی ۔ زہیر نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابن جریج سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے نافع نے ( حدیث ) املا کرائی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جب دو بیع کرنے والے باہم خرید و فروخت کریں تو ان میں سے ہر ایک کو اپنی بیع ( ختم کرنے ) کا اختیار ہے جب تک وہ باہم جدا نہ ہوں یا ان کی بیع اختیار سے ہوئی ہو ( انہوں نے اختیار استعمال کر لیا ہو ۔ ) اگر ان کی بیع اختیار سے ہوئی ہے تو لازم ہو گئی ہے ۔ "" ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں اضافہ کیا کہ نافع نے کہا : جب وہ ( ابن عمر رضی اللہ عنہ ) کسی آدمی سے بیع کرتے اور چاہتے کہ وہ آدمی ان سے بیع کی واپسی کا مطالبہ ( اقالہ ) نہ کرے تو وہ ( خیارِ مجلس ختم کرنے کے لیے ) اٹھتے ، تھوڑا سا چلتے ، پھر اس کے پاس واپس آ جاتے

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كُلُّ بَيِّعَيْنِ لَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا، إِلَّا بَيْعُ الْخِيَارِ

Ibn Umar reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is no transaction between two persons entering a transaction until they separate, but only when there is an option to annul it.

عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دو بیع کرنے والوں کے درمیان ( اس وقت تک ) بیع ( لازم ) نہیں ہوتی ، یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں ، الا یہ کہ خیار ( اختیار ) والی بیع ہو ۔ " ( جس میں خیار کی مدت طے کر لی جائے یا اختیار استعمال کر کے بیع کو پکا کر لیا جائے