Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) forbade the sale of fruits until they were clearly in good condition, he forbade it both to the seller and to the buyer.
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس وقت تک درختوں پر لگے ہوئے ) پھلوں کی بیع سے منع فرمایا یہاں تک کہ ان کی ( پکنے کی ) صلاحیت ظاہر ہو جائے ۔ آپ نے بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کو ( ایسی بیع سے ) منع فرمایا
Another chain on the authority of Ibn 'Umar narrated the same as the above hadith.
عبیداللہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی
Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) forbade the sale of palm-trees (i. e. their trults) until the dates began to ripen, and ears of corn until they were white and were safe from blight. He forbade the seller and the buyer.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ سرخ یا زرد ہو جائے اور کِھیل ( سٹہ ) ( کی بیع ) سے حتی کہ وہ ( دانے بھر کر ) سفید اور آفات سے محفوظ ہو جائے ۔ آپ نے بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو منع فرمایا
Ibn Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Do not buy fruit until its good condition becomes clear, and (the danger) of blight is no more. He said: Its good condition becoming clear implies that it becomes red or yellow.
جریر نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم پھل مت خریدو حتی کہ ان کی صلاحیت ظاہر ہو جائے اور اس سے آفت ( کا امکان ) ختم ہو جائے ۔ "" ( ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ) کہا : اس کی صلاحیت ( ظاہر ہونے ) سے اس کی سرخی اور زردی مراد ہے
This hadith is reported or the authority of Yahya with the same chain of transmitters up to until its good condition becomes clear, but lie did not mention what follows (these words).
عبدالوہاب نے یحییٰ سے اسی سند کے ساتھ " حتیٰ کہ اس کی صلاحیت واضح ہو جائے " تک حدیث بیان کی ، اس کے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا
This hadith has been narrated on the authority of Ibn 'Umar through another chain of transmitters.
ابن ابی فُدیک نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ضحاک نے نافع سے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عبدالوہاب کی حدیث کی طرح روایت کی
Nafi, reported on the authority of Ibn Umar (Allah be pleased with them) a hadith like that narrated before.
موسیٰ بن عقبہ نے مجھے نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے امام مالک اور عبیداللہ کی حدیث کے مانند روایت بیان کی
Ibn Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger' ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Do not buy fruits (on the trees) until their good condition becomes clear.
اسماعیل بن جعفر نے عبداللہ بن دینار سے روایت کی کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم پھل نہ بیچو یہاں تک کہ اس کی صلاحیت ظاہر ہو جائے
In the hadith transmitted on the authority of Shu'ba it was stated that Ibn Umar (Allah be pleased with them) was asked what good condition implied. He said: When (the danger of) blight is no more.
سفیان اور شعبہ دونوں نے عبداللہ بن دینار سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، شعبہ کی حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا : اس کی صلاحیت سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا : اس سے آفت ( بورگر جانے اور بیماری لگ جانے ) کا وقت ختم ہو جائے
Jabir (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) forbade (or forbade us) the sale of fruits until they are ripe in a good condition.
ابوزبیر نے ہمیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس وقت تک ) درخت پر لگے پھل کو بیچنے سے منع فرمایا ۔ ۔ یا کہا : ہمیں منع فرمایا ۔ ۔ یہاں تک کہ وہ ٹھیک ہو جائے
Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) forbidding the sale of fruit until its good condition is obvious.
عمرو بن دینار نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس وقت تک ) درخت پر لگے پھل کو بیچنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ اس کی صلاحیت ظاہر ہو جائے
Abu Bakhtari reported: I asked Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) about the sale of dates. He said: Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) forbade the sale of dates of the trees until one eats them or they are eaten (i. e. they are fit to be eaten) or until they are weighed (or measured). I said: What does it imply: Until it is weighed ? Thereupon a person who was with him (Ibn Abbas) said: Until he is able to keep it with him (after plucking them).
ابو بختری سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کھجور کی بیع کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ اس سے خود کھا سکے یا وہ کھائے جانے کے قابل ہو جائے ، اور یہاں تک کہ اس کا وزن کیا جا سکے ۔ میں نے کہا : اس کا وزن کیے جانے سے کیا مراد ہے؟ ان کے پاس موجود ایک شخص نے کہا : اس ( کے وزن ) کا اندازہ لگایا جا سکے
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Do not sell the fruits until their good condition becomes evident.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( درختوں پر لگا ہوا ) پھل نہ خریدو یہاں تک کہ اس کی صلاحیت ظاہر ہو جائے