صحیح مسلم

Sahih Muslim

کتاب: لین دین کے مسائل

The book of transactions

زمین کو کرایہ پر دینا

وحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ

Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having forbidden the renting of land.

حماد بن زید نے ہمیں مطروراق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا

وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ لَقَبُهُ عَارِمٌ وَهُوَ أَبُو النُّعْمَانِ السَّدُوسِيُّ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، فَإِنْ لَمْ يَزْرَعْهَا، فَلْيُزْرِعْهَا أَخَاهُ

Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: He who has land should cultivate it himself, but if he does not cultivate it himself, then he should let his brother cultivate it.

مہدی بن میمون نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں مطروراق نے عطاء سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص کی زمین ہو تو ( بہتر ہے ) وہ اسے خود کاشت کرے ۔ اگر وہ خود کاشت نہ کرے تو اپنے بھائی کو کاشت کاری کے لیے دے دے

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هِقْلٌ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كَانَ لِرِجَالٍ فُضُولُ أَرَضِينَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ فَضْلُ أَرْضٍ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ

Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) reported some of the Companions of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had surplus of land. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: He, who has surplus land (in his possession) should cultivate it, or he should lend it to his brother for benefit, but if he refuses to accept it, he should retain it

اوزاعی نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ کے پاس ضرورت سے زائد زمینیں تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کے پاس ضرورت سے زائد زمین ہو وہ یا تو اسے خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو عاریتا دے دے ۔ اگر وہ نہیں مانتا تو وہ اپنی زمین اپنے پاس رکھ لے ۔ " ( کسی غیر شرعی طریقے سے کرائے پر نہ دے

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، أَخْبَرَنَا الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤْخَذَ لِلْأَرْضِ أَجْرٌ، أَوْ حَظٌّ

Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having forbidden taking of rent or share of land.

بکیر بن اخنس نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ زمین کی اجرت ( کرایہ ) یا ( اس کی ہونے والی پیداوار کا ) متعین ( مقدار میں ) حصہ لیا جائے

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَزْرَعَهَا وَعَجَزَ عَنْهَا، فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، وَلَا يُؤَاجِرْهَا إِيَّاهُ

Jabir (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: He who has land should cultivate it, but if he does not find it possible to cultivate it, or finds himself helpless to do so, he should lend it to his Muslim brother, but he should not accept rent from him.

عبدالملک نے ہمیں عطاء سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کے پاس زمین ہو ، وہ اسے خود کاشت کرے ، اگر وہ اس میں کاشتکاری کی استطاعت نہ پائے اور عاجز ہو تو ( بہتر ہے ) اپنے کسی مسلمان بھائی کو عاریتا دے دے اور اس کے ساتھ زمین کی اجرت کا معاملہ نہ کرے

وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: سَأَلَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَطَاءً، فَقَالَ: أَحَدَّثَكَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ، وَلَا يُكْرِهَا»، قَالَ: نَعَمْ

Sulaiman b. Musa asked Ata': Did Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: He who has land should cultivate it himself, or let his brother cultivate it, and should not give on rent ? He said: Yes.

ہمام نے حدیث بیان کی ، کہا : سلیمان بن موسیٰ نے عطاء سے سوال کیا اور کہا : کیا آپ کو حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کے پاس زمین ہو ( تو بہتر ہے ) وہ اسے کاشت کرے یا اپنے بھائی کو کاشتکاری کے لیے دے دے اور اسے کرائے پر نہ دے؟ " انہوں نے جواب دیا : ہاں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ

Jabir (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having forbidden Mukhabara.

عمرو ( بن دینار ) نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ ( غلط شرطوں کے ساتھ بٹائی پر دینے ) سے منع فرمایا

وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ لَهُ فَضْلُ أَرْضٍ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ، وَلَا تَبِيعُوهَا»، فَقُلْتُ لِسَعِيدٍ: مَا قَوْلُهُ، وَلَا تَبِيعُوهَا يَعْنِي الْكِرَاءَ؟ قَالَ: «نَعَمْ

Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) say: He who has surplus of land should either cultivate it himself, or let his brother cultivate it, an should not sell it. I (the narrator) said to Sa'id: What does his statement do not sell it mean? Does it imply rent ? He said: Yes.

سعید بن میناء نے ہمیں حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کے پاس فالتو زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو کاشتکاری کے لیے دے دے اور اسے ( استفادے کے لیے ) فروخت نہ کرو ۔ " میں ( سلیم بن حیان ) نے سعید سے پوچھا : " اسے فروخت نہ کرو " سے کیا مراد ہے؟ کیا آپ کی مراد کرایہ پر دینے سے تھی؟ انہوں نے جواب دیا : ہاں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُنَّا نُخَابِرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنُصِيبُ مِنَ الْقِصْرِيِّ وَمِنْ كَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ فَلْيُحْرِثْهَا أَخَاهُ، وَإِلَّا فَلْيَدَعْهَا

Jabir b. 'Abdullah reported: We used to cultivate land on rent during the lifetime of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and we got a share out of the grain left in the ears after threshing them and something unspecified. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: He who has land should cultivate it or let his brother till it, otherwise he should leave it.

زہیر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ابوزبیر نے ہمیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زمین بٹائی پر دیتے اور ( باقی ساری پیداوار میں سے حصے کے علاوہ ) گاہے جانے کے بعد خوشوں میں بچ جانے والی گندم اور اس طرح کی چیزیں ( پانی کی گزرگاہوں کے ارد گرد ہونے والی پیداوار ) وصول کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کے پاس زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے کسی بھائی کو کاشت کاری کے لیے ( عاریتا ) دے دے ورنہ اسے ( خالی ) پڑا دہنے دے

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ ابْنُ عِيسَى: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ، حَدَّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: كُنَّا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَأْخُذُ الْأَرْضَ بِالثُّلُثِ أَوِ الرُّبُعِ بِالْمَاذِيَانَاتِ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ فَقَالَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، فَإِنْ لَمْ يَزْرَعْهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ، فَإِنْ لَمْ يَمْنَحْهَا أَخَاهُ فَلْيُمْسِكْهَا

Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) reported: We used to get land (on rent) during the lifetime of Allah's Messeuge, ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) with a share of one-third or one-fourth (of the produce from the land irrigated) with the help of canals. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) stood up (to address) and said: HRe who has land should cultivate it, and if he does not cultivate it, he should lend it to his brother, and if he does not lend it to his brother, he should then retain it.

ہشام بن سعد نے مجھے حدیث بیان کی کہ انہیں ابوزبیر مکی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تہائی یا چوتھائی حصے کے عوض ، نالوں ( کے کناروں کی پیداوار ) کے عوض زمین لیتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں ( خطبہ دینے کے لیے ) کھڑے ہوئے اور فرمایا : " جس کے پاس زمین ہو تو ( بہتر ہے ) وہ اسے کاشت کرے ۔ " اگر وہ خود اسے کاشت نہیں کرتا تو اپنے بھائی کوعاریتا دے دے ، اگر وہ اسے اپنے بھائی کو بھی نہیں دیتا تو اس کو اپنے پاس رکھ لے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَهَبْهَا، أَوْ لِيُعِرْهَا

Jabir (Allah he pleased with him) reported: I heard Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: He who has (surplus) land should donate it (to others), or lend it.

ابو عوانہ نے ہمیں سلیمان ( اعمش ) سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابوسفیان ( طلحہ بن نافع ) نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " جس کے پاس زمین ہو تو ( بہتر ہے کہ ) وہ اسے ہبہ کرے یا عاریتا دے دے

وحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ فَلْيُزْرِعْهَا رَجُلًا

This hadith has been narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmitters, but with a slight change of words.

عمار بن رُزَیق نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی ، البتہ انہوں نے کہا : " وہ اسے کاشت کرے یا کسی اور آدمی کو کاشت کاری کے لیے دے

وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ، حَدَّثَهُ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ»، قَالَ بُكَيْرٌ: وَحَدَّثَنِي نَافِعٌ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: كُنَّا نُكْرِي أَرْضَنَا، ثُمَّ تَرَكْنَا ذَلِكَ حِينَ سَمِعْنَا حَدِيثَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ

Jabir b. `Abdullah (Allah be pleased with them) reportedthat Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had forbidden renting of land. Bukair (one of the narrators) said: Nafi` reported to me that he heard Ibn `Umar (Allah be pleased with them) saying: We usedto give land on rent; we then abandoned this practice when we heard the hadith of Rafi` b. Khadij.

بکیر نے حدیث بیان کی کہ انہیں عبداللہ بن ابی سلمہ نے نعمان بن ابی عیاش سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو ( ممنوعہ طریقے سے ) کرائے پر دینے سے منع فرمایا ۔ بکیر نے کہا : مجھے نافع نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہم اپنی زمینیں بٹائی پر دیتے تھے ، پھر جب ہم نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی حدیث سنی تو اسے ترک کر دیا

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْأَرْضِ الْبَيْضَاءِ سَنَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا

Jabir (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbidding the selling (renting of) uncultivated land for two years or three.

ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالی زمین کی دو یا تین سالوں کے لیے بیع کرنے سے منع فرمایا

وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ»، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ: عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ سِنِينَ

Jabir (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbidding selling of (produce) in advance for two years, and in the narmtion of Ibu Abd Shaiba (the words are): Selling of the fruits (on the tree) in advance for two years.

سعید بن منصور ، ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حمید اعرج سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سلیمان بن عتیق سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سالوں کی بیع سے منع فرمایا ۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت میں ہے : پھلوں کی کئی سال کے لیے بیع سے ( منع فرمایا

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ

Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: He who has land should cultivate it or lend it to his brother, but if he refuses, he should retain his land.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کی زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو عاریتا دے دے ، اگر وہ نہیں مانتا تو اپنی زمین اپنے پاس رکھے ۔ " ( غلط طریقے سے بٹائی پر نہ دے

وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ نُعَيْمٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَنْهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْحُقُولِ»، فَقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ: الْمُزَابَنَةُ: الثَّمَرُ بِالتَّمْرِ، وَالْحُقُولُ: كِرَاءُ الْأَرْضِ

Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) reported: I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbidding Muzabana, and Huqul. Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) said: Muzabana means the selling of fruits for dry dates and Huqul is the renting of land.

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ مزابنہ اور حُقول سے منع فرما رہے تھے ۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا : مزابنہ سے مراد ( کھجور پر لگے ) پھل کی خشک کھجور سے بیع ہے اور حقول سے مراد زمین کو ( اس کی پیداوار کے متعین حصے کے عوض ) بٹائی پر دینا ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ

Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbidding Muhaqala and Muzabana.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ، مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ»، وَالْمُزَابَنَةُ: اشْتِرَاءُ الثَّمَرِ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ، وَالْمُحَاقَلَةُ: كِرَاءُ الْأَرْضِ

Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having forbidden Mazabana and Muhaqala. Muzibana means the buying of fruits on the trees and Muhaqala is the renting of land.

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا ۔ مزابنہ درخت پر لگی کھجور کو ( خشک کھجور کے عوض ) خریدنا ہے اور محاقلہ سے مراد زمین کو کرائے پر دینا ہے

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ: حَدَّثَنَا، وقَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: «كُنَّا لَا نَرَى بِالْخِبْرِ بَأْسًا حَتَّى كَانَ عَامُ أَوَّلَ، فَزَعَمَ رَافِعٌ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ

Zaid b. Amr reported: I heard Ibn Umar (Allah be pleased with them) say: We did not see any harm in renting of the land, but as the first year was over Rafi' alleged Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having forbidden that.

حماد بن زید نے ہمیں عمرو ( بن دینار ) سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہم مخابرہ میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے حتی کہ وہ پہلا سال آیا جس میں ( یزید کی امارت کے لیے بیعت لی گئی ) تو حضرت رافع رضی اللہ عنہ نے خیال کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے