This hadith has been narrated on the authority of Abu Sa'id al-Khudri through another chain of transmitters.
جریر بن حازم ، یحییٰ بن سعید اور ابن عون ، سب نے نافع سے روایت کی ، لیث کے نافع سے ، ان کی حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور ان کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی طرح ۔
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Do not sell gold for gold and silver for silver weight for weight or of the same quality.
) ابوصالح نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم سونے کی سونے کے عوض اور چاندی کی چاندی کے عوض بیع نہ کرو مگر یہ کہ وزن بوزن مثل بمثل ( معیار میں یکساں ) برابر برابر ہو ۔ "
Uthman b. 'Affan reported Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Do not sell a dinar for two dinars and one dirham for two dirhams.
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم ایک دینار کی دو دیناروں کے عوض اور ایک درہم کی دو درہموں کے عوض بیع نہ کرو ۔ "
Malik b. Aus b. al-Hadathan reported: I came saying who was prepared toexchange dirhams (for my gold), whereupon Talha b. Ubaidullah (Allah be pleased with him) (as he was sitting with 'Umar b. Khattib) said: Show us your gold and then come to us (at a later time). When our servant would come we would give you your silver (dirhams due to you). Thereupon 'Umar b. al-Khattib (Allah be pleased with him) said: Not at all. By Allah, either give him his silver (coins). or return his gold to him, for Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Exchange of silver for gold (has an element of) interest in it. except when (it is exchanged) on the spot;and wheat for wheat is an interest unless both are handed over on the spot: barley for barley is interest unless both are handed over on the spot; dates for dates is interest unless both are handed over on the Spot
لیث نے ہمیں ابن شہاب سے خبر دی اور انہوں نے مالک بن اوس بن حدثان سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : میں ( لوگوں کے سامنے ) یہ کہتا ہوا آیا : ( سونے کے عوض ) درہموں کا تبادلہ کون کرے گا؟ تو حجرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا ۔ ۔ اور وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھے ۔ ۔ ہمیں اپنا سونا دکھاؤ ، پھر ( ذرا ٹھہر کے ) ہمارے پاس آنا ، جب ہمارا خادم آئے گا تو ہم تمہیں تمہاری چاندی ( کے درہم ) دے دیں گے ۔ اس پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا : ہرگز نہیں ، اللہ کی قسم! تم انہیں چاندی دو یا ان کا سونا انہیں واپس کرو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : " سونے کے عوض چاندی ( کی بیع ) سود ہے ، الا یہ کہ ہاتھوں ہاتھ ( دست بدست ) ہو اور گندم کے عوض گندم سود ہے ، الا یہ کہ ہاتھوں ہاتھ ہو اور جو کے عوض جو سود ہے ، الا یہ کہ ہاتھوں ہاتھ ہو اور کھجور کے عوض کھجور سود ہے ، الا یہ کہ ہاتھوں ہاتھ ہو ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters.
ابن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) روایت بیان کی ۔