TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قتل کا اعتراف اور مقتول کے ولی کو قصاص کا حق دینا بالکل درست ہے اور اس سے معافی مانگنا مستحب ہے - قتل کا اعتراف اور مقتول کے ولی کو قصاص کا حق دینا بالکل درست ہے اور اس سے معافی مانگنا مستحب ہے - The book of oaths,muharibin,qasas( retaliation), and diyat (blood money_ - Sahih Muslim with Urdu and English Translation

Chapter 10 of The book of oaths,muharibin,qasas( retaliation), and diyat (blood money_ in Sahih Muslim. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 10 of 11 · 2 Hadith
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ، قَالَ: إِنِّي لَقَاعِدٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَقُودُ آخَرَ بِنِسْعَةٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا قَتَلَ أَخِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَقَتَلْتَهُ؟» - فَقَالَ: إِنَّهُ لَوْ لَمْ يَعْتَرِفْ أَقَمْتُ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ - قَالَ: نَعَمْ قَتَلْتَهُ، قَالَ: «كَيْفَ قَتَلْتَهُ؟» قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَهُوَ نَخْتَبِطُ مِنْ شَجَرَةٍ، فَسَبَّنِي، فَأَغْضَبَنِي، فَضَرَبْتُهُ بِالْفَأْسِ عَلَى قَرْنِهِ، فَقَتَلْتُهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ لَكَ مِنْ شَيْءٍ تُؤَدِّيهِ عَنْ نَفْسِكَ؟» قَالَ: مَا لِي مَالٌ إِلَّا كِسَائِي وَفَأْسِي، قَالَ: «فَتَرَى قَوْمَكَ يَشْتَرُونَكَ؟» قَالَ: أَنَا أَهْوَنُ عَلَى قَوْمِي مِنْ ذَاكَ، فَرَمَى إِلَيْهِ بِنِسْعَتِهِ، وَقَالَ: «دُونَكَ صَاحِبَكَ»، فَانْطَلَقَ بِهِ الرَّجُلُ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ»، فَرَجَعَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ قُلْتَ: «إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ»، وَأَخَذْتُهُ بِأَمْرِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا تُرِيدُ أَنْ يَبُوءَ بِإِثْمِكَ، وَإِثْمِ صَاحِبِكَ؟» قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ - لَعَلَّهُ قَالَ - بَلَى، قَالَ: «فَإِنَّ ذَاكَ كَذَاكَ»، قَالَ: فَرَمَى بِنِسْعَتِهِ وَخَلَّى سَبِيلَهُ
Alqama b. Wa'il reported on the authority of his-father: While I was sitting in the company of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), a person came there dragging another one with the help of a strap and said: Allah's Messenger, this man has killed my brother. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to him: Did you kill him? And the other man said: (In case he did not make a confession of this, I shall brine, a witness against him). He (the murderer) said: Yes, I have killed him. He (the Holy Prophet) said: Why did you kill him? He said: I and he won striking down the leaves of a tree and he abused me and enraged me, and to I struck his head with an axe and killed him, whereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Have you anything with you to pay blood-wit on your behalf? He said: I do not possess any property but this robe of mine and this axe of mine. He (the Holy, Prophet) said: Do you think your people will pay ransom for you? He said: I am more insignificant among my people than this (that I would not be able to get this benefit from my tribe). He (the Holy Prophet) threw the strap towards him (the claimant of the blood-wit) saying: Take away your man. The man took him away, and as he returned, Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: If he kills him, he will be like him. He returned and said: Allah's Messenger, it has reached me that you have said that If he killed him, he would be like him. I caught hold of him according to your command, whereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Don't you like that he should take upon him (the burden) of your sin and the sin of your companion (your brother)? He said: Allah's Apostle, why not? The Messenger of Allah (may peace be. upon him) said: If it is so, then let it be. He threw away the strap (around the offender) and set him free.
سماک بن حرب نے علقمہ بن وائل سے حدیث بیان کی کہ ان کے والد نے انہیں حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص دوسرے کو مینڈھی کی طرح بنی ہوئی چمڑے کی رسی سے کھینچتے ہوئے لایا اور کہا : اللہ کے رسول! اس نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " کیا تم نے اسے قتل کیا ہے؟ " تو اس ( کھینچنے والے ) نے کہا : اگر اس نے اعتراف نہ کیا تو میں اس کے خلاف شہادت پیش کروں گا ۔ اس نے کہا : جی ہاں ، میں نے اُسے قتل کیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " تم نے اسے کیسے قتل کیا؟ " اس نے کہا : میں اور وہ ایک درخت سے پتے چھاڑ رہے تھے ، اس نے مجھے گالی دی اور غصہ دلایا تو میں نے کلہاڑی سے اس کے سر کی ایک جانب مارا اور اسے قتل کر دیا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : " کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے جو تم اپنی طرف سے ( بطور فدیہ ) ادا کر سکو؟ " اس نے کہا : میرے پاس تو اوڑھنے کی چادر اور کلہاڑی کے سوا اور کوئی مال نہیں ہے ۔ آپ نے پوچھا : " تم سمجھتے ہو کہ تمہاری قوم ( تمہاری طرف سے دیت ادا کر کے ) تمہیں خرید لے گی؟ " اس نے کہا : میں اپنی قوم کے نزدیک اس سے حقیر تر ہوں ۔ آپ نے اس ( ولی ) کی طرف رسہ پھینکتے ہوئے فرمایا : " جسے ساتھ لائے تھے اسے پکڑ لو ۔ " وہ آدمی اسے لے کر چل پڑا ۔ جب اس نے رخ پھیرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر اس آدمی نے اسے قتل کر دیا تو وہ بھی اسی جیسا ہے ۔ " اس پر وہ شخص واپس ہوا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول! مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : " اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو وہ بھی اسی جیسا ہے " حالانکہ میں نے اسے آپ کے حکم سے پکڑا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرامای : " کیا تم نہیں چاہتے کہ وہ تمہارے اور تمہارے ساتھی ( بھائی ) دونوں کے گناہ کو ( اپنے اوپر ) لے کر لوٹے؟ " اس نے کہا : اللہ کے نبی! ۔ ۔ غالبا اس نے کہا ۔ ۔ کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تو یقینا وہ ( قاتل ) یہی کرے گا ۔ " کہا : اس پر اس نے رسہ پھینکا اور اس کا راستہ چھوڑ دیا
4387
Sahih
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَتَلَ رَجُلًا، فَأَقَادَ وَلِيَّ الْمَقْتُولِ مِنْهُ، فَانْطَلَقَ بِهِ وَفِي عُنُقِهِ نِسْعَةٌ يَجُرُّهَا، فَلَمَّا أَدْبَرَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ»، فَأَتَى رَجُلٌ الرَّجُلَ، فَقَالَ لَهُ مَقَالَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَلَّى عَنْهُ قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِحَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ فَقَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَشْوَعَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا سَأَلَهُ أَنْ يَعْفُوَ عَنْهُ فَأَبَى
Alaqama b. Wa'il reported on the authority of his father that a person was brought to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) who had killed another person, and the heir of the person slain had dragged him (to the Holy Prophet) with a strap around his neck. As he turned away Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: The killer and the killed are (doomed) to fire. A person came to the other person (the heir of the deceased) and he reported to him the words of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and so he let him off. Isma'il b. Salim said: I made a mention of it to Habib b. Abu Thabit and he said: Ibn Ashwa' reported to me that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had asked him to pardon him, but he refused.
اسماعیل بن سالم نے علقمہ بن وائل سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے کسی شخص کو قتل کیا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے ولی کو اس سے قصاص لینے کا حق دیا ، وہ اسے لے کر چلا جبکہ اس کی گردن میں چمڑے کا ایک مینڈھی نما رسہ تھا جسے وہ کھینچ رہا تھا ، جب اس نے پشت پھیری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" قاتل اور مقتول ( دونوں ) آگ میں ہیں ۔ "" ( یہ سن کر ) ایک آدمی اس ( ولی ) کے پاس آیا اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بتائی تو اس نے اسے چھوڑ دیا ۔ اسماعیل بن سالم نے کہا : میں نے یہ حدیث حبیب بن ثابت سے بیان کی تو انہوں نے کہا : مجھے ابن اشوع نے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( ولی ) سے مطالبہ کیا تھا کہ اسے معاف کر دے تو اس نے انکار کر دیا تھا
4388
Sahih

Chapters

11
01
قتل کی ذمہ داری کے تعین کے لیے اجتمائی قسمیں
11 Hadith
02
قتل و غارت کرنے اور مرتد ہو جانے والوں کے بارے میں(شریعت کا ) حکم
8 Hadith
03
پتھراور دوسری تیز دھار اور بھاری اشیاء سے قتل کرنے کی صورت میں قصاص اور عورت کے بدلے میں مرد کو قتل کرنے کا ثبوت
5 Hadith
04
کسی انسان کی جان یا کسی عضو پر حملہ کرنے والے کو ‘جب وہ شخص جس پر حملہ کیا گیا ہےدور دھکیلے اور اس طرح اس کی جان یا کسی عضو کو ضائع کر دے تو اس
8 Hadith
05
دانتوں اور معنوی اعتبار سے ان جیسے اعضاء میں قصا ص کا ثبوت
1 Hadith
06
مسلمان کا خون کس وجہ سے مباح ہو سکتا ہے
4 Hadith
07
اس شخص کا گناہ جس نے قتل کا طریقہ شروع کیا
2 Hadith
08
آخرت میں خون کی جزا اور یہ کہ قیامت کے دن لوگوں کے مابین سب سے پہلے اسی کا فیصلہ کیا جائے گا
2 Hadith
09
خون ‘عزت اور اموال کی حرمت کی تاکید
4 Hadith
10
قتل کا اعتراف اور مقتول کے ولی کو قصاص کا حق دینا بالکل درست ہے اور اس سے معافی مانگنا مستحب ہے
2 Hadith
11
جنین کی دیت اور قتل خطا اورقتل شبہ عمد میں مجرم کے عاقلہ (باپ کی طرف سے عصبہ رشتہ داروں )پر دیت واجب ہے
9 Hadith
No chapter matched that.