Alqama b. Wa'il reported on the authority of his-father: While I was sitting in the company of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ), a person came there dragging another one with the help of a strap and said: Allah's Messenger, this man has killed my brother. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to him: Did you kill him? And the other man said: (In case he did not make a confession of this, I shall brine, a witness against him). He (the murderer) said: Yes, I have killed him. He (the Holy Prophet) said: Why did you kill him? He said: I and he won striking down the leaves of a tree and he abused me and enraged me, and to I struck his head with an axe and killed him, whereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Have you anything with you to pay blood-wit on your behalf? He said: I do not possess any property but this robe of mine and this axe of mine. He (the Holy, Prophet) said: Do you think your people will pay ransom for you? He said: I am more insignificant among my people than this (that I would not be able to get this benefit from my tribe). He (the Holy Prophet) threw the strap towards him (the claimant of the blood-wit) saying: Take away your man. The man took him away, and as he returned, Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: If he kills him, he will be like him. He returned and said: Allah's Messenger, it has reached me that you have said that If he killed him, he would be like him. I caught hold of him according to your command, whereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Don't you like that he should take upon him (the burden) of your sin and the sin of your companion (your brother)? He said: Allah's Apostle, why not? The Messenger of Allah (may peace be. upon him) said: If it is so, then let it be. He threw away the strap (around the offender) and set him free.
سماک بن حرب نے علقمہ بن وائل سے حدیث بیان کی کہ ان کے والد نے انہیں حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص دوسرے کو مینڈھی کی طرح بنی ہوئی چمڑے کی رسی سے کھینچتے ہوئے لایا اور کہا : اللہ کے رسول! اس نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " کیا تم نے اسے قتل کیا ہے؟ " تو اس ( کھینچنے والے ) نے کہا : اگر اس نے اعتراف نہ کیا تو میں اس کے خلاف شہادت پیش کروں گا ۔ اس نے کہا : جی ہاں ، میں نے اُسے قتل کیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " تم نے اسے کیسے قتل کیا؟ " اس نے کہا : میں اور وہ ایک درخت سے پتے چھاڑ رہے تھے ، اس نے مجھے گالی دی اور غصہ دلایا تو میں نے کلہاڑی سے اس کے سر کی ایک جانب مارا اور اسے قتل کر دیا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : " کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے جو تم اپنی طرف سے ( بطور فدیہ ) ادا کر سکو؟ " اس نے کہا : میرے پاس تو اوڑھنے کی چادر اور کلہاڑی کے سوا اور کوئی مال نہیں ہے ۔ آپ نے پوچھا : " تم سمجھتے ہو کہ تمہاری قوم ( تمہاری طرف سے دیت ادا کر کے ) تمہیں خرید لے گی؟ " اس نے کہا : میں اپنی قوم کے نزدیک اس سے حقیر تر ہوں ۔ آپ نے اس ( ولی ) کی طرف رسہ پھینکتے ہوئے فرمایا : " جسے ساتھ لائے تھے اسے پکڑ لو ۔ " وہ آدمی اسے لے کر چل پڑا ۔ جب اس نے رخ پھیرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر اس آدمی نے اسے قتل کر دیا تو وہ بھی اسی جیسا ہے ۔ " اس پر وہ شخص واپس ہوا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول! مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : " اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو وہ بھی اسی جیسا ہے " حالانکہ میں نے اسے آپ کے حکم سے پکڑا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرامای : " کیا تم نہیں چاہتے کہ وہ تمہارے اور تمہارے ساتھی ( بھائی ) دونوں کے گناہ کو ( اپنے اوپر ) لے کر لوٹے؟ " اس نے کہا : اللہ کے نبی! ۔ ۔ غالبا اس نے کہا ۔ ۔ کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تو یقینا وہ ( قاتل ) یہی کرے گا ۔ " کہا : اس پر اس نے رسہ پھینکا اور اس کا راستہ چھوڑ دیا
Alaqama b. Wa'il reported on the authority of his father that a person was brought to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) who had killed another person, and the heir of the person slain had dragged him (to the Holy Prophet) with a strap around his neck. As he turned away Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The killer and the killed are (doomed) to fire. A person came to the other person (the heir of the deceased) and he reported to him the words of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and so he let him off. Isma'il b. Salim said: I made a mention of it to Habib b. Abu Thabit and he said: Ibn Ashwa' reported to me that Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had asked him to pardon him, but he refused.
اسماعیل بن سالم نے علقمہ بن وائل سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے کسی شخص کو قتل کیا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے ولی کو اس سے قصاص لینے کا حق دیا ، وہ اسے لے کر چلا جبکہ اس کی گردن میں چمڑے کا ایک مینڈھی نما رسہ تھا جسے وہ کھینچ رہا تھا ، جب اس نے پشت پھیری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" قاتل اور مقتول ( دونوں ) آگ میں ہیں ۔ "" ( یہ سن کر ) ایک آدمی اس ( ولی ) کے پاس آیا اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بتائی تو اس نے اسے چھوڑ دیا ۔ اسماعیل بن سالم نے کہا : میں نے یہ حدیث حبیب بن ثابت سے بیان کی تو انہوں نے کہا : مجھے ابن اشوع نے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( ولی ) سے مطالبہ کیا تھا کہ اسے معاف کر دے تو اس نے انکار کر دیا تھا