صحیح مسلم

Sahih Muslim

کتاب: حدود کا بیان

The book of legal punishments

نفاس والی عورتوں کی حد مؤخر کرنا

Chapter: Delaying the Hadd punishment in the case of women who have just given birth

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: خَطَبَ عَلِيٌّ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَقِيمُوا عَلَى أَرِقَّائِكُمُ الْحَدَّ، مَنْ أَحْصَنَ مِنْهُمْ، وَمَنْ لَمْ يُحْصِنْ، فَإِنَّ أَمَةً لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَنَتْ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَجْلِدَهَا، فَإِذَا هِيَ حَدِيثُ عَهْدٍ بِنِفَاسٍ، فَخَشِيتُ إِنْ أَنَا جَلَدْتُهَا أَنْ أَقْتُلَهَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَحْسَنْتَ

Abd al-Rahman reported that 'Ali, while delivering the address said: O people, impose the prescribed punishment upon your slaves, those who are married and those not married, for a slave-woman belonging to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had committed adultery, and he committed me to flog her. But she had recently given birth to a child and I was afraid that if I flogged her I might kill her. So I mentioned that to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and he said: You have done well.

زائدہ نے سُدی سے ، انہوں نے سعد بن عبیدہ سے اور انہوں نے ابوعبدالرحمان سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے خطبہ دیا اور کہا : اے لوگو! اپنے غلاموں پر حد نافذ کرو ، جو ان میں سے شادی شدہ ہوں اور جو شادی شدہ نہ ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کے خاندان ) کی ایک لونڈی نے زنا کیا تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ اسے کوڑے لگاؤں ، تو اچانک پتہ چلا کہ اسے نفاس ( بچے کی ولادت سے خون آنے ) کی حالت میں تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا ۔ مجھے ڈر محسوس ہوا کہ اگر میں نے اسے کوڑے مارے تو میں اسے مار ڈالوں گا ، چنانچہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات عرض کی ، تو آپ نے فرمایا : " تم نے اچھا کیا

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنِ السُّدِّيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَنْ أَحْصَنَ مِنْهُمْ، وَمَنْ لَمْ يُحْصِنْ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ اتْرُكْهَا حَتَّى تَمَاثَلَ

This hadith has been narrated on the authority of as-Suddi with the same chain of trznsmitters, but he did not mention: Those who are married and those who are not married. There is also an addition in it: I spare her until she is all right.

اسرائیل نے سُدی سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انہوں نے یہ بیان کیا : " جو ان میں سے شادی شدہ ہوں اور جو شادی شدہ نہ ہوں ۔ " اور انہوں نے حدیث میں یہ اضافہ کیا : " اس ( کنیز ) کو چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ صحت مند ہو جائے