صحیح مسلم

Sahih Muslim

کتاب: جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے اختیار کردہ طریقے

The book of jihad and expeditions

اموال غنیمت کا بیان

Chapter: Spoils of War

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَخَذَ أَبِي مِنَ الْخُمْسِ سَيْفًا، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «هَبْ لِي هَذَا»، فَأَبَى، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ} [الأنفال: 1]

A hadith has been narrated by Mus'ab b. Sa'd who heard it from his father as saying: My father took a sword from Khums and brought it to the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Grant it to me. He refused. At this Allah revealed (the Qur'anic verse): They ask thee concerning the spoils of war. Say: The spoils of war are for Allah and the Apostle (viii. 1).

ابوعوانہ نے سماک سے ، انہوں نے مصعب بن سعد سے اور انہوں نے اپنے والد ( حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے والد نے خمس میں سے کوئی چیز لی ، اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی : یہ مجھے ہبہ فرما دیں تو آپ نے انکار کیا ۔ کہا : اس پر اللہ عزوجل نے ( یہ حکم ) نازل فرمایا : " لوگ آپ سے اموالِ غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں ، کہہ دیجئے : اموالِ غنیمت اللہ کے لیے اور رسول کے لیے ہیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: نَزَلَتْ فِيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ: أَصَبْتُ سَيْفًا، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، نَفِّلْنِيهِ، فَقَالَ: «ضَعْهُ»، ثُمَّ قَامَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ»، ثُمَّ قَامَ، فَقَالَ: نَفِّلْنِيهِ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «ضَعْهُ»، فَقَامَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، نَفِّلْنِيهِ، أَؤُجْعَلُ كَمَنْ لَا غَنَاءَ لَهُ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ»، قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ} [الأنفال: 1]

A hadith has been narrated by Mus'ab b. Sa'd who heard it from his father as saying: Four verses of the Qur'an have been revealed about me. I found a sword (among the spoils of war). It was brought to the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He (my father) said: Messenger of Allah, bestow it upon me. The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Place it there. Then he (my father) stood up and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to him: Place it from where you got it. (At this) he (my father) said again: Messenger of Allah, bestow it upon me Shall I be treated like one who has no share in (the booty)? The Apostle of Allah (may peace be upon him said: Place it from where you got it. At this was revealed the verse: They ask thee about the spoils of war.... Say: The spoils of war are for Allah and the Messenger

شعبہ نے ہمیں سماک بن حرب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے مصعب بن سعد سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے بارے میں چار آیتیں نازل ہوئیں : مجھے ایک تلوار ملی ، ( پھر کہا : ) وہ اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اللہ کے رسول! ( اپنے حصے کے علاوہ ) یہ تلوار مجھے مزید عطا فرما دیں ۔ تو آپ نے فرمایا : " اسے رکھ دو ۔ " وہ پھر اٹھے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! ( یہ تلوار ) مجھے مزید دے دیں ۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : " جہاں سے لی ہے وہیں رکھ دو ۔ " وہ پھر اٹھے اور عرض کی : اللہ کے رسول! ( اپنے حصے کے علاوہ ) یہ بھی مجھے عنایت فرما دیں ۔ تو آپ نے فرمایا : " اسے رکھ دو ۔ " وہ پھر اٹھے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! ( اپنے حصے کے علاوہ ) یہ مجھے عنایت فرما دیں ۔ کیا میں اس شخص جیسا قرار دیا جاؤں گا جس کے لیے ( جنگ میں ) کوئی فائدہ نہیں ہوا؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " تم نے اسے جہاں سے لیا ہے وہیں رکھ دو ۔ " کہا : اس پر یہ آیت نازل ہوئی : " وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ کہہ دیجئے! غنیمتیں اللہ کے لیے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہیں

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً وَأَنَا فِيهِمْ قِبَلَ نَجْدٍ، فَغَنِمُوا إِبِلًا كَثِيرَةً، فَكَانَتْ سُهْمَانُهُمُ اثْنَا عَشَرَ بَعِيرًا، أَوْ أَحَدَ عَشَرَ بَعِيرًا، وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا

It has been narrated on the authority of Ibn Umar that the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent an expedition to Najd and I was among the troops. They got a large number of camels as a booty. Eleven or twelve camels fell to the lot of every fighter and each of them also got one extra camel.

امام مالک نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک دستہ بھیجا ، میں بھی ان میں تھا ، انہوں نے بہت سے اونٹ غنیمت میں حاصل کیے تو ان کا حصہ بارہ بارہ اونٹ یا گیارہ گیارہ اونٹ تھا اور انہیں ایک ایک اونٹ زائد دیا گیا تھا

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً قِبَلَ نَجْدٍ، وَفِيهِمُ ابْنُ عُمَرَ، وَأَنَّ سُهْمَانَهُمْ بَلَغَتِ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، وَنُفِّلُوا سِوَى ذَلِكَ بَعِيرًا، فَلَمْ يُغَيِّرْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Ibn 'Umar reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent an expedition to Najd and Ibn Umar was also among the troops, and their share (of the spoils) came to twelve camels and they were given one camel over and above that. and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) did not make any change in it.

لیث نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک دستہ بھیجا ، ان میں ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، ان کے حصے بارہ بارہ اونٹ تک پہنچ گئے اور اس کے علاوہ انہیں ایک ایک اونٹ زائد ( بھی ) ملا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( فیصلے ) کو تبدیل نہیں کیا

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَى نَجْدٍ، فَخَرَجْتُ فِيهَا، فَأَصَبْنَا إِبِلًا وَغَنَمًا، فَبَلَغَتْ سُهْمَانُنَا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، وَنَفَّلَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بَعِيرًا

It has been narrated by Ibn 'Umar that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent an expedition to Najd, and I (also) went with the troops. We got camels and goats as spoils of war, and our share amounted to twelve camels per head, and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) gave an extra camel to each of us.

علی بن مسہر اور عبدالرحیم بن سلیمان نے عبیداللہ بن عمر سے ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی جانب ایک دستہ بھیجا ، میں بھی اس میں گیا ۔ ہمیں اونٹ اور بکریاں ملیں تو ہمارے حصے بارہ بارہ اونٹوں تک پہنچ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایک اونٹ زائد بھی دیا

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ، أَسْأَلُهُ عَنِ النَّفَلِ، فَكَتَبَ إِلَيَّ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى، ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ

Ibn Aun said: I wrote to Nafi' asking him about Nafl (spoils of war) and be wrote to me that Ibn 'Umar was among that expedition. (The rest of the hadith is the same.)

ایوب نے ہمیں حدیث بیان کی ، اور ( ایک دوسری سند سے ) ابن عون نے کہا : میں نے غنیمت کے بارے میں پوچھنے کے لیے نافع کی طرف خط لکھا ، انہوں نے مجھے جواب بھی لکھا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ دستے میں تھے ۔ ۔ ۔ ، نیز موسیٰ اور اسامہ بن زید نے بھی حدیث بیان کی ، ان سب ( ایوب ، ابن عون ، موسیٰ اور اسامہ ) نے نافع سے اسی سند کے ساتھ انہی کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی

وحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَاللَّفْظُ لِسُرَيْجٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: نَفَّلَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَلًا سِوَى نَصِيبِنَا مِنَ الْخُمْسِ، فَأَصَابَنِي شَارِفٌ، وَالشَّارِفُ: الْمُسِنُّ الْكَبِيرُ

A hadith has been narrated by Salim who learnt it from his father and said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) gave us an extra (camel) besides our share of Khums; (and in this extra share) I got a Sharif (and a Sharif is a big old camel).

عبداللہ بن رجاء نے یونس سے ، انہوں نے زہری سے ، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد ( حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خمس سے ہمارے حصے کے سوا اضافی بھی دیا تو مجھے ایک شارف ملا ۔ ۔ اور شارف سے مراد پختہ عمر کا ( مضبوط ) اونٹ ہے

وحَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، كِلَاهُمَا عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: بَلَغَنِي عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَفَّلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ رَجَاءٍ

Ibn Shihab reported: It reached me through Ibn Umar that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) gave a share of spoils to the troop. The rest of the hadith is the same.

ابن مبارک اور ابن وہب دونوں نے یونس کے حوالے سے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث پہنچی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستے کو زائد دیا ۔ ۔ ابن رجاء کی حدیث کی طرح

وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ يُنَفِّلُ بَعْضَ مَنْ يَبْعَثُ مِنَ السَّرَايَا، لِأَنْفُسِهِمْ خَاصَّةً، سِوَى قَسْمِ عَامَّةِ الْجَيْشِ، وَالْخُمْسُ فِي ذَلِكَ وَاجِبٌ كُلِّهِ

It has been narrated on the authority of Abdullah b. 'Umar that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to give (from the spoils of war) to small troops seat on expeditions something more than the due share of each fighter in a large force. And Khums (one-fifth of the total spoils) was to be reserved (for Allah and His Apostle) in all cases.

عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے ، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بسا اوقات عام لشکر کی تقسیم سے ہٹ کر بعض دستوں کو ، جنہیں آپ روانہ فرماتے تھے ، خصوصی طور پر ان کے لیے زائد عطیات دیتے تھے ، اور خمس ان سب مہموں میں واجب تھا