صحیح مسلم

Sahih Muslim

کتاب: امور حکومت کا بیان

The book of government

گناہ کے کاموں کے علاوہ دوسرے کاموں میں حکام کی اطاعت اور گناہ کے کاموں میں اطاعت کی حرمت

Chapter: The obligation of obeying leaders in matters that do not involve sin, but it is forbidden to obey them in sinful matters

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، وَتَقَارَبُوا فِي اللَّفْظِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً، وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْمَعُوا لَهُ وَيُطِيعُوا، فَأَغْضَبُوهُ فِي شَيْءٍ، فَقَالَ: اجْمَعُوا لِي حَطَبًا، فَجَمَعُوا لَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَوْقِدُوا نَارًا، فَأَوْقَدُوا، ثُمَّ قَالَ: أَلَمْ يَأْمُرْكُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَسْمَعُوا لِي وَتُطِيعُوا؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَادْخُلُوهَا، قَالَ: فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالُوا: إِنَّمَا فَرَرْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّارِ، فَكَانُوا كَذَلِكَ، وَسَكَنَ غَضَبُهُ، وَطُفِئَتِ النَّارُ، فَلَمَّا رَجَعُوا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «لَوْ دَخَلُوهَا مَا خَرَجُوا مِنْهَا، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ

It has been narrated on the authority of 'All who said: The Mersenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent an expeditionand appointed over the Mujahids a man from the Ansar. (While making the appointment), he ordered that his work should be listened to and obeyed. They made him angry in a matter. He said: Collect for me dry wood. They collected it for him. Then he said: Kindle a fire. They kindled (the fire). Then he said: Didn't the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) order you to listen to me and obey (my orders)? They said: Yes. He said: Enter the fire. The narrator says: (At this), they began to look at one another and said: We fled from the fire to (find refuge with) the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) (and now you order us to enter it). They stood quiet until his anger cooled down and the fire went out. When they returned, they related the incident to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He said: If they had entered it, they would not have come out. Obedience (to the commander) is obligatory only in what is good.

ہمیں محمد بن عبداللہ بن نمیر ، زہیر بن حرب اور ابوسعید اشج نے حدیث بیان کی ، الفاظ سب کے ملتے جلتے ہیں ، ( تینوں نے ) کہا : ہمیں وکیع نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سعد بن عبیدہ سے ، انہوں نے ابو عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور انصار میں سے ایک آدمی کو ان کا امیر بنایا اور لشکر کو یہ حکم دیا کہ وہ اس کے احکام سنیں اور اس کی اطاعت کریں ، ( اتفاق سے ) اہل لشکر نے کسی بات میں امیر کو ناراض کر دیا ، اس نے کہا : میرے لیے لکڑیاں جمع کرو ۔ لشکر نے لکڑیاں جمع کیں ، پھر اس نے کہا : آگ جلاؤ ، انہوں نے آگ جلائی ، پھر کہا : کیا تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا حکم سننے اور ماننے کا حکم نہیں دیا تھا؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ، اس نے کہا : آگ میں داخل ہو جاؤ ، انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا : ہم آگ ہی سے بھاگ کر تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے ۔ وہ اسی موقف پر قائم رہے حتی کہ اس کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور آگ بجھا دی گئی ، جب وہ لوٹے تو یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی ، آپ نے فرمایا : اگر یہ لوگ اس ( آگ ) میں داخل ہو جاتے تو پھر اس سے باہر نہ نکلتے ، اطاعت صرف معروف ( قابل قبول کاموں ) میں ہے

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

This hadith has been transmitted on the authority of A'mash.

ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں وکیع اور ابومعاویہ نے اعمش سے اسی سند سے اسی طرح حدیث بیان کی

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَعُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: «بَايَعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ، وَعَلَى أَثَرَةٍ عَلَيْنَا، وَعَلَى أَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَعَلَى أَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ أَيْنَمَا كُنَّا، لَا نَخَافُ فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ

It has been narrated on the authority of Ubida who learnt the tradition from his father who, in turn, learnt it from his own father. 'Ubada's grandfather said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took an oath of allegiance from us on our listening to and obeying the orders of our commander in adversity and prosperity, in pleasure and displeasure (and even) when somebody is given preference over us, on our avoiding to dispute the delegation of powers to a person deemed to be a fit recipient thereof (in the eye of one who delegates it) and on our telling the truth in whatever position we be without fearing in the matter ef Allah the reproach of the reproacher.

ہمیں ابوبکر بن ابی شیبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبداللہ بن ادریس نے یحییٰ بن سعید اور عبیداللہ بن عمر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبادہ بن ولید سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے ان کے دادا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس بات پر بیعت کی کہ مشکل میں اور آسانی میں اور خوشی میں اور ناخوشی میں اور خود ترجیح دیے جانے کی صورت میں بھی سنیں گے اور اطاعت کریں گے اور اس بات پر بیعت کی کہ جن کے پاس امارت ہو گی ، امارت کے معاملے میں ان سے تنازع نہیں کریں گے اور ہم جہاں کہیں بھی ہوں گے ( ہمیشہ ) حق نہیں گے اور اللہ کے ( دین پر چلنے کے ) معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے

وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ،

This hadith has been narrated on the authority of 'Ubada b. Walid with the same chain of transmitters.

یہی حدیث نے ہمیں ابن نمیر نے بیان کی ، کہا : ہمیں عبداللہ بن ادریس نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن عجلان ، عبیداللہ بن عمر اور یحییٰ بن سعید نے عبادہ بن ولید سے اسی سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی

وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ الْهَادِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: بَايَعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ

The same tradition has been handed down through more than one chain of transmitters.

یزید بن ہاد نے عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے میرے والد نے روایت کی ، کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیعت کی ، ابن ادریس کی حدیث کے مانند

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَهُوَ مَرِيضٌ، فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا أَصْلَحَكَ اللهُ، بِحَدِيثٍ يَنْفَعُ اللهُ بِهِ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: دَعَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْنَاهُ، فَكَانَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا: «أَنْ بَايَعَنَا عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي مَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا، وَعُسْرِنَا وَيُسْرِنَا، وَأَثَرَةٍ عَلَيْنَا، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ»، قَالَ: «إِلَّا أَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَكُمْ مِنَ اللهِ فِيهِ بُرْهَانٌ

It has been narrated on the authority of Junida b. Abu Umayya who said: We called upon 'Ubada b. Samit who was ill and said to him: May God give you health I Narrate to us a tradition which God may prove beneficial (to us) and which you have heard from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) called us and we took the oath of allegiance to him. Among the injunctions he made binding upon us was: Listening and obedience (to the Amir) in our pleasure and displeasure, in our adversity and prosperity, even when somebody is given preference over us, and without disputing the delegation of powers to a man duly invested with them (Obedience shall be accorded to him in all circumstances) except when you have clear signs of his disbelief in (or disobedience to) God-signs that could be used as a conscientious justification (for non-compliance with his orders).

جنادہ بن ابی امیہ سے روایت ہے ، کہا : ہم حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے ، وہ ( اس وقت ) بیمار تھے ، ہم نے عرض کی : اللہ تعالیٰ آپ کو صحت عطا فرمائے ، ہم کو ایسی حدیث سنائیے جس سے ہمیں فائدہ ہوا اور جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو ، ( حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو بلایا ، ہم نے آپ کےساتھ بیعت کی ، آپ نے ہم سے جن چیزوں پر بیعت لی وہ یہ تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے خوشی اور ناخوشی میں اور مشکل اور آسانی میں اور ہم پر ترجیح دیے جانے کی صورت میں ، سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی اور اس پر کہ ہم اقتدار کے معاملے میں اس کی اہلیت رکھنے والوں سے تنازع نہیں کریں گے ۔ کہا : ہاں ، اگر تم اس میں کھلم کھلا کفر دیکھو جس کے ( کفر ہونے پر ) تمہارے پاس ( قرآن اور سنت سے ) واضح آثار موجود ہوں