TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Chapter: Affirmation of Paradise for the Martyr - شہید کے لیے جنت کا ثبوت - The book of government - Sahih Muslim with Urdu and English Translation

Chapter 38 of The book of government in Sahih Muslim. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 38 of 56 · 6 Hadith
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ: أَيْنَ أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ قُتِلْتُ؟ قَالَ: «فِي الْجَنَّةِ»، فَأَلْقَى تَمَرَاتٍ كُنَّ فِي يَدِهِ، ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، وَفِي حَدِيثِ سُوَيْدٍ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ
It has been reported on the authority of Jabir that a man said: Messenger of Allah, where shall I be if I am killed? He replied: In Paradise. The man threw away the dates he had in his hand and fought until he was killed (i. e. he did not wait until he could finish the dates). In the version of the tradition narrated by Suwaid we have the words: A man said to the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). on the day of Uhud......
سعید بن عمرو اشعثی اور سعید بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی : ۔ ۔ الفاظ سعید کے ہیں ۔ ۔ کہا : ہمیں سفیان نے عمرو سے خبر دی : انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ایک شخص نے عرض کی : اللہ کے رسول! اگر میں ( اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے ) شہید کر دیا جاؤں تو میں کہاں ہوں گا؟ فرمایا : " جنت میں ۔ " اس شخص کے ہاتھ میں جو کھجوریں تھیں اس نے ان کو پھینکا ، پھر لڑا حتی کہ شہید ہو گیا ۔ اور سوید کی روایت میں یہ ہے : ایک شخص نے اُحد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی ۔
4913
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّبِيتِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّبِيتِ قَبِيلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّكَ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَمِلَ هَذَا يَسِيرًا، وَأُجِرَ كَثِيرًا»
It has been reported on the authority of Bara! ' who stated: A man from Banu Nabit (one of the Ansar tribes) came to the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: I testify that there is no god except Allah and that thou art His bondman and Messenger. Then he went forward and fought until he was killed. The Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: He has done a little but shall be given a great reward.
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : انصار کے ایک قبیلے ، بنو نبیت میں سے ایک شخص ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ) آیا اور اس نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور بلاشبہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، پھر آگے بڑھا ، ( خوب ) جنگ کی حتی کہ شہید کر دیا گیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس شخص نے عمل بہت کم کیا اور اس کو اجر بہت زیادہ عطا کیا گیا ۔ "
4914
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ [ص:1510]، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُسَيْسَةَ عَيْنًا يَنْظُرُ مَا صَنَعَتْ عِيرُ أَبِي سُفْيَانَ، فَجَاءَ وَمَا فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ غَيْرِي، وَغَيْرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا أَدْرِي مَا اسْتَثْنَى بَعْضَ نِسَائِهِ، قَالَ: فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنَّ لَنَا طَلِبَةً، فَمَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا فَلْيَرْكَبْ مَعَنَا»، فَجَعَلَ رِجَالٌ يَسْتَأْذِنُونَهُ فِي ظُهْرَانِهِمْ فِي عُلْوِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: «لَا، إِلَّا مَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا»، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى سَبَقُوا الْمُشْرِكِينَ إِلَى بَدْرٍ، وَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُقَدِّمَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَى شَيْءٍ حَتَّى أَكُونَ أَنَا دُونَهُ»، فَدَنَا الْمُشْرِكُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُومُوا إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ»، قَالَ: - يَقُولُ عُمَيْرُ بْنُ الْحُمَامِ الْأَنْصَارِيُّ: - يَا رَسُولَ اللهِ، جَنَّةٌ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قَالَ: بَخٍ بَخٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يَحْمِلُكَ عَلَى قَوْلِكَ بَخٍ بَخٍ؟» قَالَ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، إِلَّا رَجَاءَةَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِهَا، قَالَ: «فَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِهَا»، فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرَنِهِ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُنَّ، ثُمَّ قَالَ: لَئِنْ أَنَا حَيِيتُ حَتَّى آكُلَ تَمَرَاتِي هَذِهِ إِنَّهَا لَحَيَاةٌ طَوِيلَةٌ، قَالَ: فَرَمَى بِمَا كَانَ مَعَهُ مِنَ التَّمْرِ، ثُمَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ
t has been reported on the authority of Anas b. Malik who said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent Busaisah as a scout to see what the caravan of Abu Sufyan was doing. He came (back and met the Prophet in his house) where there was nobody except myself and the Messenger of Allah. I do not remember whether he (Hadrat Anas) made an exception of some wives of the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) or not and told him the news of the caravan. (Having heard the news), the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came out (hurriedly), spoke to the people and said: We are in need (of men) ; whoever has an animal to ride upon ready with him should ride with us. People began to ask him permission for bringing their riding animals which were grazing on the hillocks near Medina. He said: No. (I want) only those who have their riding animals ready. So the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and his Companions proceeded towards Badr and reached there forestalling the polytheists (of Mecca). When the polytheists (also) reached there, the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: None of you should step forward to (do) anything unless I am ahead of him. The polytheists (now) advanced (towards us), and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said. Get up to enter Paradise which is equal in width to the heavens and the earth. 'Umair b. al- Humam al-Ansari said: Messenger of Allah, is Paradise equal in extent to the heavens and the earth? He said: Yes. 'Umair said: My goodness! The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) asked him: What prompted you to utter these words (i. e. my goodness! ')? He said: Messenger of Allah, nothing but the desire that I be among its residents. He said: Thou art (surely) amona its residents. He took out dates from his bag and began to eat them. Then he said: If I were to live until I have eaten all these dates of mine, it would be a long life. (The narrator said): He threw away all the dates he had with him. Then he fought the enemies until he was killed.
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان کی خبر لانے کے لئے بُسیسہ ( خزرجی انصاری ) رضی اللہ عنہ کو جاسوس بنا کر بھیجا کہ دیکھے ابوسفیان کے ( تجارتی ) قافلے کی کیا صورتِ حال ہے ۔ جس وقت وہ واپس آیا تو گھر میں میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کوئی نہیں تھا ، ۔ ۔ ( ثابت نے ) کہا : مجھے انس رضی اللہ عنہ کا کسی ام المومنین کو مستثنیٰ کرنا معلوم نہیں ۔ ۔ کہا : اس نے آ کر آپ کو ساری بات بتائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا : " ہمیں کچھ ( کرنا ) مطلوب ہے ، سو جس کے پاس سواری موجود ہو وہ ہمارے ساتھ سوار ہو کر چلے ۔ " کچھ لوگ بالائی مدینہ میں ( موجود ) اپنی سواریاں لانے کی اجازت طلب کرنے لگے ۔ آپ نے فرمایا : " نہیں ، صرف وہی لوگ ( ساتھ چلیں ) جن کی سواریاں یہیں موجود ہوں ۔ " پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب چل پڑے اور مشرکین سے پہلے " بدر " پہنچ گئے ، مشرکین بھی آ پہنچے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی شخص ، جب تک میں اس کے پیچھے نہ ہوں ، کسی چیز پر پیش قدمی نہ کرے ۔ " مشرکین قریب آ گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس جنت کی طرف بڑھ جس کی چوڑائی آسمان اور زمین ہیں ۔ " کہا : ( یہ سن کر ) حضرت عمیر بن حمام انصاری رضی اللہ عنہ کہنے لگے : یا رسول اللہ! جنت جس کا عرض آسمان اور زمین ہے؟ آپ نے فرمایا : " ہاں ۔ " اس نے کہا : واہ واہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم نے یہ واہ واہ کس وجہ سے کہا؟ " اس نے کہا : اللہ کے رسول! اس امید کے سوا اور کسی وجہ سے نہیں ( کہا ) کہ میں ( بھی ) جنت والوں میں سے ہو جاؤں ، آپ نے فرمایا : " بلاشبہ تم اہل جنت میں سے ہو ۔ " حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے اپنے ترکش سے کچھ کھجوریں نکال کر کھانی شروع کیں ، پھر کہنے لگے : اگر میں اپنی ان کھجوروں کو کھا لینے تک زندہ رہا تو پھر یہ بڑی لمبی زندگی ہو گی ( یعنی جنت ملنے میں دیر ہو جائے گی ) ، پھر انہوں نے ، جو کھجوریں ان کے پاس تھیں ، پھینکیں اور لڑائی شروع کر دی یہاں تک کہ شہید ہو گئے ۔
4915
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا، وقَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، وَهُوَ بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ»، فَقَامَ رَجُلٌ رَثُّ الْهَيْئَةِ، فَقَالَ: يَا أَبَا مُوسَى، آنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: أَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلَامَ، ثُمَّ كَسَرَ جَفْنَ سَيْفِهِ فَأَلْقَاهُ، ثُمَّ مَشَى بِسَيْفِهِ إِلَى الْعَدُوِّ فَضَرَبَ بِهِ حَتَّى قُتِلَ
The tradition has been narrated on the authority of 'Abdullah b. Qais. He heard it from his father who, while facing the enemy, reported that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Surely, the gates of Paradise are under the shadows of the swords. A man in a shabby condition got up and said; Abu Musa, did you hear the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) say this? He said: Yes. (The narrator said): He returned to his friends and said: I greet you (a farewell greeting). Then he broke the sheath of his sword, threw it away, advanced with his (naked) sword towards the enemy and fought (them) with it until he was slain.
ابوبکر بن عبداللہ بن قیس سے روایت ہے ، انہوں نے اپنے والد ( حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : میں نے اپنے والد سے ، جب وہ دشمن کا سامنا کر رہے تھے ، سنا : وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنت کے دروازے تلواروں کے سائے تلے ( ہوتے ) ہیں ۔ " یہ سن کر ایک خستہ حال شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا : ابوموسیٰ! کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود یہ فرماتے ہوئے سنا تھا؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ یہ سن کر وہ شخص واپس اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہنے لگا : میں تمہیں ( الوداعی ) سلام کہتا ہوں ، پھر اس نے اپنی تلوار کی نیام توڑ کر پھینک دی اور تلوار لے کر بڑھا ، اس سے شمشیر زنی کی یہاں تک کہ شہید کر دیا گیا ۔
4916
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: جَاءَ نَاسٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: أَنِ ابْعَثْ مَعَنَا رِجَالًا يُعَلِّمُونَا الْقُرْآنَ وَالسُّنَّةَ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ سَبْعِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهُمْ: الْقُرَّاءُ، فِيهِمْ خَالِي حَرَامٌ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، وَيَتَدَارَسُونَ بِاللَّيْلِ يَتَعَلَّمُونَ، وَكَانُوا بِالنَّهَارِ يَجِيئُونَ بِالْمَاءِ فَيَضَعُونَهُ فِي الْمَسْجِدِ، وَيَحْتَطِبُونَ فَيَبِيعُونَهُ، وَيَشْتَرُونَ بِهِ الطَّعَامَ لِأَهْلِ الصُّفَّةِ وَلِلْفُقَرَاءِ، فَبَعَثَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ، فَعَرَضُوا لَهُمْ، فَقَتَلُوهُمْ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغُوا الْمَكَانَ، فَقَالُوا: اللهُمَّ، بَلِّغْ عَنَّا نَبِيَّنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَاكَ فَرَضِينَا عَنْكَ، وَرَضِيتَ عَنَّا، قَالَ: وَأَتَى رَجُلٌ حَرَامًا، خَالَ أَنَسٍ مِنْ خَلْفِهِ، فَطَعَنَهُ بِرُمْحٍ حَتَّى أَنْفَذَهُ، فَقَالَ حَرَامٌ: فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: إِنَّ إِخْوَانَكُمْ قَدْ قُتِلُوا، وَإِنَّهُمْ قَالُوا: اللهُمَّ بَلِّغْ عَنَّا نَبِيَّنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَاكَ فَرَضِينَا عَنْكَ، وَرَضِيتَ عَنَّا
It has been reported on the authority of Anas b. Malik that some people came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said to him: Send with us some men who may teach us the Qur'an and the Sunnah. Accordingjy, he sent seventy men from the Ansar. They were called the Reciters and among them was my maternal uncle. Haram. They used to recite the Qur'an, discuss and ponder over its meaning at night. In the day they brought water and poured it (in pitchers) in the mosque, collected wood and sold it, and with the sale proceeds bought food for the people of the Suffa and the needy. The Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent the Reciters with these people, but these (treacherous people) fell upon them and killed thern before they reached their destination (While dying), they said: O Allah, convey from us the news to our Prophet that we have met Thee (in a way) that we are pleased with Thee and Thou art pleased with us. (The narrator said): A man attacked Haram (maternal uncle of Anas) ) from behind and smote him with a spear which pierced him. (While dying), Haram said: By the Lord of the Ka'ba, I have met with success. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to his Companions: Your brethren have been slain grid they were saying: O Allah, convey from us to our Prophet the news that we have met Thee in a way that we are pleased with Thee and Thou art pleased with us.
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے : ہمارے ساتھ کچھ آدمی بھیج دیں جو ( ہمیں ) قرآن اور سنت کی تعلیم دیں ۔ آپ نے ان کے ساتھ ستر انصاری بھیج دیے جنہیں قراء کہا جاتا تھا ، ان میں میرے ماموں حضرت حرام ( بن ملحان رضی اللہ عنہ ) بھی تھے ، یہ لوگ رات کے وقت قرآن پڑھتے تھے ، ایک دوسرے کو سناتے تھے ، قرآن کی تعلیم حاصل کرتے تھے ، اور دن کو مسجد میں پانی لا کر رکھتے تھے اور جنگل سے لکڑیاں لا کر فروخت کرتے اور اس سے اصحاب صفہ اور فقراء کے لیے کھانا خریدتے تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان ( آنے والے کافروں ) کی طرف بھیجا اور انہوں نے منزل پر پہنچنے سے پہلے ( راستے ہی میں دھوکے سے ) ان پر حملہ کر دیا اور انہیں شہید کر دیا ، اس وقت انہوں نے کہا : اے اللہ! ہماری طرف سے ہمارے نبی کو یہ پیغام پہنچا دے کہ ہماری تجھ سے ملاقات ہو گئی ہے ، ہم تجھ سے راضی ہو گئے ہیں اور تو ہم سے راضی ہو گیا ہے ۔ اس سانحے میں ایک شخص نے پیچھے سے آ کر انس رضی اللہ عنہ کے ماموں ، حرام ( بن ملحان ) رضی اللہ عنہ کو اس طرح نیزہ مارا کہ وہ آر پار ہو گیا تو انہوں نے کہا : رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا ، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : " تمہارے بھائی شہید کر دیے گئے ہیں اور انہوں نے کہا ہے : " اے اللہ! ہمارے نبی کو یہ پیغام پہنچا دے کہ ہم نے تجھ سے ملاقات کر لی ہے ، ہم تجھ سے راضی ہو گئے ہیں اور تو ہم سے راضی ہو گیا ہے ۔ "
4917
Sahih
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: «عَمِّيَ الَّذِي سُمِّيتُ بِهِ لَمْ يَشْهَدْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدْرًا»، قَالَ: فَشَقَّ عَلَيْهِ، قَالَ: أَوَّلُ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُيِّبْتُ عَنْهُ، وَإِنْ أَرَانِيَ اللهُ مَشْهَدًا فِيمَا بَعْدُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَرَانِي اللهُ مَا أَصْنَعُ، قَالَ: «فَهَابَ أَنْ يَقُولَ غَيْرَهَا»، قَالَ: «فَشَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ»، قَالَ: فَاسْتَقْبَلَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، فَقَالَ لَهُ أَنَسٌ: يَا أَبَا عَمْرٍو، أَيْنَ؟ فَقَالَ: وَاهًا لِرِيحِ الْجَنَّةِ أَجِدُهُ دُونَ أُحُدٍ، قَالَ: «فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ»، قَالَ: «فَوُجِدَ فِي جَسَدِهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مِنْ بَيْنِ ضَرْبَةٍ وَطَعْنَةٍ وَرَمْيَةٍ»، قَالَ: فَقَالَتْ أُخْتُهُ - عَمَّتِيَ الرُّبَيِّعُ بِنْتُ النَّضْرِ - فَمَا عَرَفْتُ أَخِي إِلَّا بِبَنَانِهِ، وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا} [الأحزاب: 23] ، قَالَ: «فَكَانُوا يُرَوْنَ أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِ وَفِي أَصْحَابِهِ»
It has been Deported on the authority of Anas who said: My uncle and I have been named after him was not present with the Messenger of Allah (mav peace be upon him) on the Day of Badr. He felt distressed about it. He would say: I have missed the first battle fought by the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and if God now gives me an opportunity to see a battlefield with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), God will see what I do therein. He was afraid to say more than this (lest he be unable to keep his word with God). He was present with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) on the Day of Uhud. He met Sa'd b. Mu'adh (who was retreating). Anas said to him: O Abu 'Amr, where (are you going)? Woe (to thee)! I find the smell of Paradise beside the Uhud mountain. (Reprimanding Sa'd in these words) he went forward and fought thein (the enemy) until he was killed. (The narrator says). More than eighty wounds inflicted with swords, spears and arrows were found on his body. His sister, my aunt, ar-Rubayyi', daughter of Nadr, said: I could not recognise my brother's body (it was so badly mutilated) except from his finger-tips. (It was on this occasion that) the Qur'anic verse: Among the Believers are men who have been true to their covenant with God. Of them some have completed their vow (to the extreme), and some still wait: but they have never changed (their determination) in the least (xxxiii. 23). The narrator said that the verse had been revealed about him (Anas b. Nadr) and his Companions.
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : میرے چچا جن کے نام پر میرا نام رکھا گیا ہے ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ بدر میں حاضر نہیں ہو سکے تھے اور یہ بات ان پر بہت شاق گزری تھی ۔ انہوں نے کہا : یہ پہلا معرکہ تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شریک ہوئے اور میں اس سے غیر حاضر رہا ، اس کے بعد اگر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں کوئی معرکہ مجھے دکھایا تو اللہ مجھے بھی دیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں ۔ وہ ان کلمات کے علاوہ کوئی اور بات کہنے سے ڈرے ( دل میں بہت کچھ کر گزرنے کا عزم تھا لیکن اس فقرے سے زیادہ کچھ نہیں کہا ۔ ) ، پھر وہ غزوہ اُحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے ، کہا : پھر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ان کے سامنے آئے تو ( میرے چچا ) انس ( بن نضر ) رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : ابوعمرو! کدھر؟ ( پھر کہا : ) جنت کی خوشبو کیسی عجیب ہے! جو مجھے کوہِ احد کے پیچھے سے آ رہی ہے ، پھر وہ کافروں سے لڑے یہاں تک کہ شہید ہو گئے ۔ ان کے جسم پر تلوار ، نیزے اور تیروں کے اَسی سے اوپر زخم پائے گئے ۔ ان کی بہن ، میری پھوپھی ، ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے اپنے بھائی ( کی لاش ) کو صرف ان کی انگلیوں کے پوروں سے پہچانا تھا ، ( اسی موقع پر ) یہ آیت نازل ہوئی : " ( مومنوں میں سے ) کتنے مرد ہیں کہ جس ( قول ) پر انہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا ، اسے سچ کر دکھایا ، ان میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے اپنا ذمہ پورا کر دیا ، اور ان میں سے کوئی ایسے ہیں جو منتظر ہیں ، وہ ذرہ برابر تبدیل نہیں ہوئے ( اپنے اللہ کے ساتھ کیے ہوئے عہد پر قائم ہیں ۔ ) " صحابہ کرام کا خیال یہ تھا کہ یہ آیت حضرت انس ( بن نضر ) رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ۔
4918
Sahih

Chapters

56
01
Chapter: The people follow the Quraish and the Caliphate belongs to the Quraish
لوگ قریش کے تابع ہیں اور خلافت قریش میں ہی ہو گی
12 Hadith
02
Chapter: Appointing a successor or not doing so
کسی کو اپنا جانشین مقرر کرنے اور نہ کرنے کا بیان
2 Hadith
03
Chapter: The prohibition of seeking or desiring a position of authority
امارت طلب طرنے اور اس کی حرص رکھنے کی ممانعت
4 Hadith
04
Chapter: It is disliked to be appointed to a position of authority unnecessarily
ضرورت کے بغیر امارت طلب کرنا مکروہ ہے
2 Hadith
05
Chapter: The virtue of a just ruler and the punishment of a tyrant; Encouragement to treat those under one's authority with kindness and the prohibition against causing them hardship
عادل حاکم کی فضیلت ‘ظالم حاکم کی سزا ‘رعایہ طے ساتھ نرمی کی تلقین‘اور ان پر مشقت ڈالنے کی ممانعت
13 Hadith
06
Chapter: Emphatic prohibition against stealing from the spoils of war (Ghulul)
اموال غنیمت میں خیانت کی شدید حرمت
4 Hadith
07
Chapter: The prohibition of giving gifts to agents
عاملوں(سرکاری ملازموں کو ملنے والے )ھدیوں کی حرمت
8 Hadith
08
Chapter: The obligation of obeying leaders in matters that do not involve sin, but it is forbidden to obey them in sinful matters
گناہ کے کاموں کے علاوہ دوسرے کاموں میں حکام کی اطاعت اور گناہ کے کاموں میں اطاعت کی حرمت
26 Hadith
09
Chapter: The obligation of fulfilling oaths of allegiance is owed to the first of two Caliphs
سب سے پہلے خلیفہ اور اس کے بعد جو سب سے پہلے ہو اس کی بیعت کے ساتھ وفاداری واجب ہے
6 Hadith
10
Chapter: The command to be patient in the face of oppressive rulers and their selfishness
حکام کے ظلم اور ان کےخود کو ترجیع دینے پر صبر کرنے کا حکم
3 Hadith
11
Chapter: Obeying Rulers even if they withhold the people's rights
امراء (حکمرانوں ) کی اطاعت چاہے وہ حقوق ادا نہ کرتے ہو
2 Hadith
12
Chapter: The ruling on one who seeks to divide the muslims when they are united
مسلمانوں کی جمیعت میں تفریق ڈالنے والے کےبارے میں شریعت کا فیصلہ
3 Hadith
13
Chapter: When allegiance has been sworn to two caliphs
دب دو خلیفوں کے لیے بیعت لی جائے
1 Hadith
14
Chapter: The obligation to denounce rulers for that in which they go against Shari'ah, but they should not be fought so long as they pray regularly, etc
خلاف شرع امور میں حکام کے سامنے انکار کرنے کا وجوب اور جب تک وہ نماز پڑھنے رہیں ان خلاف جنگ کی ممانعت اور اس طرح کے دیگر امور
4 Hadith
15
Chapter: The best and worst of rulers
اچھے اور برے حاکم
3 Hadith
16
Chapter: It is recommended for the army to swear allegiance to the ruler when intending to fight, and an account of Bay'at Ar-Ridwan beneath the tree
جنگ سےقبل امام(سالار کا)فوج سے بیعت لینا مستحب ہے ‘اور درخت کے نیچے بیعت رضوان کا بیان
18 Hadith
17
Chapter: The prohibition against a Muhajir returning to settle in his former homeland
مہاجر کے لیے پھر سے اپنے وطن میں جا بسنے کی ممانعت
1 Hadith
18
Chapter: Swearing Allegiance and Pledging to adhere to Islam, to engage in Jihad and to do Good, after the conquest of Makkah, and the meaning of the phrase: There is No Hijrah (migration) after the Conquest.
فتح مکہ کے بعد اسلام ‘جہاد اور خیر پربیعتاور فتح مکہ کے بعد ہجرت نہ ہونے کا مفہوم
8 Hadith
19
Chapter: How women gave their oath of allegiance
عورتوں کی بیعت کا طریقہ
2 Hadith
20
Chapter: Oath of allegiance pledging to hear and obey as much as possible
استطاعت کے مطابق حکم سننے اور ماننے کی بیعت
1 Hadith
21
Chapter: The age of responsibility
سن بلوغ کابیان
2 Hadith
22
Chapter: The prohibition of travelling with the Mushaf to the land of the disbelievers if there is the fear that it may fall into their hands.
کفار کے ہاتھ لگنے کا ڈر ہو تو کفار کی سر زمین میں قرآن پاک ساتھ لے جانے کی ممانعت
4 Hadith
23
Chapter: Horse Races and Training Horses for Racing
گھوڑ سواری میں مقابلہ اور گھوڑوں کودبلا کر کے جفاکش بنانا
2 Hadith
24
Chapter: Disliked qualities in Horses
گھوڑوں میں جو صفات نا پسند کی جاتی ہیں
3 Hadith
25
Chapter: The virtue of Jihad and going out (to fight) in the cause of Allah
جہاد اور اللہ کی راہ میں نکلنے کی فضیلت
8 Hadith
26
Chapter: The virtue of Martyrdom in the cause of Allah
اللہ کی راہ میں شہید ہو جانے کی فضیلت
6 Hadith
27
Chapter: The virtue of going out in the morning or the evening in the cause of Allah
صبح کو یا شام کو اللہ کی راہ میں سفر کرنے کی فضیلت
6 Hadith
28
Chapter: The High Positions that Allah has prepared for the Mujahid in Paradise
اللہ تعالیٰ نے مجاہد کےلیے جنت میں کیا درجات تیار کیے ہیں
1 Hadith
29
Chapter: If a person is killed in the cause of Allah, all his sins will be expiated except debt
جو شخص اللہ کی راہ میں شہید ہو قرض کے علاوہ اس کے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں
5 Hadith
30
Chapter: The souls of the martyrs are in Paradise, and they are alive with their Lord and they have provision
شہداء کی ارواح جنت میں ہیں اور آپنے رب کے ہاں زندہ ہیں اور انھیں رزق دیا جاتا ہے
1 Hadith
31
Chapter: The virtue of Jihad and keeping watch over the frontier
جہاد اور سرحدو پر پہرا دینے کی فضیلت
6 Hadith
32
Chapter: Two Men, one of whom kills the other, and both will enter Paradise
ایسے دو آدمیوں کا بیان جن میں سےایک دوسرے کو قتل کرے اور دونوں جنت میں داخل ہو نگے
3 Hadith
33
Chapter: One who kills a disbeliever then keeps to the right path
کافر کو قتل کرنے کےبعد دین پرجمے رہنا
2 Hadith
34
Chapter: The virtue of Charity in the Cause of Allah, and its Manifold reward
اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے صدقہ کرنے کی فضیلت اور اس کے اجر میں کئی گنا اضافہ
1 Hadith
35
Chapter: The virtue of helping the warrior who is fighting in the cause of Allah with mounts etc., and looking after his family in his absence
سواری وغیرہ کے ساتھ مجاہد کی مدد کرنے اور اس کے گھر والوں کا خیال رکھنے کی فضیلت
10 Hadith
36
Chapter: The sanctity of the wives of the Mujahidin, and the sin of the one who betrays them with regard to them
مجاہدین کی عورتوں کی حرمت(تحفظ)اور جس نے ان میں مجاہدین میں سے خیانت کی اس کا گناہ
3 Hadith
37
Chapter: The duty of Jihad is waived for those who have excuses
معذوروں سے جہاد کی فرضیت ساقط ہو جانا
2 Hadith
38
Chapter: Affirmation of Paradise for the Martyr
شہید کے لیے جنت کا ثبوت
6 Hadith
39
Chapter: One who fights so that the word of Allah will be supreme is fighting in the cause of Allah
جو شخص اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے جہاد کرے وہی مجاہد (فی سبیل اللہ) ہے
4 Hadith
40
Chapter: One who fights to show off and gain a reputation deserves Hell
جس شخص نے دکھاوے اور نام و نمود کے لیےجنگ کی وہ جہنم کا مستحق ہے
2 Hadith
41
Chapter: The reward of those who fought and acquired spoils of war and those who did not acquire spoils of war
جس نے جنگ کی اور غنیمت حاصل کی اور جس کو غنیمت نہ ملی اس کے ثواب کا بیان
2 Hadith
42
Chapter: The words of the prophets saws: Deeds are but with intentions which includes fighting and other deeds
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا فرمان ’’تمام اعمال کا مدار نیت پر ہے اور اس میں جہاد اور دیگر اعمال بھی ہیں
2 Hadith
43
Chapter: It is recommended to seek Martyrdom in the Cause of Allah, Exalted is He.
شہادت فی سبیل اللہ طلب کرنا مستحب ہے
2 Hadith
44
Chapter: Criticism of one who dies without having fought (in Jihad) or having thought of fighting
اس شخص کی مذمت جو فوت ہو گیا اور اس نے جہاد کیا نہ دل میں جہاد کرنے کی بات کبھی سوچی
1 Hadith
45
Chapter: The reward of one who is kept from fighting by sickness or any other excuse
اس شخص کا ثواب جسے بیماری یا کسی اور عذر نے جہاد کرنے سے روک دیا
2 Hadith
46
Chapter: The virtue of campaigning by sea
سمندر میں (سفر)کر کے جہاد کرنے کی فضیلت
4 Hadith
47
Chapter: The virtue of guarding the frontier in the cause of Allah (Glorified and Exalted is He)
اللہ کی ر اہ میں سر حدپر پہرا دینے کی فضیلت
2 Hadith
48
Chapter: About the Martyrs
شہداء کا بیان
6 Hadith
49
Chapter: The virtue of Shooting and Encouragement to learn it, and criticism of the one who learns it and then forgets it
تیر اندازی کی فضیلت اور اس کی تلقین ‘جس نے اسے سیکھ کر بھلا دیا اس کی مذمت
4 Hadith
50
Chapter: Keeping animals' well being in mind when traveling, and the prohibition of halting in the road at the end of the night.
سفرکے دوران جانوروں کا خیال رکھنا اور رات کا آخری حصہ گزر گاہ پر گزارنے کی ممانعت
2 Hadith
51
Chapter: Travel is a kind of torment, and it is recommended for the traveler to hasten back to his family after finishing his business
سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے اپنا کام کر لینے کے بعد جلد گھر کو لوٹنا چاہیے
1 Hadith
52
Chapter: It is disliked to enter at night when coming home from a journey
مسافر کے لیے طروق (یعنی ) رات کو گھر میں داخل ہونا مکروہ ہے
10 Hadith
53
Chapter: The obligation of staying with the Jama'ah (main body) of the muslims when Fitn (tribulations) appear, and in all circumstances. The prohibition of refusing to obey and on splitting away from the Jama'ah
فتنہ اور فساد کے وقت بلکہ ہر وقت مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا
12 Hadith
54
Chapter: The virtue of horses; Goodness is tied to their Forelocks.
گھوڑوں کی فضیلت
11 Hadith
55
رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا
9 Hadith
56
Chapter: The ruler is a shield from behind whom they fight and by whom they are protected
امام ‌مسلمانوں ‌كی ‌سپرہے
1 Hadith
No chapter matched that.