صحیح مسلم

Sahih Muslim

کتاب: لباس اور زینت کے احکام

The book of clothes and adornment

تکبر کی بنا پر کپڑا گھسیٹ کر چلنے کی ممانعت اور یہ وضا حت کہ کپڑا لٹکا نے کی جا ئز حد کیا ہے اور مستحب کیا ہے؟

Chapter: The Prohibition Of Letting One's Garment Drag Out Of Pride, And The Extent To Which It Is Permissible To Let It Hang Down And The Extent To Which It Is Recommended

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ كُلُّهُمْ يُخْبِرُهُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ

Ibn 'Umar reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having said: Allah will not look upon him who trails his garment out of pride.

امام مالک نے نافع عبد اللہ بن دینا اور زید بن اسلم سے روایت کی ، ان سب نے انھیں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " جو شخص تکبر سے کپڑا گھسیٹ کرچلے اللہ تعا لیٰ اس کی طرف نظر تک نہیں کرے گا ۔ "

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو كَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ كِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَابْنُ رُمْحٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا هَارُونُ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ وَزَادُوا فِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

This hadith has been narrated on the authority of Ibn 'Umar through other chains of transmitters also with the addition of these words: On the Day of Resurrection.

عبید اللہ ایوب لیث بن سعد اور اسامہ ان سب نے نافع سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مالک کی حدیث کی طرح روایت کی اور یہ اضا فہ کیا : " قیامت کے دن ( نظر نہیں کرے گا ۔ ) "

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَنَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الَّذِي يَجُرُّ ثِيَابَةُ مِنْ الْخُيَلَاءِ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

Ibn 'Umar reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having said: He who trails his (lower) garment out of pride, Allah will not look toward him on the Day of Resurrection.

عمربن محمد نے اپنے والد سالم بن عبد اللہ اور نافع سے روایت کی ، انھوں نے نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " جو شخص تکبر سے کپڑا گھسیٹ کر چلتا ہے قیامت کے دن اللہ تعا لیٰ اس کی طرف نظر نہیں فرما ئے گا ۔ "

و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ قَالَ سَمِعْتُ سَالِمًا عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنْ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

Ibn 'Umar reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having said: He who trailed his garment out of pride, Allah would not look toward him on the Day of Resurrection.

عبد اللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں حنظلہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے سالم سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی : کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " جس شخص نے تکبر سے کپڑا گھسیٹا اللہ تعا لیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر تک نہیں فرما ئے گا ۔ "

و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ثِيَابَهُ

Salim reported: I heard Ibn Umar as saying that he had heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying like this (as mentioned above) but with a slight variation of wording [that instead of the word thaub (cloth) there is the word thiyab (the clothes) ].

اسحق بن سلیمان نے کہا : ہمیں حنظلہ بن ابی سفیان نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے سالم سے سنا ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہےتھےاسی کے مانند مگر انھوں نے ( کپڑا گھسیٹا کے بجا ئے ) " کپڑے ( گھسیٹے ) " کہا ۔

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ مُسْلِمَ بْنَ يَنَّاقَ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَجُرُّ إِزَارَهُ فَقَالَ مِمَّنْ أَنْتَ فَانْتَسَبَ لَهُ فَإِذَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ فَعَرَفَهُ ابْنُ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ يَقُولُ مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ لَا يُرِيدُ بِذَلِكَ إِلَّا الْمَخِيلَةَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

Muslim b. Yannaq reported that Ibn Umar saw a person trailing his lower garment, whereupon he said: From whom do you come? He described his relationship (with the tribe he belonged) and it was found that he belonged to the tribe of Laith. Ibn. Umar recognised him and said: I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) with these two ears of mine saying: He who trailed his lower garment with no other intention but pride, Allah would not look toward him on the Day of Resurrection.

شعبہ نے کہا : میں نے مسلم بن یناق سے سنا ، وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کررہے تھے کہ انھوں نے ایک شخص کو چادر گھسیٹ کر چلتے ہوئے دیکھا انھوں نے اس سے پو چھا : تم کس قبیلے سے ہو ؟ اس نے نسب بتا یا وہ شخص بنو لیث سے تھا ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو پہچان لیا اور کہا : میں نے اپنے ان دونوں کانوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ فرما رہے تھے ۔ " جس شخص نے اپنی ازار ( کمر سے نیچے کی چادر وغیرہ ) گھسیٹی اس سے اس کا ارادہ تکبر کے سوا اور نہ تھا تو قیامت کے دن اللہ تعا لیٰ اس کی طرف نظر تک نہیں فرما ئے گا ۔ "

و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ نَافِعٍ كُلُّهُمْ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ أَبِي يُونُسَ عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي الْحَسَنِ وَفِي رِوَايَتِهِمْ جَمِيعًا مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ وَلَمْ يَقُولُوا ثَوْبَهُ

This hadith has been narrated on the authority of Muslim b. Yannaq through another chain of transmitters but with a slight variation of wording.

عبد الملک بن ابی سلیمان ابو یو نس اور ابرا ہیم بن نافع ان سب نے مسلم بن یناق سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی مگر ابو یونس کی حدیث میں ہے : ابو الحسن مسلم روایت ہے اور ان سب کی روایت میں ہے ، " جس نے اپنی ازارگھسیٹی " انھوں نے " اپنا کپڑا " نہیں کہا ۔

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالُوا حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ يَقُولُ أَمَرْتُ مُسْلِمَ بْنَ يَسَارٍ مَوْلَى نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ أَنْ يَسْأَلَ ابْنَ عُمَرَ قَالَ وَأَنَا جَالِسٌ بَيْنَهُمَا أَسَمِعْتَ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يَجُرُّ إِزَارَهُ مِنْ الْخُيَلَاءِ شَيْئًا قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

Muhammad b. 'Abbad b. Ja'far reported: I ordered Muslim b. Yasar, the freed slave of Nafi' b. 'Abd al-Harith, while I was sitting between them, that he should ask Ibn 'Umar if he had heard anything from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) pertaining to one who trails his lower garment out of pride. He said: I heard him (the Holy Prophet) as saying: Allah will not look toward him on the Day of Resurrection.

ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے محمد بن عباد بن جعفر سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے نافع بن عبد الحارث کے غلام مسلم بن یسار سے کہا کہ وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کریں کہا : اور میں ان دونوں کے درمیان بیٹھا تھا ( انھوں نے سوال کیا : ) کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں کو ئی بات سنی جو تکبر سے اپنی ازارگھیسٹتا ہے؟ انھوں نے کہا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرما تے ہو ئے سنا تھا : " قیامت کے دن اللہ تعا لیٰ اس کی طرف نظر تک نہیں فر ما ئے گا

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي إِزَارِي اسْتِرْخَاءٌ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ ارْفَعْ إِزَارَكَ فَرَفَعْتُهُ ثُمَّ قَالَ زِدْ فَزِدْتُ فَمَا زِلْتُ أَتَحَرَّاهَا بَعْدُ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ إِلَى أَيْنَ فَقَالَ أَنْصَافِ السَّاقَيْنِ

Ibn 'Umar reported: I happened to pass before Allah's Messenger (may peace be upon bin) with my lower garment trailing (upon the ground). He said: 'Abdullah, tug up your lower garment,, I tugged it up, and he again said: Tug it still further, and I tugged it still further and I went on tugging it afterward, whereupon some of the people said: To what extent? Thereupon he said: To the middle of the shanks.

عبد اللہ بن واقد نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے گزرا میری کمر کی چادر کسی حد تک لٹک رہی تھی توآپ نے فرما یا " عبد اللہ ! اپنی چادر اوپر کرلو ۔ " میں نے اپنی چادر اوپر کرلی ۔ آپ نے فر ما یا : " اور زیادہ کر لو " میں نے ااورزیادہ اوپر کی ، پھر میں اس کواوپر کرتا رہا حتی کہ بعض لو گوں نے عرض کی کہاں تک ( اوپر کرے ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفر ما یا : " پنڈلیوں کے آدھے حصوں تک ۔ "

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَرَأَى رَجُلًا يَجُرُّ إِزَارَهُ فَجَعَلَ يَضْرِبُ الْأَرْضَ بِرِجْلِهِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْبَحْرَيْنِ وَهُوَ يَقُولُ جَاءَ الْأَمِيرُ جَاءَ الْأَمِيرُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى مَنْ يَجُرُّ إِزَارَهُ بَطَرًا

Abu Huraire reported that he saw a person whose lower garment bad been trailin. and he was striking the ground with his foot (conceitedly). He was the Amir of Bahrain and it was being said: Here comes the Amir, here comes the Amir. He (Abu Huraira) reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Allah will not look toward him who trails his lower garment out of pride.

عبید اللہ کے والد معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے محمد بن زیاد سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، اور انھوں نے ایک شخص کو چادر گھسیٹ کر چلتے ہو ئے دیکھا اس شخص نے زمین پر پاؤں مار مار کہنا شروع کر دیا : امیر آگئے امیرآگئے ۔ وہ ( ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) بحرین کے امیر تھے ۔ ( یہ دیکھ کر ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا تھا " جو شخص اتراتے ہو ئے زمین پر اپنی ازار گھسیٹتا ہے اللہ تعا لیٰ اس کی طرف نظر تک نہ فرمائے گا ۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ كَانَ مَرْوَانُ يَسْتَخْلِفُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ الْمُثَنَّى كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُسْتَخْلَفُ عَلَى الْمَدِينَةِ

This hadith has been reported on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters and in the hadith transmitted on the authority of Ibn ja'far (the words are): Marwan had made Abu Huraira as his deputy. and in the hadith transmitted on the authority of Ibn Muthanna (the words are). Abu Huraira was the Governor of Medina.

محمد بن بشار نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی ۔ اور ابن مثنیٰ نے کہا : ہمیں ابن ابی عدی نے حدیث سنائی ، ان دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، ابن جعفر کی روایت میں ہے : مروان ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی غیر حاضری میں مدینہ کا ( قائم مقام ) حاکم بنا یا کرتا تھا ۔ اور ابن مثنیٰ کی حدیث میں ہے : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ( حاکم کی غیرحاضر ی میں ) مدینہ کا حاکم بنا یا جا تا تھا ۔