صحیح مسلم

Sahih Muslim

کتاب: معاشرتی آداب کا بیان

The book of manners and etiquette

کسی کے گھر میں جھا نکنے کی ممانعت

Chapter: The Prohibition Of Looking Into A House

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَا أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ فِي جُحْرٍ فِي بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْتَظِرُنِي لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِذْنُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ

Sahl b. Sa'd as-Sa'id reported that a person peeped through the hole of the door of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and at that time Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had with him a scratching instrument with which he had been scratching his head. When Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) saw him. he said: If I were to know that you had been peeping through the door, I would have thrust that into your eyes, and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Permission is needed as a protection against glance.

لیث نے ابن شہاب سے روایت کی کہ حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کی جھری میں اندر جھا نکا ، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( لکڑی یا لو ہے کا لمبی لمبی کئی نوکوں والا ) بال درست کرنے کا ایک آلہ تھا جس سے آپ سر کھجا رہے تھے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا تو فرما یا : " اگر مجھے یقینی طور پر پتہ چل جا تا کہ تم مجھے دیکھ رہے ہو تو میں اس کو تمھا ری آنکھوں میں گھسا دیتا ، " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اجازت لینے کا طریقہ آنکھ ہی کی وجہ سے تو رکھا گیا ہے ۔ " ( کہ آنکھ کسی خلوت کے عالم میں نہ دیکھ سکے ۔ )

و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ جُحْرٍ فِي بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يُرَجِّلُ بِهِ رَأْسَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُ طَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ إِنَّمَا جَعَلَ اللَّهُ الْإِذْنَ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ

Sahl b. Sa'd as-Sa'idi reported that a person peeped through the hole of the door of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and he had with him some pointed thing with which he had been adjusting (the hair of his head). Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to him: If I were to know that you had been peeping. I would have thrust it in your eyes. Allah has prescribed seeking permission because of protection against glance.

یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ سہل بن سعدانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے میں بن جا نے والی جھری میں سے جھا نکا ، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بال درست کرنے والا لوہے کا ایک آلہ تھا جس سے آپ سر کے بالوں کو سنوار رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فر ما یا : " اگر میں جان لیتا کہ تو واقعی مجھے دیکھ رہے ہو تو میں اس کو تمھا ری آنکھوں میں چبھو دیتا ۔ اللہ نے اجازت لینے کا طریقہ آنکھ ہی کے لیے تو رکھا ہے ۔ "

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى وَأَبِي كَامِلٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ إِلَيْهِ بِمِشْقَصٍ أَوْ مَشَاقِصَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْتِلُهُ لِيَطْعُنَهُ

Anas b. Malik reported that a person peeped in some of the holes (in the doors) of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) (and he found him) standing up (lifting) an arrow or some arrows. The narrator said: I perceived as if Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was going to pierce (his eyes).

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے میں جھا نکا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چوڑے پھل کا ایک تیر یا کئی تیرلے کر اٹھے جیسے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہو ں کہ آپ خاموشی سے اس کی آنکھوں میں وہ تیر چبھو نے کے امکا ن کا جائزہ لے رہے تھے ۔

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَقَدْ حَلَّ لَهُمْ أَنْ يَفْقَئُوا عَيْنَهُ

Abu Huraira reported having heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) say: He who peeped into the house of people without their consent, it is permissible for them to put out his eyes.

سہیل کے والد ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : " جس نے اجازت کے بغیر لو گوں کے گھر میں تانک جھانک کی ، انھیں اجا زت ہے کہ وہ اس کی آنکھ پھوڑدیں ۔ "

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ عَلَيْكَ بِغَيْرِ إِذْنٍ فَخَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ جُنَاحٍ

Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: If a person were to cast a glance in your (house) without permission, and you had in your hand a staff and you would have thrust that in his eyes, there is no harm for you.

اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اگر کو ئی شخص اجازت کے بغیر تمھا رے ہاں جھا نکے اور تم کنکری مارکر اس کی آنکھ پھوڑدو تو تم پر کو ئی گناہ نہیں ہے ( کو ئی سزایا جرمانہ نہیں ۔ )