Jundab reported: I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: I shall be there at the Cistern before you.
ہمیں زائدہ نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں عبدالمطلب بن عمیر نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت جندب ( بن عبداللہ بجلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرمارہے تھے : " میں حوض پرتمھارا پیش رو ہوں ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Jundab through another chain of transmitters.
مسعر اور شعبہ دونوں نے عبدالملک بن عمیر سے ، انھوں نے حضرت جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ا س کے مانند روایت کی ۔
Sahl (b. Sa'd) reported: I heard Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: I shall go to the Cistern before you and he who comes would drink and he who drinks would never feel thirsty, and there would come to me people whom I would know and who would know me. Then there would be intervention between me and them. Abu Hazim said that Nu'man b. Abu 'Ayyash heard it and I narrated to them this hadith, and said: Is it this that you heard Sahl saying? He said: Yes, and I bear witness to the fact that I heard it from Abu Sa'id Khudri also, but he made this addition that he (the Holy Prophet) would say: They are my followers, and it would be said to him: You do not know what they did after you and I will say to them: Woe to him who changes (his religion) after me.
یعقوب بن عبدالرحمان القاری نے ابو حازم سے ر وایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( ابن سعد ساعدی ) سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : "" میں تم سے پہلے اپنے حوض پر پہنچنے والا ہوں ، جو اس حوض پر پینے کے لئے آجائے گا ، پی لے گا اور جو پی لے گا وہ کبھی پیا سا نہیں ہوگا ۔ میرے پاس بہت سے لوگ آئیں گے میں انھیں جانتا ہوں گا ، وہ مجھے جانتے ہوں گے ، پھر میرے اور ان کے درمیان ر کاوٹ حائل کردی جائے گی ۔ "" ابوحازم نے کہا : میں یہ حدیث ( سننے والوں کو ) سنا رہا تھا کہ نعمان بن ابی عیاش نے بھی یہ حدیث سنی تو کہنے لگے : آپ نے سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اسی طرح کہتے ہوئے سنا ہے؟میں نے کہا : جی ہاں ۔
Same as Hadees 5968
انھوں ( نعمان بن ابی عیاش ) نے کہا : اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضرت ابو سعید خدری سے سنا ، وہ اس ( حدیث ) میں مزید یہ بیان کرتے تھےکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے : " یہ میرے ( لوگ ) ہیں تو کہا جائے گا : آپ نہیں جانتے کہ انھوں نے آپ کے بعد کیا کیا ۔ تو میں کہوں گا : دوری ہو ، ہلاکت ہو!ان کے لئے جنھوں نے میرے بعد ( دین میں ) تبدیلی کردی ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Abu Sa'id Khudri through another chain of transmitters.
ابو اسامہ نے ابو حازم سے ، انھوں نے سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سےاور ( دوسری سند کے ساتھ ابو حازم نے ) نعمان بن ابی عیاش سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یعقوب ( بن عبدالرحمان القاری ) کی حدیث کے مانند بیا ن کیا ۔
`Abdullah b. `Amr al-`As, reported Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: My Cistern (is as wide and broad that it requires) a month's journey (to go round it) all, and its sides are equal and its water is whiter than silver, and its odour is more fragrant than the fragrance of musk, and its jugs (placed around it) are like stars in the sky; and he who would drink from it would never feel thirsty after that.
نافع بن عمر جحمی نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی ، کہا : حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " میر احوض ( لمبائی چوڑائی میں ) ایک ماہ کی مسافت کے برابر ہے اور اس کے ( چاروں ) کنارے برابر ہیں ( مربع ہے ) ، اس کاپانی چاندی سے زیادہ چمکدار ، اور اس کی خوشبو کستوری سے زیادہ معطر ہے ، اس کے کوزے آسمان کےستاروں جتنے ہیں ۔ جو شخص اس میں سے پی لے گا ، اسے اس کے بعد کبھی پیاس نہیں لگے گی ۔ "
Asma', daughter of Abu Bakr said: Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: I would be on the Cistern so that I would be seeing those who would be coming to me from you, but some people would be detained (before reaching me). I would say: My Lord, they are my followers and belong to my Ummah, and it would be said to me: Do you know what they did after you? By Allah, they did not do good after you, and they turned back upon their heels. He (the narrator) said: lbn Abu Mulaika used to say (in supplication): O Allah, I seek refuge with Thee that we should turn back upon our heels or put to any trial about our religion.
حضرت اسماءبنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " حوض میں ( موجود ) میں ہوں گا تا کہ دیکھوں کہ تم میں سے کو ن میرے پاس آتا ہے ، کچھ لوگوں کو مجھ ( تک پہنچنے ) سے پہلے ہی پکڑ لیا جا ئے گا ۔ تو میں کہوں گا : اے میرے رب !یہ میرے ہیں میری امت میں سے ہیں ۔ تو کہا جا ئے گا ، آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے بعد انھوں نے کیا ( کچھ ) کیا؟آپ کے بعد انھوں نے اپنی ایڑیوں پرواپس گھومنے میں ( ذرا ) دیر نہیں کی ۔ ( نافع نے ) کہا : ابن ابی ملیکہ یہ دعا کرتے تھے : " اے اللہ !ہم اس بات سے تیری پناہ میں آتے ہیں کہ ہم اپنی ایڑیوں پر پلٹ جا ئیں یا ہمیں کسی آزمائش میں دال کر اپنے دین سے ہٹا دیا جا ئے ۔ "
A'isha reported: I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) say in the company of his Companions: I would be on the Cistern waiting for those who would be coming to me from amongst you. By Allah, some persons would be prevented from coming to me, and I would say: My Lord, they are my followers and people of my Umma. And He would say,: You don't know what they did after you; they had been constantly turning back on their heels (from their religion).
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے ساتھ تھے اور فرما رہے تھے ۔ : " میں حوض پر ہوں گا ۔ انتظار کر رہا ہو ں گا کہ پاس پینے کے لیے کون آتا ہے ۔ اللہ کی قسم! مجھ ( تک پہنچنے ) سے پہلے کچھ لو گوں کو کا ٹ ( کر الگ کر ) دیا جا ئےگا ، تو میں کہوں گا : میرے رب! ( یہ ) میرے ہیں میری امت میں سے ہیں ۔ تو اللہ تعا لیٰ فرما ئے گا ، آپ نے جا نتے کہ انھوں نے آپ کے بعد کیا کیا ؟یہ مسلسل اپنی ایڑیوں پر پلٹتے رہے ۔
Umm Salama, the wife of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ), said I used to hear from people making a mention of the Cistern, but I did not hear about it from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). One day while a girl was combing me I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) say: O people. I said to that girl: Keep away from me. She said: He (the Holy Prophet) has addressed the men only and he has not invited the attention of the women. I said: I am amongst the people also (and have thus every right to listen to the things pertaining to religion). Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: I shall be your harbinger on the Cistern; therefore, be cautious lest one of you should come (to me) and may be driven away like a stray camel. I would ask the reasons, and it would be said to me: You don't know what innovations they made after you. And I would then also say: Be away.
بکیر نے قاسم بن عباس ہاشمی سے روایت کی ، انھوں نےحضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مولیٰ عبید اللہ بن رافع سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : میں لو گوں سے سنتی تھی کہ وہ حوض ( کوثر ) کا ذکر کرتے تھے ۔ میں نے یہ بات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی تھی ، پھر ان ( میری باری کے ) دنوں میں سے ایک دن ہوا ۔ اور خادمہ میری کنگھی کر رہی تھی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہو ئے سنا : " اے لوگو! " میں نے خادمہ سے کہا : مجھ سے پیچھے ہٹ جاؤ !وہ کہنے لگی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو پکا را ( مخاطب فر ما یا ) ہے عورتوں کو نہیں ۔ میں نے کہا : میں بھی لوگوں میں سے ہوں ( صرف مرد ہی لو گ نہیں ہو تے ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میں حوض پر تمھارا پیش رو ہوں گا ۔ میرے پاس تم میں سے کو ئی اس طرح نہ آئے کہ اسے مجھ سے دور دھکیلا جا رہا ہو ، جس طرح بھٹکے ہو ئے اونٹ کو ( ریوڑ سے ) اور دور دھکیلا جا تا ہے ۔ میں پوچھوں گا ۔ یہ کس وجہ سے ہو رہا ہے؟ تو کہا جا ئے گا ۔ آپ نہیں جا نتے کہ انھوں نے آپ کے بعد ( دین میں ) کیا نئے کا م نکا لے تھے ۔ تو میں کہوں گا دوری ہو! "
Umm Salama reported that she heard Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saying this as he was sitting on the pulpit and she was getting her hair combed. (He uttered these words): O people. And she said to one who was combing: Leave my head; the rest of the hadith is the same.
ہمیں افلح بن سعید نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں عبد اللہ بن رافع نے حدیث سنائی ، کہا؛ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کیا کرتی تھیں کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ فرما تے ہو ئے سنا ، اس وقت وہ کنگھی کرارہی تھیں ، ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) " اے لوگو! " انھوں نے اپنی کنگھی کرنے والی سے کہا : میرا سر چھوڑ دو! جس طرح بکیر نے قاسم بن عباس سے حدیث بیان کی ۔
Uqba b. 'Amir reported that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) one day went out and he offered prayer over the martyrs of Uhud just as prayer is offered over the dead. He then came back and sat on pulpit and said: I shall be present there (at the Cistern) before you. I shall be your witness and, by Allah, I perceive as if I am seeing with my own eyes my Cistern at this very state and I have been given the keys of the treasures of the earth or the keys of the earth and, by Allah, I am not afraid concerning you that you would associate anything (with Allah after me), but I am afraid that you would be vying with one another (for the possession of) the treasures of the earth.
لیث نے یزید بن ابی حبیب سے ، انھوں نے ابو الخیر سے ، انھوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے اور اہل احد پر اسی طرح نماز جنازہ پڑھی جس طرح میت پر پڑھی جاتی ہے ، پھر آپ پلٹ کر منبر پر تشریف فرما ہو ئے اور فرما یا : " میں حوض پر تمھا را پیش رو ہو ں گا اور میں تم پر گواہی دینے والا ہوں گا اور میں ، اللہ کی قسم !جیسے اب بھی اپنے حوض کو دیکھ رہا ہو ں گا ۔ مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں یا ( فرمایا : ) زمین کی چابیاں عطا کی گئیں اور اللہ کی قسم!میں تمھا رے بارے میں اس بات سے نہیں ڈرتا کہ میرے بعد تم شرک کرو گے ۔ لیکن میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تم ان ( خزانوں کے معاملے ) میں ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرو گے ( کہ ان میں سے کو ن زیادہ فائدہ اٹھا تا اور زیادہ دولت مندی کا مظاہرہ کرتا ہے ۔ ) "
Uqba b. 'Amir reported Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Allah's Messenger offered prayer over those who had fallen matyrs at Uhud. He then climbed the pulpit as if someone is saying good-bye to the living and the dead, and then said: I shall be there as your predecesor on the Cistern before you, and it is as wide as the distance between Aila and Juhfa (Aila is at the top of the gulf of 'Aqaba). I am not afraid that you would associate anything with Allah after me, but I am afraid that you may be (allured) by the world and (vie) with one another (in possessing material wealth) and begin killing one another, and you would be destroyed as were destroyed those who had gone before you. 'Uqba said that that was the last occasion that he saw Allah's Massenger on the pulpit.
ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی ، انھوں نے شقیق ( بن سلمہ اسدی ) سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ سے روایت بیان کی ۔ کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میں حوض پر تمھا را پیش رو ہوں گا ۔ میں کچھ اقوام ( لو گوں ) کے بارے میں ( فرشتوں سے ) جھگڑوں گا ، پھر ان کے حوالے سے ( فرشتوں کو ) مجھ پر غلبہ عطا کر دیا جا ئے گا ، میں کہوں گا : اے میرے رب ! ( یہ ) میرے ساتھی ہیں ۔ میرے ساتھی ہیں ، تو مجھ سے کہا جا ئے گا : بلا شبہ آپ نہیں جا نتے کہ انھوں نے آپ کے بعد ( دین میں ) کیا نئی باتیں ( بدعات ) نکا لی تھیں ۔ "
Abdullah reported Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying; I shall be there at the Cistern before you, and I shall have to contend for some people, but I shall have to yield. I would be saying: My Lord, they are my friends, they are my friends, and it would be said: You don't know what innovations they made after you.
ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی ، انھوں نے شقیق ( بن سلمہ اسدی ) سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ سے روایت بیان کی ۔ کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میں حوض پر تمھا را پیش رو ہوں گا ۔ میں کچھ اقوام ( لو گوں ) کے بارے میں ( فرشتوں سے ) جھگڑوں گا ، پھر ان کے حوالے سے ( فرشتوں کو ) مجھ پر غلبہ عطا کر دیا جا ئے گا ، میں کہوں گا : اے میرے رب ! ( یہ ) میرے ساتھی ہیں ۔ میرے ساتھی ہیں ، تو مجھ سے کہا جا ئے گا : بلا شبہ آپ نہیں جا نتے کہ انھوں نے آپ کے بعد ( دین میں ) کیا نئی باتیں ( بدعات ) نکا لی تھیں ۔ "
The hadith has been narrated on the authority ot al-A'mash with the same chain of transmitters but no mention is made of: They are my companions; they are my companions.
جریر اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور " میرے ساتھی ہیں ۔ میرے ساتھی ہیں ، کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔
This hadith has been narrated on the authority of 'Abdullah through another chain of transmitters.
جریر اور شعبہ نے مغیرہ سے ، انھوں نے ابو وائل سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اعمش کی حدیث کے مانند روایت کی ۔ شعبہ کی مغیرہ سے روایت ( کی سند ) میں یہ الفا ظ ہیں : میں نے ابو وائل سے سنا ۔
This hadith has been narrated on the authority of Hudhaifa through another chain of transmitters.
عبثراور ابن فضیل دونوں نے حصین سے انھوں نے ابو وائل سے ، انھون نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، جس طرح اعمش اور مغیرہ کی روایت ہے ۔
Haritha reported that he heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: His Cistern would be as extensive as the distance between San'a' and Medina. Mustaurid (one of the narrators) said: Did you not hear anything about the utensils? Thereupon he said. No. Mustaurid said: You would find that the utensils would be like stars.
ابن ابی عدی نے شعبہ سے ، انھوں نے معبد بن خالد سے ، انھوں نے حضرت حارثہ ( بن وہب خزاعی ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فر ما یا : " آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حوض ( اتنا چوڑا ہے ) جتنا صنعاءاور مدینہ کے درمیان ( کا فاصلہ ) ہے ۔ مستورد ( ابن شداد ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان ( حضرت حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے کہا : آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا ، کہ آپ نے فرما یا : " برتن " ؟انھوں نے کہا : نہیں تو مستورد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : " اس میں برتن ستاروں کی طرح نظر آئیں گے ۔ "
Haritha b. Wahb al-Khuza'i reported Allah's Messeiiger's ( صلی اللہ علیہ وسلم ) words concerning the Cistern like it, but he made no mention of the words of Mustaurid.
حرمی بن عمارہ نے کہا : ہمیں شعبہ نے معبد بن خالد سے حدیث بیان کی کہ انھوں نے حضرت حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے ہو ئے سنا اور انھوں نے ( حرمی بن عمارہ ) نے حوض کا ذکر کیا ، اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند ۔ انھوں نے حضرت مستورد اور ان ( حضرت حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کا قول ذکر نہیں کیا ۔
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: There is before you a Cistern and the distance between its two sides is as it is between Jarba' and Adhruh.
ایوب نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تمھا رے آگے ( جس منزل کی طرف تم جا رہے ہو ) حوض ہے اس کے دو کناروں کے درمیان جرباء اور اذرح ( شام اور فلسطین کے دو مقام ) کے درمیان جتنا فاصلہ ہے ۔
This hadith has been transmitted on the authority of Ibn 'Umar and the words are: That he said there would be before you a Cistern extending from jarba' and Adhruh and the same has been transmitted on the authority of Ibn Muthanna and the wording is: My Cistern.
زہیر بن حرب محمد بن مثنیٰ اور عبید اللہ بن سعید نے کہا : ہمیں یحییٰ قطان نے عبید اللہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ نے فر ما یا : " تمھا رے آگے حوض ہے ( اس کی وسعت اتنی ہے جتنا ) جرباء اور اذرح کے درمیان کا فاصلہ ہے ۔ " اور ابن مثنیٰ کی روایت میں " میرا حوض " کے الفا ظ ہیں ۔